حکمرانوں کی عیاشی اور ٹیکس کلچر

Ikramڈاکٹر اکرام الحق اور حزیمیہ بخاری

ٹیکس چوروں، کالے دھن کو سفید کرنے اور قومی دولت لوٹنے والوں کو کھلی چھوٹ دینے کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہے۔ جب نصف سے زائد آبادی غذائی قلت کا شکار ہو تو حکمرانوں کی طرف سے نہایت ڈھٹائی سے کیے جانے والے غیر ضروری اور بے تحاشا اخراجات مجرمانہ سرگرمی کے زمرے میں آتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے بجلی کے بلوں ،پٹرول کی قیمتوں اور اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جس دوران غریب عوام کا جینا دوبھر ہوجاتاجارہا ہے، ان پر لگائے گئے بلواسطہ ٹیکسز اور اندرونی اور بیرونی قرضوں سے حاصل ہونے والی رقوم پر پلنے والے دولت مند طبقے مزید امیر ہوتے جارہے ہیں۔
دولت مند طبقوں اور بااثر طبقات سے ٹیکس وصول کرنے کی بجائے بلواسطہ ٹیکسز عائد کرنے سے نہ صرف عام آدمی کے لیے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا دشوار سے دشوار تر ہوتا جارہا ہے بلکہ اس کے معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پبلک قرضہ جات کے بڑھتے ہوئے حجم کی وجہ سے اس سال مالیاتی خسارے کی شرح بلند رہے گی۔ ہمارے مجموعی قرضے ، جو جی ڈی پی کا 70.5 فیصد ہیں، 17.25 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے۔ 2012-13 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 8.5 فیصدر ہاجبکہ بجٹ میں اس کو چارفیصد تک رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف جہاں محصولات اور اخراجات میں فرق بڑھ گیاوہیں حکومت کو مختلف اشیا ، خاص طور پر بجلی کے نرخوں ،پر امدادی قیمت دینے کے سلسلے کو روکنے میں ناکام رہی۔ موجودہ مالی سال کے دوران یہ صورتِ حال مزید خراب ہورہی ہے کیونکہ ایف بی آر محصولات کا ترمیم شدہ ہدف2345 بلین روپے بھی حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔چیئرمین ایف بی آر نے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مالیاتی امور کے سامنے تسلیم کیا کہ فی الحال محصولات کے ظاہر کیے گئے حجم میں واجبات کے علاوہ ایڈوانس کی رقوم بھی شامل تھیں۔
پندرہ اپریل 2014 کوچیف کمشنرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فنانس منسٹر نے محصولات میں سترہ فیصد اضافہ کرنے پر اس کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کوسراہا لیکن اس اضافے کے لیے ان کی طرف سی روا رکھی جانے والی سختی کی بابت سامنے آنے والی شکایات کی تحقیقات کرانے کی زحمت نہ کی۔ اسحاق ڈار، جو کہ ایک ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں، بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کس طرح اعداد وشمار کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ جب وہ گزشتہ دور میں فنانس منسٹر تھے تو بھی پاکستان غلط اعداد وشمار پیش کرنے کا مرتکب پایا گیا اور شوکت عزیز نے تسلیم کیا تھا کہ اس کی وجہ سے پاکستان کو آئی ایم ایف کوجرمانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔
ہم مالیاتی خسارہ ختم کرنے کے لیے درکار اٹھ ٹریلین روپے آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر موجودہ آبادی، جو کہ ایک سو اسی ملین کے قریب ہے، میں سے پانچ ملین افراد ایسے ہیں جن کی آمدنی قابل ٹیکس پندرہ ملین یا اس سے زائد ہو توا ن سے سولا سو بلین روپے ٹیکس کی مد میں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس میں کاروباری اداروں اور ایسے افراد جن کی آمدنی پانچ لاکھ سے دس لاکھ کے درمیان ہے، سے اضافی ٹیکس حاصل کرکے محصولات کو تین ہزار ٹریلین روپے تک پہنچایا جاسکتا ہے، جبکہ ایف بی آر نے 2012-13 میں صرف سات سو پندرہ بلین روپے حاصل کیے تھے اور اس میں انکم ٹیکس کے علاوہ براہِ راست ٹیکسز شامل تھے۔ براہ راست ٹیکسزکا پنتیس فیصدبلواسطہ ٹیکسز پر مشتمل ہے جو presumptive taxes کی مد میں حاصل کیے جاتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف انکم ٹیکسز میں2284 بلین روپے کا فرق آجاتا ہے بلکہ براہِ راست ٹیکسز کی شرح ایف بی آر کے دعووں کے برعکس بہت کم رہ جاتی ہے۔ سیلز ٹیکسز، وفاقی ایکسائز ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹیز میں ہونے والی بدعنوانی کی وجہ سے ان سے حاصل ہونے والی رقوم اصل رقوم کا صرف پچیس سے پنتیس فیصد ہی حاصل ہو پاتی ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے سیلز ٹیکسز کی مد میں841 بلین ، وفاقی ایکسائز کی مد میں 119 بلین اور کسٹم ڈیوٹیز کی مدمیں 239 بلین روپے اکٹھے کیے۔ بلواسطہ ٹیکسز سے حاصل ہونے والے 1939 بلین روپے بھی بہت کم ہیں۔ اس کا حجم کم از کم پانچ ہزار بلین روپے ہونا چاہیے۔ اگر صرف ایکسائز ٹیکس میں خسارے کو کم کر لیا جائے تو ہماری ریونیو اٹھ ہزار بلین روپے تک پہنچ سکتا ہے(تین ہزار بلین براہ راست ٹیکسز اور پانچ ہزار بلین بلواسطہ ٹیکسز)۔ اس سے قوم کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ اگر ہم یہ رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہم موجودہ اخراجات پورے کرنے کے علاوہ عوامی فلاح کے کاموں کے لیے بھی رقم کا بندوبست کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اندرونی اور بیرونی طور پر بھی قرضے لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
دولت مند اور طاقتور طبقے سے براہ راست ٹیکسز وصول نہ کرنے اور انہیں ریاست کے وسائل سے فوائد حاصل کرنے کی اجازت دینے کی پالیسی کی وجہ سے غریب عوام کی حالت ابترہے ۔ درحقیقت ریاست کے پاس وسائل کی کمی نہیں لیکن حکمرانوں کی طر ف سے دولت مند افراد سے ٹیکس وصول کرنے کی کوئی خواہش دکھائی نہیں دیتی ۔ اگر آپ عام آدمی کی حالت، اس کا مکان اور اس کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور طبی اور تعلیمی سہولیات ، پر نظر ڈالیں اور دوسری طرف دولت مند طبقے، سرکاری افسران، ججوں اور دفاعی اداروں کے اعلیٰ افسران کی رہائش گاہوں اور ان کے زیرِ استعمال مہنگی گاڑیوں پر نظر ڈالیں تواندازہ ہوجائے گا کہ اس ملک کا اصل مسل�ۂ کیا ہے۔ اس کلچر کی وجہ سے ہماری معیشت سخت خطرے سے دوچار ہے۔ درحقیقت پاکستان کی موجودہ سماجی اور سیاسی افراتفری کے پیچھے دیگر عوامل کے علاوہ موجودہ معاشی نظام (اگر اسے نظام کہا جاسکے)کا ہاتھ ہے۔ گزرنے والے ہر دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگ خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت ایسے افراد کی تعداد ساٹھ ملین سے کم نہیں۔
ہم اُس وقت تک موجودہ صورتِ حال سے نجات نہیں پاسکتے جب تک آئین کے آرٹیکل 3میں درج اصولوں کو ان کی اصل روح کے مطابق لاگو نہ کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر کسی کو نہ صرف کام مہیا کیا جائے بلکہ اس کے کام کا جائز معاوضہ بھی ادا کیا جائے ۔ ہمارے حکمران طبقے، بشمول صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، وزراء اوردیگر سرکاری اوردفاعی اداروں کے افسران کو ملنے والی تنخواہوں سے عام شہریوں کی طرح ٹیکس کی رقم منہا کی جائے۔ ان کو سرکاری طور پر ملنے والی محل نما رہائش گاہیں واپس لے لی جائیں۔ ضمیرکو زندہ رکھنے کے لیے ان سے کہا جائے کہ کسی دن بغیر پروٹول کے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں یا شناخت ظاہر کیے بغیر کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کرانے کا جوکھم بھی اٹھا کردیکھیں۔ ان کی جان اس ملک کے عوام سے زیادہ قیمتی نہیں ہے اور نہ ہی قدرت نے ان کے خون کو زیادہ شرف بخشا ہوا ہے۔ دنیا کے بہت امیر ممالک کے حکمران بھی چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ آپ روز نہیں تو کبھی کبھار ہی کرکے دیکھ لیں یا اپنے میڈیا مینجروں کے حصارسے باہر نکل کر عوام سے بات کرکے دیکھ لیں تو اندازہ ہوجائے کہ عوام کی زندگی کیسی ہے اور ان کی خمیدہ گردنوں پر کن پیرانِ تسمہ پانے گرفت جما رکھی ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *