کمزور ٹخنوں کے باعث ’’ڈیوڈ‘‘ کے مجسمے کے گرنے کا خطرہ

Davidمشہور زمانہ اطالوی مصور اور سنگ تراش مائیکل اینجلو کے تین صدیاں پرانے مجسمے ’’ڈیوڈ‘‘ کے کمزور ٹخنوں کی وجہ سے اس کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اطالوی شہر فلورنس کے عجائب گھر میں موجود ساڑھے پانچ ٹن وزنی مجسمے کی ٹانگوں میں باریک دراڑیں پڑ رہی ہیں اور مقامی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اپنے وزن تلے ہی دب کر ٹوٹ سکتا ہے ۔اطالوی قومی تحقیقی کونسل کے مطابق اس مجسمے کی دائیں ٹانگ کےپیچھے تراشیدہ تنے میں بھی دوبارہ دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔یہ تنا اس مجسمے کا بیشتر وزن اٹھاتا ہے اور اسے کئی مرتبہ مرمت کیا جا چکا ہے ۔ 17 فٹ اونچا یہ مجسمہ ویسے ہی نازک ہے کیونکہ مائیکل اینجلو نے اس کی تیاری میں غیرمعیاری سنگِ مرمر استعمال کیا تھا جبکہ اس کا وزن بھی بہت زیادہ ہے ۔ماہرین کے مطابق کوئی بھی زلزلہ یا پھر اس کے قریب بھاری مشینری کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والا ارتعاش اس کے گرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ اسلئے یا تو اسے زلزلے کے اثرات سے محفوظ کمرے یا پھر شہر سے باہر کسی نئے مقام پر منتقل کیا جانا چاہئے ۔خیال رہے کہ اس مجسمے کو 1878 میں اس کی موجودہ نمائش گاہ میں منتقل کیاگیا تھا اور تب سے ہر سال لاکھوں شائقین اسے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *