معاف کیجئے! ہم محب وطن نہیں؟

razia syed

آج کی کہانی بہت دل چسپ ہے یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جو پچاس سال سے اکٹھے رہ رہے ہیں اور ان کی دوستی سبھی کے لئے قابل فخر ہے ، لیکن ایک ہی بات جس پر اب ان دونوں کی لڑائی ہوتی ہے وہ بڑا ہی خطرناک ایشو ہے جس کے بارے میں ہم لکھتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں خیر خدا نخواستہ یہ باتیں اب ایسا بھی کوئی شجر ممنوعہ نہیں کہ کچھ کہا نہیں جا سکتا ، جمہوریت ہے کیا ہوا خواہ لولی لنگڑی ہی سہی ، ہمارا کام تو محض اتنا ہے کہ سیاسی راہنماؤں کی گفتگو بھی آپ تک من و عن پہنچا دیں اور فوج کی عظمت کو بھی سلام پیش کریں ۔ 

جناب اب کیا کہیں خود شتائشی کے ہم قائل نہیں ، معمولی سے دیہاڑی دار صحافی ہیں اور غلطی سے چند الفاظ ہمارے ننھے منے سے ذہن میں آتے رہتے ہیں اور وہ کیا مشہور مصنف جناب انتظار حسین کہا کرتے تھے کہ جس طرح سے ہنڈیا پکتی ہے تو اسی طرح سے ایک مصنف کے دماغ میں خیالات کی ہنڈیا ہی پک رہی ہوتی ہے خیر ہنڈیا کا یہاں زیادہ ذکر نہیں کہ کچن کے کاموں سے ہم ویسے بھی دور بھاگتے ہیں ۔ تو جناب ذکر آج کا یہی خاص ہے کہ ایک تو میں مشہور صحافی نہیں اور دوسرا آغا صاحب اور مدثر صاحب کی نہیں بنتی لیکن ہم تنیوں ایسے مستقل مزاج واقع ہوئے ہیں کہ نہ پوچھیے، بحث میں کوئی ہم سے جیت نہیں سکتا خیر یہ تو ضروری ہے کیوں کہ بحث وہ کرتے ہیں جن کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا ۔ 

آغا صاحب ہیں فوج کے حامی ، جن کا یہ موقف ہے کہ فوج نے ہمارے لئے دو جنگیں کیا لڑی ہیں اب تک لڑ رہی ہے ہماری سلامتی کے لئے اپنی جانیں دے رہی ہے ، فوجی آپریشن ہو رہے ہیں ، یہ قوم ہےہی فوجی ڈنڈے کے قابل وغیرہ وغیرہ ۔ ٹھہریئے دوسری جانب کی بھی سنئے بالکل مدثر انکل انھوں نے کہاکہ تھا کہ لڑکی میرے خیالات بھی پورے کے پورے اخبار میں آنے چاہیں خیر کیا کریں ہمسائیگی کا مسئلہ ہے ، مدثر انکل کے مطابق جمہوریت کا مسئلہ تو بعد کی پیداوار ہے اصل بات تو یہ ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت کو بھی چلنے نہیں دیا ہماری فوجی آمریتوں نے بلکہ اسے مار مار کر اپنے بوٹوں تلے کچل دیا ہے ۔ بنیادی انسانی حقوق کی نفی ہوتی رہی ہے اور سب کے سب فائدے کون لیتا رہا ہے یہی ہماری مقدس گائے ۔۔دیکھو بھئی فوج نے جنگیں لڑیں تو کیا ہم بارڈر پر ان کے لئے مورال سپورٹ کے لئے نہیں گئے ؟ ، ہمارے موسیقاروں نے ان کا حوصلہ بلند نہیں کیا؟

بیٹا تم ہمارے ہسپتال دیکھ لو ہمارے سکول ہمارے ادارے دیکھ لو ، ان کی حالت زار کا کسی دن جائزہ لو ، میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا ایک استاد ، مالی ، مزدور ، ڈاکٹر ، خاکروب سب محب وطن نہیں؟ ، کیا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی وردی پہن لیں ، تب بھی ہم عوام کے لئے جان دے سکتے ہیں ، کیا ہم فوجیوں کی اولاد ہوں تب بھی ہمارے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ سکتے ہیں ؟ کیا یہی ہماری وطن سے محبت کی علامت ہے ؟ 

فوج بہت اچھی ہے لیکن یہ احساس بھی بہت ضروری ہے کہ ہم سویلین بھی ملک سے پیار کرتے ہیں اور اسکے لئے ہی کام کرتے ہیں ، ان دونوں کی کہانی آپ نے سنی اور میرا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ میں توخوش ہی ہوں کہ کم ازکم ان کی بحث سے میری خبر بھی چھپ گئی ۔

معاف کیجئے! ہم محب وطن نہیں؟” پر ایک تبصرہ

  • Jawaid Akhtar
    مئی 24, 2016 at 3:42 PM
    Permalink

    Sach ha k fauj qurbani zaror deity ha. Magr Awam se 100 qubani leity b ha. Ye awam k tax par hi apny School apny Hospital. Croron k plat aur ki pension. Sari zindigi k ley marhat leity han. Ye sab CIVILIAN ki daulat ha. Awam mohab ul watan ha.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *