افغانستان: لینڈ سلائڈنگ میں سینکڑوں جاں بحق، ہزاروں محصور

afghanistanجمعے کے روز لینڈ سلائیڈ میں 2,000 سے زائد افراد کے محصور ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اس واقعے میں کم سے کم سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاش، مدد اور بحالی کی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔
شمال مشرقی گاؤں ارگو میں یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے پیش آیا۔ پہلے مٹی کے چھوٹے تودے گرنے سے لوگوں میں بے چینی پھیلی اور وہ اپنا سامان اور مویشی سمیٹنے لگے لیکن اس کے بعد ایک زمین اور مٹی کا بڑا حصہ پھسلا اور لوگ اس میں دب گئے۔ ' اس گاؤں میں 1000سے زائد لوگ رہ رہے تھے۔ کم از کم 2,100 افراد جن میں خواتین ، مرد اور بچے شامل ہیں وہ پھنس چکے ہیں،' بدخشاں صوبے کے گورنر کے ترجمان نوید فوروتن نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا۔
واضح رہے کہ دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 350 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ' پہاڑ کا جو ٹکڑا گرا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اسے دیکھ کر ہم یقین سےنہیں کہہ سکتے کہ کوئی زندہ بچا ہوگا۔ حکومت اور مقامی افراد امدادی کاموں مدد کررہے ہیں۔ اب تک 100 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ '
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور ( او سی ایچ اے) نے ہلاکتوں کی تعداد 350 بتائی ہے۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بھاری مٹی اور پتھر گرنے سے سینکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ مزید کئی سو تباہ یا متاثر ہوئے ہوئے ہیں۔
زمین کی ناہمواری اور پہلے سے موجود سیلاب کی وجہ سے امدادی کام مشکلات کےشکار ہیں۔ ان سیلابوں میں پہلے ہی ایک سو سے زائد افراد مرچکے ہیں۔
صدر حامد کرزئی نے ہنگامی طور پر امدادی کاموں کو شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ ' اس سلسلے میں ایک اعلیٰ عہدوں کا وفد جلد ہی بدخشاں آئے گا، ' صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا۔
گاؤں کا راستہ تو کھلا ہے لیکن بھاری مشینری کیلئے موزوں نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق تلاش اور مدد کے کاموں پر تبادلہ خیال جاری ہے۔
صدر اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل ملاقات کے بعد جاری بیان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغانستان میں مشکل ترین عشرے میں اس کے ساتھ کھڑے تھے اور اب اس آفت کے بعد ہم افغان ساتھیوں کی مدد کو تیار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *