پی پی او کے نفاذ میں تاخیر

Najam Sethiنجم سیٹھی

’’تحفظ ِ پاکستان آرڈیننس‘‘ (پی پی او) بہت حد تک متنازع ہو چکا۔ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے (فوج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس) ہی اس کا نفاذ چاہتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیمیں کسی نہ کسی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہی ہیں تاہم اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ پاکستان کو انتہا پسندوں، جنھوں نے اس کے وجود کو خطرے سے دوچار کر دیا، سے نمٹنے کے لئے کسی سخت قانون کی ضرورت ہے۔
درحقیقت فوج کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر ِ کردار تک پہنچانے کے لئے سخت قانون چاہئے کیونکہ انسداد ِ دہشت گردی کے موجودہ قوانین ، جنہیں خصوصی عدالتوں میں روایتی طریق ِ کار اور ٹھوس گواہی کی ضرورت ہوتی ہے، دہشت گردوں کو سزا دیتے ہوئے انجام تک پہنچانے کے لئے کافی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد عدالتوں سے بآسانی بری ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو وہ ’’غائب‘‘ بھی ہو جاتے ہیں۔ اس پر ہر طرف سے تنقید کی توپوں کے دہانے وا ہو جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خود کو مشکل صورت حال سے دوچار پاتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ ان سے عدالت میں سخت باز پرس ہوتی ہے اور میڈیا بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیتا ہے تو وہ آئندہ دہشت گردوں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے بہت مرتبہ سوچتے ہیں۔یہ صورِت حال سیکورٹی فورسز کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔
جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے تو وہ ایسے سخت قوانین پسند نہیں کرتے کیونکہ ماضی میں فوجی اور سول حکمرانوں کی طرف سے سخت قوانین کو سیاسی مخالفین کو خائف کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ عدلیہ ایسے قوانین کو اس لئے ناپسند کرتی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے عدلیہ درخواست گزاروں کو اگر چاہے بھی تو ریلیف فراہم نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ آج سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بنیادی شہری حقوق کے تحفظ میں پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم ہیں۔
جہاں تک متنازع پی پی او کا تعلق ہے تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طاقت کے استعمال کے لامحدود اختیارات دیتا ہے۔ وہ بغیر وارنٹ کے کسی احاطے میں داخل ہوکر تلاشی لے سکتے ہیں اور گرفتار کرسکتے ہیں۔ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو کسی شخص کو بھی 90 دن تک (اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے) حراست میں رکھ سکتے ہیں۔ اس کا اطلاق ان دہشت گردوں پر بھی ہوگا جو پہلے سے ہی زیر ِ حراست ہیں۔ اس کے علاوہ حراستی مراکز کی جگہ کا انکشاف نہیں کیا جائے گا۔ حراست میں لئے جانے والے مشتبہ افراد کو خود کو بے گناہ ثابت کرنا ہو گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد ِ دہشت گردی کی عدالتوں میں فرائض سرانجام دینے والے جج حضرات کے بارے میں یقین رکھا جائے گا کہ وہ نیک نیتی سے کام کررہے ہیں اور یہ کہ اُن کا کسی قسم کا احتساب نہیں کیا جاسکے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے کئے گئے اعتراف ِ جرم کو کافی سمجھا جائے گا۔ مختصر یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلی چھٹی مل جائے گی کہ جو بھی اُنہیں ناپسند ہے، اُسے پکڑ کر غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیں۔
تاہم اس آرڈیننس پر اعتراض کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ اگر دیگر جمہوری ممالک،جو انسانی حقوق اور قانونی طریقِ کار پر بہت گہرا یقین رکھتے ہیں، کی طرف سے دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی غور کر لیا جائے۔ انڈیا نے کشمیر اور پنجاب میں شورش پسندی کو کچلنے کے لئے ایک بے حد سخت ’’ٹی اے ڈی اے‘‘ (Terrorist and Disruptive (Prevention) Act ) ایکٹ نافذ کیا۔ یہ 1985ء سے لے کر 1995ء تک نافذ العمل رہا تاہم جب ان مذکورہ خطوں میں شورش پسندی اور تخریبی کارروائیوں پر قابو پالیا گیا تو اسے ختم کردیا گیا۔ ہمارے ہاں پی پی او اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا تاہم سرحد پار ٹی اے ڈی اے پر قومی اتفاقِ رائے میسر تھا کیونکہ بھارت میں قوانین کو سیاسی تشدد کے لئے استعمال کرنے کی روایت موجود نہیں تھی۔ اندرا گاندھی کی طرف سے لگائی جانے والی ایمرجنسی نے عدالتوں کو ختم کر دیا جبکہ فوج مکمل طور پر سول کنٹرول میں تھی۔ جب دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا تو اس نے ایک اور سخت قانون ’’پی او ٹی او‘‘(Prevention of Terrorism Ordinance) بنایا جبکہ 2004ء میں کشمیری اور مائو باغیوں سے نمٹنے کیلئے ’’یو اے پی اے‘‘ (Unlawful Activities Prevention Act) بنایا۔
امریکہ نے بھی کم و بیش ایسی ہی حکمت ِ عملی اپنائی۔ 9/11 کے حملوں کے بعد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنے کے لئے کانگریس نے Patriots Act نافذ کیا جبکہ انتظامیہ نے ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ قائم کیا۔ نئے قوانین نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے غیر معمولی اختیارات دے دیئے جبکہ عدالتیں اور سول سوسائٹی وسیع تر ملکی مفاد میں ان کے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ اس کی وجہ یہ کہ وہاں دہشت گردی کو خطرہ سمجھا گیا اور اس کا تدارک کرنے کے لئے یکسوئی کا مظاہرہ کیا گیا۔ امریکہ میں قوانین کو سیاسی جبر کے لئے استعمال کئے جانے کی کوئی روایت موجود نہیں (میکارتھی ازم کو ارتھر ملر نے اپنے مشہور ڈرامے ’’The Crucible‘‘ میں ایکسپوز کردیا تھا اور یہ 1950ء کی دہائی کے اندر ہی دم توڑ گیا)۔2009ء میں صدر اوباما نے ترمیم کرتے ہوئے Patriots Act میں نرمی کر دی تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک ہو سکے تاہم دہشت گردوں کے خلاف یہ ابھی بھی بہت موثر ہے۔
اس تقابل سے کچھ نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب دہشت گردی کا خطرہ لاحق ہوا تو مستحکم جمہوری ممالک نے بھی مذاکرات کے بجائے سینہ تان کر جنگ کرنے کی راہ اپنائی۔ ایسا کرتے ہوئے اُنھوں نے بنیادی انسانی حقوق کے ضابطے معطل کر دیئے۔ دوسرا یہ کہ وسیع تر قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے ایسے قوانین کے پیچھے اتفاق ِ رائے ہونا ضروری ہے۔ افسوس، پاکستان میں یہ دونوں شرائط عنقا ہیں۔سیاست دان فوج کو وسیع اختیارات دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں فوج کی طرف کی روا رکھی جانے والی مداخلت کو بھول نہیں پائے ہیں۔ میڈیا اور عدلیہ بڑی مشکل سے ہاتھ آئی آزادی اور طاقت کو محض قومی مفاد کے نام پر قربان کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دراصل ہمارے ہاں ابھی یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ قومی مفاد کا تعین کسے کرنا ہے اور انتہا پسندوں سے کس طرح نمٹنا ہے؟ ان سے مذاکرات کرتے ہوئے ملک ان کے حوالے کرنا ہے یا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے باعزت طریقے سے جینا ہے؟ان حالات میں ضروری ہے کہ انتہا پسندی کے خطرے کا احساس کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پوری قوت کے ساتھ کچل دیا جائے۔ پی پی او میں میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو استعمال کیا جانا چاہئے، لیکن اس میں تاخیر معاملات کو مزید بگاڑ دے گی اور پھر ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *