سیاسی اور فوجی حکومتوں نے سول سروس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، ڈاکٹر عشرت حسین

Dr ishrat hussain

لاہور۔ پاکستان سول سروس کی ساکھ مسلسل گرتی ہوئی نظر آتی ہے جس کی بنیادی وجہ میرٹ کا قتل، اعلٰی درجے کی تربیت اور محنت کو جانچنے کے نظام میں خامیاں ہیں۔ یہ خیال آئی بی اے کالج کے سابقہ ڈٰین ڈاکٹر عشرت حسین نے ظاہر کیا جب وہ ایک افکار تازہ کانفرنس کے ایک سیشن میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی اور فوجی حکومتوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرتے ہوئے سارے سسٹم کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیشن کا عنوان تھا‘ اصلاحات یا تباہی، سول سروس اصلاحات کے لیے چیلنج’ انہوں نے مزید کہا کہ سول سروس کی ناکامی کی وجہ سے  ریاست کی رٹ کمزور  اور بے فائدہ ہو چکی ہے۔ مسئلہ چاہے اندونی سیکیورٹی کا ہو یا لا اینڈآرڈر کابنیادی سہولیات کا میسر ہونا جو کہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور معاشی حالات کی بہتری دونوں چیزیں تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ ایسا اچانک نہیں ہوا۔ 50 اور 60 کی دھائی میں کچھ ایمپیریکل مطالعہ جات کیے گئے جس کے مطابق پاکستان کی سول سروس ملک کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔اس دور میں مہاجرین کی بحالی، نئی حکومت کی تشکیل اور امور خارجہ جیسے معماملات میں سول سروس ہمیشہ پیش پیش نظر آتی تھی۔   ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی نقطہ نظر سے دیکھیں تو پاکستانی فوج جسے صرف اوسط طبقہ کے لوگ ہی پسند کرتے تھے سول سروس کے مقابلے میں، تیررفتاری، اتحاد اور فائدہ مندی کے لحاظ سے بہت پیچھے تھی۔  تب سے سول سرول کے میدان میں مسلسل زوال دیکھنے میں ملا۔ تب فوجی اداروں نے اپنے اآپ کو حکومتی نظام میں ڈھالنے کے لیے اپنی افواج کو مزید تیز طرار بنانے جیسے اقدامات کیے اور سول سروس پر سبقت لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سول سروس کی تباہی 70 کی دہائی سے شروع ہوئی جب سول سروس کے لیے معین آئینی گارنٹی ختم کر دی گئی۔ بعد میں متحدہ سول سروس کا سسٹم مزیدفرسٹریشن کا باعث بنا اورعوامی خدمت گاروں کے حوصلے پست کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کے دور میں فوجی طاقت مضبوط ہوئی اور سول سروس کا بیڑا غرق ہوا۔    اب فوجیوں کو ایک آدمی کی ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کا ٹاسک دیدیا گیا۔ 90 کی دہائی میں ہر بدلتی حکومت نے سول سروس کے ملازمیں کو ردوبدل کیا-مشرف کے دور میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور میجسٹریٹ کی ذمہ داریاں ختم کر کے چیف سیکرٹریز اور صوبائی حکومتوں کو تفویض کر دی گئیں۔ حسین کے مطابق انہی مسائل کی وجہ سے پاکستان میں سول سروس کی کارگردگی پر حرف آنا شروع ہوا اور بالآخر اس ادارے کی کارکردگی صفر ہو گئی۔ باقی کام کوالٹی ٹریننگ اور ایویلیوایشن کی خرابی نے کر دکھایا۔ جو آدمی 17ویں گریڈ میں بھرتی ہوتا وہ خود ہی ریٹائر ہونے تک ترقی حاصل کر کے سب سے بڑے گریڈ تک پہنچ جاتا۔ اسے کسی پرفارمنس ایویلیوایشن کے سفر سے گزارے بغیر ترقی دیدی جاتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دو سال کی ریرسرچ کے بعد انہوں نے حکومت کو سول سروس کی بہتری کے لیے تجاویز دی تھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ ملازمیں کی پرفارمنس کو صحیح طریقے سے چیک کر کے ترقی کا تنزلی کا فیصلہ کیا جائے اور ان کو مارکیٹ کے حساب سے تنخواہیں دی جائیں۔ یہ اصلاحات کچھ خاص وجوہات کی بنا پر نافذ نہ کی جا سکیں۔ ممتاز کالمسٹ یاسر پیرزادہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سول سروس کا معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے۔ اب یہ ایسے ہاتھوں میں ہے جنہیں پرفارمنس کا سرے سے معلوم ہی نہیں ہے۔ پتا نہیں کیسے یہ لوگ اپنے سینئیرز سے اے سی آر لے لیتے ہیں۔ لازما یہ ایویلیوایشن سسٹم کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتنا بدنصیبی کا معاملہ ہے کہ کچھ افسران نے اپنے عہدوں سے استعفی دے کر پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے کام کرنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملازمین کو بہتر تنخواہیں دی جائیں اور ان کی پرفارمنس چیک کرنے کے لیے مناسب نظام وضع کیا جائے۔ یونیوسٹی آف سڈنی کے حسین ندیم نے آخری کلمات کے ساتھ سیشن کو ختم کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *