ایران اور ویت نام۔ نئے زمانوں کی کھوج میں

khalid mehmood rasool

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ؟ اس کا تاریخی مظاہرہ گذشتہ ہفتے ویتنام میں ہوا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے جاپان سے قبل ویت نام کا تین روزہ دورہ کیا۔ ایک زمانہ تھا کہ شمالی ویت نام کی کمیونسٹ حکومت امریکہ کی دشمن نمبر ایک تھی۔ اس قدر دشمنی کہ کمیونسٹ شمالی ویت نام کے خلاف اینٹی کمیونسٹ جنوبی ویت نام کی امداد کرتے کرتے امریکہ خود جنگ میں کود گیا کہ بہ نفس نفیس اسکی گوشمالی کرے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ دوسری ہولناک ترین جنگ تھی جس میں ویت نام کے دس لاکھ سے زائد لوگ آگ و خون کی نذر ہو گئے جبکہ امریکہ کے ساٹھ ہزار سپاہی رزق ِ خاک ہوئے۔۔۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے اسی ویت نام کے لیے کئی دہایوں سے جاری اسلحے کی فروخت پر پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ دونوں 8 ممالک کے درمیان کئی تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے بھی طے پائے جس میں سب سے اہم ویت نام کے لیے ایک سوکمرشل طیاروں کی خریداری کے لیے 11.30 ارب ڈالر کی تجارتی ڈیل تھی !!!
ویت نام ایک حوصلہ مند ملک اور قوم ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران ایک کے بعد ایک مصینت میں گرفتار ہوئے لیکن اپنی آزادی اور انفرادیت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انیسویں صدی میں جب یورپی ممالک ایشیاء ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں نوآبادیاں بنانے کے جنون میں ایک کے بعد دوسرے ملک کو غلامی میں جکڑنے کے جتن کر رہے تھے، فرانس نے ویت نام کو نشانہ بنایا۔ ویت نام پر چڑھائی کا آغاز 1858 میں ہوا۔ چھبیس سالوں کی مارا ماری کے بعد فرانس پورے ویت نام پر قابض ہو گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ویت نام نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ ہوچی منہہ کی قیادت میں مزاحمتی فوجوں کے آگے بالآ خر فرنس نے گھٹنے ٹیک دیے۔ 1954 میں جنیوا معاہدے کی تحت ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ کمیونسٹ شمالی ویتنام اور اینٹی کمیونسٹ جنوبی ویت نام۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کی ملٹری قوت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ کمیونسٹ روس سے مقابلے اور جا بجا پراکسی جنگوں نے امریکہ کی فوجی قوت اور تکبر میں اضافہ کر دیا۔ ویت نام کو سبق سکھانے کے لیے جنگ میں کودنے والے امریکہ کے لیے اس جنگ سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا۔ ہوچی منہہ کی قیادت میں ویت نام کی مزاحمتی افواج نے امریکہ کا تکبر اور گھمنڈ ایک ملین سے زائد ہم وطنوں کا نذرانہ دے کر توڑ ڈالا۔ امریکہ کے اپنے ہاں اینٹی وار تحریک نے امریکی حکومت کو ہلا ڈالا۔ ساٹھ ہزار سے زائد باڈی بیگز مسلسل اٹھا اٹھا کر حکومت کا پتّہ پانی ہوگیا۔ دنیا بھر کو انسانی حقوق کا درس دینے والے امریکہ نے جنجھلاہٹ میں نیپام بموں کی بارش کر دی۔ بستیوں کی بستیاں آگ میں جل کر راکھ ہو گئیں۔ انہی نیپام بموں کے ایک حملے میں ایک معصوم بچی کی تصویر نے اس جنگ کا پانسہ بدل ڈالا۔ تصویر میں ایک سات آٹھ سالہ بچی نیپام بم سے جلنے والی بستی میں پھیلے ہوئے آگ کے شعلوں سے اپنی جھلسی پشت کے ساتھ ننگ دھڑنگ گاوءں کے کچھ مزید بچوں کے ساتھ روتے اور چلّاتے ہوئے دیکھی جا سکتی تھی۔ آج بھی یہ تصویر انٹر نیٹ سے ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ یہ اس قدر دل دہلا دینے والی تصویر تھی کہ امریکہ میں جنگ مخالف تحریک میں اس تصویر سے پیدا ہونے والے اشتعال نے ایسی شدت ڈال دی کہ پھر امریکہ کو شکست کے زخم چاٹتے اور واپسی کا راستہ ناپتے ہی بنی۔
امریکہ نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے باوجود ویت نام پر ہر طرح کی اقتصادی پابندی عائد کر دی لیکن امریکہ کے اندر ہی سے جنگ کے دوران لا پتہ ہونے والے سپاہیوں کے اہل خانہ کے دباؤ کے تحت تعلقات بحال کرنے پڑے کہ لا پتہ سپاہیوں کی باقیات کا پتہ چلایا جا سکے۔ کلنٹن کے دور میں اقتصادی تعاون کا نیا باب شروع ہوا۔ 2001 میں باہمی تجارت کا معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد 2007 میں مزید قریبی تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ ہوا۔ برف پگھلنا شروع ہوئی تو امریکی سیاحوں نے اپنے پیاروں کے " کارہائے نمایاں " دیکھنے کے لیے ویت نام کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے تعلقات نے کئی مزید منزلیں طے کر لیں۔ بیس سال قبل سالانہ ساٹھ ہزار امریکی سیّاح ویت نام آتے تھے جن کی تعداد اب تقریباٌ پا نچ لاکھ سالانہ ہو چکی ہے۔
بیس سال قبل باہمی تجارت کا سالانہ حجم صرف 450 ملین ڈالر تھا جو اب سو گنا بڑھ کر 45 ارب ڈالر سالانہ ہو چکا ہے۔ بیس سال قبل صرف ایک ہزار ویت نامی طلباء سالانہ امریکہ جاتے تھے ، جن کی تعداد اب بڑھ کر انیس ہزار سالانہ ہو چکی ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر اسّی ہزار کے لگ بھگ طلباء امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔ کل کا دشمن اقتصادی اور عوامی سطح پر اس قدر قریب آچکا ہے لیکن اس کے باوجود ویتنام اپنے کمیونسٹ نظامِ حکومت پر عمل پیرا ہے۔ چین کی طرح اس نے کمیونسٹ نظام میں سرمایہ داری کے لیے اس قدر گنجائش پیدا کر لی ہے کہ ایک طرف صنعت و تجارت کی سرپرستی یوں کی ہے کہ آج کا ویت نام ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور ایک خوش حال ملک بننے کو ہے۔ دوسری طرف ان ہی پایسیوں کی وجہ سے غربت میں حیرت انگیز کمی کر لی ہے۔ چند سال قبل کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 17% آبادی غربت کی لکیر کے نیچے تھی۔
اس حیران کن ترقی کا اصل ر از ایک دور کے اپنے بد ترین دشمن مگر آج کی سب سے بڑی معاشی طاقت امریکہ سے اپنے بہترین مفاد کے لیے تعلقات بہتر بنانے، اپنے مفاد کے لیے اپنی منفرد پالیسیوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل درآمد او ر بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظر نامے کے مطابق ایک نئے صنعتی دور کی بنیاد رکھنے میں ہے۔ ایک امریکہ ہی کیا اب تو کوریا، تائیوان، جاپان، سنگا پور سمیت کئی ممالک نے اپنے ہاں کی صنعتیں ویت نام میں شفٹ کر دی ہیں۔ ایک طرف نظام کمیونسٹ ہے تو دوسری طرف سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی ملک ! یہ انوکھا توازن کوئی ویت نام سے سیکھے یا چین سے۔۔۔
گذشتہ ہفتے ایسی ہی ایک اور علاقائی پیش رفت نے تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ عین جس روز پاکستان اس ادھیربن میں تھا کہ ملّا منصور پر امریکہ کے ڈرون حملے پر کیا سرکاری موقف دنیا کے سامنے رکھے، عین اسی روز تہران میں ایران۔ بھارت اور افغانستان نے ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے جس کا مطابق بھارت چاہ بہار کی بندرگاہ کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس بندر گاہ سے افغانستان کے لیے 132 کلو میٹر طویل سڑک پہلے ہی بن چکی ہے۔ بھارت اس بند گاہ کے لیے دو ٹرمینل اور پانچ برتھیں تعمیر کرے گا۔ صلاحیت کے اعتبار سے چاہ بہار کا گوادر پورٹ سے کوئی مقابلہ نہیں لیکن اصل اور بڑی پیش رفت یہ ہے کہ لینڈ لاک افغانستان کو سمندر سے ایک متبادل راستہ مل رہا ہے۔ پاکستان عالمی تجارت کے لیے افغانستان کی مجبوری ہے ۔ پاکستان کی علاقائی پالیسی میں یہ مستقل خوش فہمی ہمیشہ شامل رہی ہے کہ افغانستان کا عالمی تجارت کے لیے ہمارے بغیر گذارہ نہیں۔ چاہ بہار پورٹ ایک آغاز ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ اس کی گنجائش اور گہرے سمندر کی سی بحری لنگر اندازی کی سہولتوں کا امکان بھی ہے۔ اس سہ فریقی معاہدے سے پاکستان کے چار میں سے تین ہمسایہ ممالک مزید قریب آ گئے ہیں۔ پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اسے اپنی پرانی پالیسی پر کاربند رہنا ہے یا بدلتے حالات میں اپنے ہمسایوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے نئے امکانات کو بھی موقع دینا ہے۔
تاریخ یاد رکھنی چاہیے، تاریخ سے سیکھنا بھی چاہیے لیکن نئے زمانوں کی بنتی ہوئی تاریخ سے الگ ہو کر پرانے باب کے الفاظ اور ہجوں کی گردان پر اصرار نئی تاریخ اور نئے زمانوں میں مناسب مقام سے محروم کرنے کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔ ۔۔۔ہاں ایک بات اور۔ وہ تصویر والی بے لباس لڑکی کا نام Kim Phuc تھا ۔ اس کا علاج ہوا۔ اس نے تعلیم حاصل کی۔ آج کل وہ کینیڈا میں مقیم ہے اور جنگ مخالف ایک تنظیم کے لیے کام کر رہی ہے۔ انسان میں اللہ تعالیٰ نے یہ کمال خوبی عطا کی ہے کہ وہ تاریخ کی راکھ میں سے اپنے لیے نئی تاریخ بنا لیتا ہے اگر چاہے تو۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *