مُلا ازم ۔۔۔اب معاف کرو!

jam sajjad hussain

شاید پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کے لئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کچھ حضرات نے نئی ’’اسلامی ‘‘ تجاویز دی ہیں جو کلی طور پر نافذ کردی جائیں تو ملک میں کوئی نرس پیدا نہیں ہوگی۔ خواتین غیر محرم مردوں کے ساتھ پارکوں اور تفریح مقامات پر نہیں جاسکیں گی۔ مخلوط تعلیم مکمل طور پر ختم کردی جائے گی۔ مرد خاتون کو گھر کے اندر کسی حد تک مار سکے گا ۔مسلم خاتون کو کسی بھی طرح سے مردوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم ان حضرات نے خاتون کو سیاست میں حصہ لینے کی پوری آزادی فراہم کی ہے۔فراخدلی کا شکریہ۔ اس نئی بحث پر ایک ٹیلی ویثرن پر ایک مفتی صاحب نے ان تجاویزات کے حق میں بولتے ہوئے فرمایا جامعات کے اندر لڑکے لڑکیاں آپس میں عشق معشوقی کرنا شروع کردیتے ہیں اور آپس میں رشتے ہوجاتے ہیں ۔ جس کے جواب میں معروف قانون دان محترمہ عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’’ہیر رانجھا ، سوہنی ماہیوال‘‘ اور دیگر عشقیہ قصے انہوں نے تحریر نہیں کیے۔اول یہ دیکھا جائے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے کیا وہ اسلام کی روسے کہیں بھی جائز ہے؟ جماعتِ اسلامی اس ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت تصور کی جاتی ہے ۔ یہ جماعت ترکی کے ترقی پسند ماڈل کو پسند کرتی ہے۔ کیا ترکی میں خاتون کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے جیسا ان نئی تجاویزات میں مواد فراہم کیا گیا ہے؟ اسلام میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کا تصور تو عرق ریزی کے بعد بھی نہیں ملتا بلکہ سورت نور کی آیات اور ان کی تفاسیر پڑھنے کے بعد تو عورت کی عصمت پر ایمان لانے کو جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا کے خالق نے عورت کو کس قدر عظیم مرتبے پر فائز کیا ہے۔ دوسرا اہم پہلو مخلوط تعلیم اور مخلوط میل جول ہے۔ اب تجاویزات دینے والے حضرات کی زندگیوں کا عمیق جائزہ لیا جائے تو بہت ساری چیزیں واضح ہوجاتی ہیں کہ وہ خود عملی طور پر کس حد تک اسلام اور شرعیت کو اپنے اندر ڈھال چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کئی دوروں پر غیر محرم خواتین کے ساتھ ’’مصافحہ‘‘ فرمایا ہے۔ کیا یہ عین اسلام ہے؟ کیا غیر محرم عورت کے ہاتھ کو چھونا یا دبانا عین اسلام ہے؟ پھر ان حضرات نے مولانا صاحب پر حد نافذ کرنے کا فتوی کیوں نہیں صادر فرمایا؟ بلکہ کچھ دن قبل ایک مفتی صاحب جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ رویت ہلال کمیٹی کے رکن ہیں انہوں نے ایک ٹیلی ویثرن پروگرام میں ببانگِ دہل فرمایا ہے کہ ’’وہ جہاں کہیں جاتے ہیں ان کی پہلی ترجیح ایک خوبصورت عورت کو تلاش کرنا ہوتا ہے کیونکہ خدا نے فرمایا ہے جہاں حسن دیکھو اس کی تعریف کرو‘‘۔ اس کے علاوہ بھی موصوف نے عورت کے حسن اور خوبیوں پر سیرِ حاصل گفتگو فرمائی۔ اینکر کو چاہیے تھا کہ وہ مولانا صاحب سے پوچھتے ۔’’یا حضرت ! آپ کی اپنی بیٹی کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اگر وہ خوبصورت ہو تو دوسروں کو بھی اس حسن کی تعریف کرنے کی اجازت ہوگی؟‘‘۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ آج تک ان چھوٹے قد کاٹھ والوں نے دین کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ لوگ چاہ کر بھی دین کو مکمل طور پر نہیں اپنا پارہے۔ پیٹ کی پوجا کرنے والوں نے دین میں اس قدر فرقہ واریت شامل کردی ہے کہ ہر فرقہ دوسرے فرقے کو کافر تصور کررہا ہے۔ ہر فرقہ اپنی سوچ اور منشا کے مطابق اسلام اور مسلمان کی تعریف کررہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے اس گروپ نے عورت کو سیاست میں شمولیت پر کھلے دل سے اجازت دے دی ہے۔ یعنی عورت کے لئے ایک فول پروف ڈبہ بنایا جائے گا جس میں عورت ڈھکی چھپی بیٹھی ہوگی مگر وہ مردوں سے ووٹ مانگ رہی ہوگی۔ اسی طرح اسمبلی کے اندر ایک چھوٹی اسمبلی بنائی جائے گی جس میں عورتیں مکمل حجاب میں ڈھکی بیٹھی ہونگی۔ پھر یہ گروپ فرماتا ہے کہ مرد عورت پر ہلکا تشدد کرسکتا ہے۔ توجیح کچھ یوں پیش کی گئی کہ ہلکے پھلکے تشدد سے مراد عورت کے جسم پر تشدد کا نشان نظر نہ آئے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ صرف نشان نہ آنے دے باقی عورت کی پوری ٹھکائی کردے۔ واہ کیا کہنے۔ اب ذرا ماضی پر نظر دوڑائیے ۔ بڑے بڑے جید علماء نے ایسٹ اینڈیا کمپنی کی آمد کے ساتھ ہی ’’انگریزی ‘‘ زبان پر کفر کا فتویٰ صادر فرما دیا یوں کئی نسلوں کو انگریزی زبان کی تعلیم سے دور رکھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بانیِ پاکستان کے جذبہِ پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کی اور انہیں بھی قادیانی، مرزائی اور حتیٰ کہ کافر کے درجے تک پہنچا دیا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن کے ابا حضور نے فرمایا کہ ’’شکر ہے وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہ تھے‘‘۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ اب ایک ایسے ہی عالم و فاضل اور پاکدامن مولانا کے بیٹے ’’اس گناہ‘‘ سے ہر حکومت میں لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ مفکرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال نے جب نظم شکوہ لکھی تو ان پر بھی کفر کا فتویٰ صادر فرما دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد جب انہیں ڈاکٹر صاحب کی شاعری کی سمجھ آئی تو ڈاکٹر صاحب صوفی اور عاشقِ رسول بھی انہی ’’علماء‘ ‘ کرام کی سند سے مشہور ہوئے۔ پھر اس قوم نے وہ دور بھی دیکھا جب بڑے بڑے خود ساختہ علماء کرام نے کیمرہ اور تصویر پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا اور کئی عرصہ تک ایک دو نسلوں کو کیمرہ کی لعنت اور کفری اوصاف کے بیان سے جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھا۔ لیکن جب ایسے ’’علماء‘‘ کرام کے جتھے نے مل بیٹھ کر کیمرے کے ’’اوصافِ حمیدہ‘‘ پر غور کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس میں ’’حمیدہ‘‘ واقعی نظر آتی ہے اور اس حمیدہ کے ساتھ ایسے مولانا حضرات کا ٹھہرنا اور بھی خوبصورت لگتا ہے تو کیمرہ مسلمان ہوگیا اور تصویر بھی جائز قرار پائی۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کئی ایسے حضرات نے اسلام میں کئی ایسی چیزوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جو بعد میں ایسے حضرات کے لئے مفید ثابت ہوئیں تو وہ جائز قرار پائیں۔ کیا یہ پاکستان کو پاپائیت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں؟ ان کی اپنی زندگیوں اور کارگزاریوں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کی وجہ سے انہیں فائدہ پہنچے تو وہ ’’مسلمان‘ ‘ ہے اور جس چیز سے دوسروں کو فائدہ پہنچے تو وہ کافر ہے۔ ان حضرات کی اپنی زندگیاں ایسے اعمال سے لتھڑی ہوئی ہیں کہ ان کے اوصاف گنواتے انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ چند سال قبل میری نظر سے ایک پولیس رپورٹ گزری جو سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سی سی پی او لاہور پرویز راٹھور نے بنوائی تھی جس میں جوئے کے اڈوں اور قحبہ خانوں کو چلانے اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کے نام اور دیگر تفصیلات شامل تھیں ان لسٹوں میں ایک ایسے حضرت بھی موجود تھے جو آج کل ہر ٹیلی ویثرن چینل پر اسلام کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح اور حاکم وقت کی خوشنودی کے لئے ہر قسم کی لغویات بکتے نظر آتے ہیں ۔ راقم کے پاس وہ لسٹیں تاحال موجود ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ ایک طرف کچھ حضرات جمہوریت کا راگ الپتے ہیں اور دوسری طرف اسلامی حکومت کی بات کرتے ہیں۔ اسلام میں جمہوریت کا وہ تصور بالکل نہیں رہاجو ہم نے یورپ سے مستعار لی ہوئی ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر اقبال نے چنگیز ی حکومت سے بھی بدتر کہا ہے۔ خدارا اپنے خیالات میں پاکیزگی اور واضح تشریح لائیے۔ اسلام کو مذاق مت بنائیے۔ آپ کی ایسی ہی باتوں سے جہاں دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوتی ہے وہیں ملک میں فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے۔یورپ نے اپنی نشاتہ ثانیہ کرکے پاپائے روم کو روم کے ایک ٹکڑے ویٹی کن سٹی میں بند کردیا ہے۔ انہوں نے مذہب اور سیاست کو کلی طور پر الگ کردیا ہے۔ اگر آپ نے مذہب کی سیاست کرنی ہے تو اپنی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالیے اور مکمل طور پر اسلامی ریاست کی بات کی جئے وگرنہ جیسا بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے فرمایا تھا پاکستان ایک فلاحی ریاست ہوگی جہاں ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد اور رسو م و روایات کے مطابق زندگیاں بسر کرسکیں گے، خود بھی ویسے بنئے اور ملک کو ترقی کرنے دیجئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *