نیا ایران سعودی تنازع: اس سال ایرانی حج پر نہیں جائیں گے

hujسعودی عرب نے ایران کی جانب سے حج سے متعلق پیش کی گئی ناقابل قبول شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے سعودی عرب کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس کی شرائط نہ مانی گئیں تو اس برس ایرانی شہری حج میں شرکت نہیں کریں گے۔
علاقائی حریفوں تہران اور ریاض کے درمیان اس تازہ ترین تنازعے کے حوالے سے ایرانی وزیر ثقافت علی جنتی نے کہا کہ سعودیوں کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے باعث مذاکرات کے دو اَدوار بے نتیجہ رہے ہیں اور بد قسمتی سے ایرانی عازمینِ حج اس سال حج میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔
سعودی حکام کے مطابق ایک ایرانی وفد ایرانی عازمینِ حج سے متعلق انتظامات کے حوالے سے کسی حتمی سمجھوتے پر پہنچے بغیر اپنا سعودی عرب کا دورہ ختم کر کے وطن روانہ ہو گیا۔ ریاض کی وزارتِ حج کے مطابق دو روزہ مذاکرات میں سعودی حکام نے ایرنی مطالبات کے جواب میں بہت سے حل پیش کیے تھے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اتوار کے روز برطانوی وزیر خارجہ فیلپ ہیمونڈ کے ساتھ جدہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حج کے دوران مظاہروں کی بھی شرط رکھی تھی، جس کو قبول نہیں کیا جا سکتا:ایران نے ترجیحی سہولتوں اور مظاہرے منظم کرنے کا حق مانگا تھا لیکن اس سے حج کے دوران ابتری پھیلے گی، یہ ناقابلِ قبول ہے۔
الجبیر کے مطابق سعودی عرب ہر سال ستّر سے زائد ملکوں کے ساتھ عازمینِ حج کی سلامتی اور حفاظت کی ضمانت سے متعلق یادداشتوں پر دستخط کرتا ہے لیکن ایران نے اس میمورینڈم پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تقریباً تین عشروں کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ ستمبر میں حج کے موقع پر ایرانی مسلمان موجود نہیں ہوں گے۔یاد رہے کہ1987ء میں مکے میں ایرانی حاجیوں اور سعودی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد ان دونوں کے تعلقات چار سال تک خراب رہے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *