خلیل جبران کے دو اہم ناولٹ

razia syed

خلیل جبران ایک ایسے فلسفی اور ادیب ہیں جو ناول نگاری میں مشرق اور مغرب دونوں کے نمائندہ ہیں ان کے ناول لوگ  کم و بیش سو سال سے پڑھ رہے ہیں اور بیسویں صدی میں خلیل کو پڑھنے والے لوگ سب سے زیادہ امریکی افراد تھے لیکن اب تک قارئین  خلیل کے فسوں سے نکل نہیں پائے ۔

خلیل جبران کی جس کتاب کو آج میں نے تبصرہ کے لئے منتخب کیا ہے اس کا نام ہی ’’ خلیل جبران کے دو اہم ناولٹ ‘‘ ہے جسے نیشنل بک فاونڈیشن نے شائع کیا ہےاسکی قیمت ۱۳۰ روپے ہے ، جبکہ اسکا اردو ترجمہ ملک اشفاق نے کیا ہے ۔  سرورق نہایت خوب صورت اور ابتدا میں چند  اندرونی صفحات رنگین ہیں ۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے مینیجنگ ڈائر یکٹر پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں ۔

’’مغرب کی آزادی کا داعی ہونے کے باوجود وہ مشرقی شرم و حیا اور روایات کی پابندی ضروری سمجھتا ہے ، اسکے ناولوں میں مادیت اور تصوف کے درمیان یہی کشمکش اس کو دوسرے مغربی ناول نگاروں سے منفرد بناتی ہے ‘‘۔

خلیل جبران نے نہ صرف بہت خوب صورت عربی ناول لکھے ہیں بلکہ  نثر کا معیار بھی بلند پایہ ہے لیکن یہ بات بھی دل چسپی سے خالی نہیں کہ وہ ایک مجسمہ ساز اور مصور بھی تھے ۔  اب اس کتاب میں شامل اگر دوناولٹ پر بات کریں تو وہ ہیں تو طویل لیکن اپنی خوبصورتی اورتسلسل کی بنا پر انھیں پڑھے بغیر ادھورا چھوڑ دینا ناممکن ہے ۔ پہلے ناولٹ کا نام ’’ ٹوٹے ہوئے پر ( broken wings ) اور دوسرے کا عنوان  ’’ زرد پتے ‘‘ یعنی) ہے یہ دونوں ناولٹ Rebellious  spirits )

totay hoay par

اپنے عنوانات کی طرح خوبصورت ہیں’’ ٹوٹے ہوئے پر‘‘ ۱۹۱۲ میں خلیل جبران نے عربی زبان میں لکھا جس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ۱۹۱۸ میں کیا گیا ، اس ناولٹ میں جبران ایک سلمی نامی لڑکی سے پیارکرتا ہے جو فارس آفندی ایک نیک دل لیکن امیر آدمی کی بیٹی ہوتی ہے ، سلمی  بہت خوب صورت لڑکی ہوتی ہے اور جبران اسے دیکھتے ہی دل دے بیٹھتا ہے تاہم ایک پادری جس کا علاقے میں بہت اثر و رسوخ ہوتا ہے وہ اپنے بھتیجے کی شادی اس لڑکی سے کروا کے فارس آفندی کی تمام دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ بھتیجا ایک عیاش آدمی ہوتا ہے جسے سلمی سے کوئی محبت نہیں ہوتی ۔ شادی کے بعد لڑکی پر بہت ظلم و ستم ہوتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد اسکے ہاں ایک مردہ بچہ جنم لیتا ہے اور اس دوران وہ خود بھی مر جاتی ہے یہاں پر کلائمکس کے جملے ہوتے ہیں کہ ایک ہی قبر  جس میں فارس آفندی کو دفنایا جاتا ےاسی میں اسکی بیٹی سلمی اور اسکے نومولود مردہ بچے کو سپرد خاک کر دیا جاتا ہے اور جبران روتے ہوئے گورکن سے کہتا ہے کہ وہ اسکا دل بھی اسی قبر میں دفنا دے۔ جبران نے یہاں سچی محبت ، ریاکاری ، لالچ ، مذہبی پیشوائوں کے اصل روپ اور عورت کی وفاداری کو بہت خوب صورتی سے بیان کیا ہے ۔

دوسرا ناولٹ  جس کا نام’’ زرد پتے‘‘ ہے اس میں ایک ظالم جاگیر دار شیخ عباس کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں ہیرو لوگوں کو اس جاگیر دارانہ نظام کے خلاف بغاوت پر اکساتا اور اس میں کامیاب بھی رہتا ہے اسکی گائوں میں ہی ایک لڑکی سے شادی ہو جاتی ہے اور پھر تمام گائوں کے لوگ خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں ۔ یہاں یہ چیز یاد رکھنے والی ہے کہ یہ ناول بھی عربی زبان میں لکھا گیا اس سے پہلے خلیل جبران نے ایک نظم ’’ تم اپنا لبنان رکھتے ہو ، میں اپنا لبنان رکھتا ہوں ‘‘ لکھی لیکن اس ناول اور مذکورہ نظم پر لبنانی حکومت نے پابندی بھی عائد کر دی تاہم  اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور اسکی دس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں جبکہ چالیس سے زیادہ زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوا ۔ خلیل جبران ہر دور کے قاری کا پسندیدہ ہے تاہم ان کہانیوں کو سمجھنے کے لئے گہری فکر او رمشاہدے کی ضرورت ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *