’’ قیدِ مقام سے گزر‘‘

Ayeshaڈاکٹر عائشہ صدیقہ

ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ میں اپنے آبائی شہر بہاولپور میں مستقل طور پر قیام پذیرکیوں نہیں ہوجاتی کیونکہ ہمہ وقت سفر کی حالت میں رہنا بھی آسان کام نہیں۔ اس پر میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ بہاولپور میں مجھے ایسا کوئی نہیں ملتا جس سے میں بات کرسکوں۔ اس بات کو لفظی معنوں میں نہ سمجھا جائے کہ میرا حلقہۂ احباب نہ ہونے کے برابر ہے یا میں سماجی تعلقات قائم کرنے کے قابل نہیں ہوں، بلکہ کہنے کا مطلب یہ کہ اپنے آبائی شہر میں مجھے ویسا سماجی حلقہ میسر نہیں جس میں فہم و فراست رکھنے والے ہم خیال لوگ اپنی ذہنی صلاحیتوں کی آبیاری کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیں۔ کسی کیفے میں بیٹھ کر نیٹ بروزنگ کرنا، کسی کتاب کا مطالعہ کرنا یا کسی جاننے والے یا دوست سے ملاقات کرنا یا کسی پررونق بازار میں خریدار ی کرنا یاونڈو شاپنگ سے ہی دل بہلانا اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے جو بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ دراصل خوشی ان افعال میں نہیں بلکہ کسی بڑے شہر میں عوام کی بھیڑ میں کھوجانے میں ہے۔ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں سے آنے والے افراد کو بڑے شہروں کی یہ خوبی بہت بھاتی ہے کہ وہاں آکر انسان ہجوم میں روپوش ہوجاتا ہے۔
شہروں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں بڑھ گئیں اور اس کے نتیجے میں عوام کے لیے ترقی کرنے اور نسبتاً ایک محفوظ زندگی گزارنے کے مواقع میں اضافہ ہوا لیکن اگر ہم ان عوامل کو ایک لمحے کے لیے فراموش کرکے یہ دیکھیں کہ شہروں کی وجہ سے عوام کی سماجی زندگی میں بہتری آئی تو شہری زندگی کا یہ پہلو زیادہ پرکشش دکھائی دے گا۔ اس سماجی زندگی کا ایک اہم پہلو بہتر تعلیمی ادارے بھی ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آمدورفت کی سہولت بھی۔ یہاں میسر آنے والی سماجی آزادی ان بندھنوں سے رہائی دلادیتی ہے جس میں دیہات اور چھوٹے قصبوں میں کلچر اور رسوم و رواج کے نام پر انسان نے خود کو پابندِ سلاسل کیا ہوتا ہے۔ پنجاب میں سفر کرتے ہوئے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں لوگ عام طور پر اپنی فیملیز کے ساتھ ریستورانوں میں نہیں جاتے، لیکن لاہور میں ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں لوگ اپنے جاننے والوں کی نظروں سے اوجھل رہ کر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ بڑے شہروں یہ احساس انسان کو اعتماد دلاتا ہے کہ یہاں کسی ریستوران میں آپ کو جاننے والا نہیں نکل آئے گا اور نہ ہی آپ کے ساتھ خواتین کو کوئی جاننے والا دیکھ پائے گا کیونکہ مردوں نے اپنی عزت کا شیش محل خواتین کے کندھوں پر تعمیر کیا ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں جاننے والوں اور رشتے داروں سے دور رہنا سماجی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں ، جوپاکستان میں ان گنت ہیں، میں اُس مکالمے کی جگہ نہیں بنتی جو سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے کیونکہ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا ،لوگ رسوم ورواج کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ اسی رہتل(رہن سہن) میں موجود دوسروں کے ساتھ سماجی مکالمے لیے نہ تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُس ماحول میں احساسِ تفاخر، عزت، انااو ر خوف اور بہت سے انسانی التباسات تبدیلی کے عمل سے نہیں گزرتے ہیں۔ چونکہ دیہاتی زندگی میں تمام افراد ایک دوسرے کو کئی نسلوں سے جانتے ہیں، اس لیے وہ ان کے ساتھ طے شدہ سماجی روایات سے نکلنے اوراُنہیں تبدیل کرتے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وہ شہر، جو قصبوں اور دیہاتوں سے ترقی پا کر شہربنے ہیں، میں بہت دیر تک دیہاتی رہتل کے سائے منڈلاتے رہتے ہیںیہاں تک یہ ان کا بڑھتا ہوا سائز ان بندھنوں کو توڑ کر سماجی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ بہت دیر تک پاکستان میں کراچی ہی حقیقی معنوں میں واحد شہرتھا، باقی سب شہر گاؤں اور قصبوں سے ترقی پاکر شہر بنے تھے۔
حال ہی میں خاندان میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور میں نے محسوس کیا کہ وہاں سماجی مکالمے کی شدید کمی تھی کیونکہ سماجی ترقی اور تبدیلی کے راستے میں رفاقت امرِ مانع کا درجہ رکھتی ہے۔ خاندان کے بڑے نوجوان نسل کو نئی طرزِ زندگی اپنانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ وہ روایتی عزت اور انا کے جال سے باہر نہیں نکل پائے تھے۔ مثال کے طور پر خاندان کے ایک صاحب نے میوزک بینڈ پر شدید اعتراض کیا حالانکہ اکثر فن کار ان کے بچوں کی عمر کے تھے۔ ایک اورصاحب، جن کا بیٹا اسی میوزک گروپ میں گاتا تھا، نے اپنی بیوی کا سخت پردے کا حکم دیا۔ یہ ایک مضحکہ خیز صورتِ حال تھی کیونکہ میوزک بینڈکے فن کار اُنہیں ’’اماں ‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ پردے کے تصور پر بھی مکالمے کی ضرورت تھی کیونکہ اس میں ’’من پسند ‘‘ کا عامل حاوی تھا کیونکہ کھانا کھلانے والے ویٹرز کا تعلق قریبی گاؤں سے تھا اور ان سے کسی نے بھی پردہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہی خواتین جب لاہور میں ہوتی ہیں تو ان کو پردے میں نہیں دیکھا جاتا ۔ اس کا مطلب کہ وہ خود بھی پردہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں لیکن دیہات کی رسومات سے جان نہیں چھڑا پاتیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مکالمہ کرتا ہے۔
اس سے مجھے یاد آتا ہے کہ مقامی اشراف اپنے علاقوں سے دور جاکرزندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر جنوبی پنجاب میں نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں سماجی لچک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ ہم اپنے معاشرے کے اشراف کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ کہ اس طبقے کی وجہ سے سماجی ترقی اور تبدیلی کا پہلو نکل آتا ہے کیونکہ ان میں رسوم ورواج کے بندھن سے آزاد ہونے کی ہمت اور مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسا طبقہ ضرورموجود ہوتا ہے لیکن چھوٹے قصبات میں تبدیلی کے عمل کی وضاحت دشوار ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں جاگیرداری اور روایات کا دہرا حصار رہتل کو گھیرے ہوئے ہے۔جیسا کہ میں نے شادی کی مثال سے بتانے کی کوشش کی کہ آدمیوں کو اپنی جھوٹی انا کا زعم ہوتا ہے اورا س انا کی آبیاری جاگیردارانہ معاشرے میں ہی ہوتی ہے کیونکہ وہاں ان سے مکالمہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
ایک مرتبہ جب مجھے مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کرنے کا اتفاق ہوا تو مجھے اندازہ ہوا کہ جاگیرداری ان کی زندگی کو کس طرح کنٹرول کرتی ہے۔ یہ حقیقت ،کہ حنا ربانی کھر بھی اپنے حلقے کے لوگوں سے براہ راست رابطہ نہیں رکھتیں ،اس کی بجائے ان کے حلقے میں ان کی طرف سے تمام تر سیاسی سرگرمیاں ان کے والد اور دیگر مرد حضرات کے ہاتھوں انجام پاتی ہیں، سے بظاہر روشن خیال طبقے کی تنگ نظر ی آشکار ہوتی ہے۔ ان کے حلقے کے افراد کا کہنا ہے کہ مس گھر کے والد کے کارندے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جب مس گھر(جب وہ حکومت میں تھیں)غیر ملکی وفود سے ملاقات کرتیں یا ان سے ہاتھ ملاتیں تو والد صاحب ٹی وی پر یہ منظر دیکھنے نہ پائیں۔ ان حالات میں کھر فیملی کی تعلیم یافتہ خواتین ایسی جگہ پناہ حاصل کرنا بہتر سمجھیں گی جہاں ان کو کوئی جانتا نہ ہو۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ بندھن جاگیر داری ذہنیت کی پیداوار ہیں اور ان کا مقامی کلچر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں عام افراد، مرد وخواتین، ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ چنانچہ اشراف کاتشریح کردہ عزت کا احساس ان کو عوام سے دور کردیتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ احساس نہیں کرپاتے کہ عوام کے ساتھ گھل مل کر رہنا بنیادی انسانی ضرورت بھی ہے اور اس کی کمی سے کسی بھی مقام کی ترقی مسدود ہوجاتی ہے، چنانچہ قیدِ مقام سے گزرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *