فولادی اعصاب کا مالک وزیراعظم!

Photo Attaul Haq qasmi sbوزیراعظم پاکستان صحت کے حوالے سے ایک نازک زون سے باہر نکل آئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے پاکستانی قوم کی دعائیں قبول کیں، میں بہت عرصے سے خاموش اکثریت کے بارے میں سنتا چلا آرہا تھا۔ یہ خاموش اکثریت ٹاک شوز دیکھتی ہے، نوازشریف کے خلاف زہریلے پرواپیگنڈے کے کمالات ملاحظہ کرتی ہے۔ اس خاموش اکثریت کے سامنے سیاسی مسائل پر گفتگو کی جائے تو عموماً خاموشی سے سنتی ہے۔ الیکشن سے قبل تجزیہ کاروں کے تجزیوں اور ان کی پیش گوئیوں سے محظوظ ہوتی ہے اور پولنگ اسٹیشن پر پہنچ کر اپنا ووٹ نوازشریف کے بیلٹ بکس میں ڈال آتی ہے۔ اسی خاموش اکثریت کو میں نے وزیراعظم نوازشریف کی علالت کے دوران بھی ووکل پایا، یہ اپنیرہنما کی علالت پر اس طرح پریشان نظر آئے جس طرح کسی عزیز ترین رشتے دار کی علالت سے انسان پریشان ہوسکتا ہے، وہ ایک دوسرے کو فون کر کے آپریشن کی صورتحال کے بارے میں پوچھتے تھے، ان کیلئے ہر نماز کے بعد دعائیں مانگتے تھے، گھروں میں قرآن مجید کے ختم کرائے گئے، گرجا گھروں اور مندروں میں بھی نوازشریف کی صحت کیلئے دعائیں مانگی گئیں۔ کالے بکروں کے صدقے دیے گئے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بے چینی کا بھی یہی عالم تھا، میں نے محبت کے یہ مناظر بہت کم سیاسی رہنماؤں کیلئے دیکھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے قوم کی دعائیں سنی لیں اور نوازشریف چار بائی پاس آپریشن کے بعد اب روبصحت ہیں اور ڈاکٹروں کے مشوروں کے حوالے سے چار سے چھ ہفتوں کے بعد ان شاء اللہ دوبارہ پاکستانی عوام کی قیادت کیلئے ان کے درمیان ہوں گے!
میاں صاحب کی صاحبزادی مریم نواز نے جیو کو بتایا کہ ان کے والد فولادی اعصاب کے مالک ہیں۔ وہ کب سے یہ آپریشن ٹالتے چلے آرہے تھے، مگر ڈاکٹروں نے کہا جناب اس وقت آپ وزیراعظم نہیں ہیں کہ آپ کی مانی جائے، آپ علیل ہیں اور آپ کو ہمارا کہا ماننا پڑے گا۔ اب یہ آپریشن موخر نہیں کیا جاسکتا چنانچہ وزیراعظم کو ڈاکٹروں کا حکم ماننا پڑا۔ نوازشریف کے فولادی اعصاب کا یہ عالم ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب انہیں کئی ہفتے قید تنہائی میں رکھا گیا، واضح رہے قید تنہائی اس اذیت ناک سزا کا نام ہے جس میں ایک اندھیرے کمرے میں قیدی کو رکھا جاتا ہے، جہاں دن، رات، ٹائم اور اس قید خانے کی لوکیشن کا بھی پتہ نہیں ہوتا، کسی کواس سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، کھانا دینے والا بھی دروازے کے نیچے سے کھانا اندر دھکیل دیتا ہے اور اگر آپ اس سے بات کرنا چاہیں تو وہ آپ کی بات کا جواب بھی نہیں دے گا اور یوں آپ قید تنہائی کے دوران کوئی انسانی آواز بھی سن نہیں پائیں گے۔ اس صورتحال میں انسان دماغی توازن بھی کھو سکتا ہے۔ لیکن میاں نوازشریف کو کئی ہفتے قید تنہائی میں رکھنے کے بعد آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیدھا عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا گیا اور وہاں پہنچتے ہی انہیں چارج شیٹ سنائی گئی کہ آپ نے جنرل پرویز مشرف کا جہاز ہائی جیک کیا ہے جس پر اس قیدی نے برجستہ کہاجناب، میں نے جہاز ہائی جیک نہیں کیا بلکہ میری حکومت ہائی جیک کی گئی ہے ایک اذیت ناک صورتحال میں ایسے جواب کیلئے فولادی اعصاب درکار ہوتے ہیں۔ میاں صاحب تو اپنی جان کی پروا کئے بغیر بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بپھرے ہوئے ہجوم کے درمیان بھی چلے گئے تھے اور انہیں دلاسا دیا تھا۔ ہر وہ شخص جو اللہ پر کامل یقین رکھتا ہو، ماں کی دعاؤں کا اثاثہ اس کے پاس ہو، اپنے والد کی روایات کا امین ہو، ہر ماہ لاکھوں لوگوں کی امداد ان کے سیاسی یا غیر سیاسی نظریات دیکھے بغیر ایک گرانقدر رقم سے کرتا ہو، جس کا دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہو اور وہ پاکستانی قوم کو دنیا کی عظیم قوموں میں دیکھنے کا خواہشمند ہو اور اس کیلئے عظیم منصوبے بناتا ہو، وہ پھر ہر طرح کے خدشات سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور میاں صاحب ایک ایسی ہی شخصیت کے حامل ہیں، الزامات کس پر نہیں لگتے اور ان دنوں تو الزامات ثابت ہونے سے پہلے ہی گردن زدنی قرار دے دیا جاتا ہے، میاں صاحب بھی ایک عرصے سے ان الزامات کی زد میں ہیں اور یوں ان کے اعصاب شل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، مگر فولادی اعصاب کاحامل یہ شخص خود کو صرف خدا اور پھر اپنے عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہے اور آج تک اللہ نے اپنی رحمت اور عوام نے اپنی محبت سے اس شخص کو محروم نہیں رکھا۔
میری دعا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف جلد سے جلد صحت یاب ہوں اور واپس اپنے وطن آئیں جہاں عوامی فلاح و بہبود ، انرجی اور معاشی راہداری ایسے دوررس منصوبے تشکیل و تکمیل کے مراحل میں ہیں، خدا کرے، یہ منصوبے پاکستانی عوام اور میاں صاحب کی توقعات اور خواہشات کے مطابق تکمیل کے مراحل سے گزریں، اس صورت میں آئندہ انتخابات کے نتائج بھی ویسے ہی نہیں جو پہلے آتے رہے ہیں بلکہ ان سے کیا بہتر سامنے آئیں گے اور مجھے یقین ہے کہ میاں صاحب پاکستان واپس آتے ہی ایک بار پھر پوری تندہی سے پاکستان کے سنہری مستقبل کیلئے سرگرم عمل نظر آئیں گے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *