کوئی ہمارے لئے بولنے والا!

Dr tarirq rahmanڈاکٹر طارق رحمٰن

مارٹن نیمولر ایک پادری تھے اور وہ جرمن کیمپ کی باخبری سے بہت زیادہ پریشان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ جب تک جرمن دانشور نہیں بولیں گے اس وقت تک جرمنی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہو گاکیونکہ نازیوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا ۔ گرفتار کئے جانے والوں میں جمہور پسند، تاجر تنظیموں کے لوگ اوریہودیوں سمیت سب شامل تھے۔کیا یہی کچھ ہم آج پاکستان میں بھی نہیں دیکھ رہے؟میں صحافیوں کودنیا بھر میں دھمکیوں، گالیوں، مارپیٹ، اذیت دینے، زخمی کئے جانے اور دوران ڈیوٹی مارے جانے کے حوالے سے مرتب کردہ وہ اعدادوشمارنہیں دکھانا چاہتا جو آمریت کا تاثر دیں۔ ہر وہ شخص جومیڈیا سے متعلق ہے، یہ سب جانتا ہے۔ سادہ لفظوں میں،پاکستانی میڈیا کے چوٹی کے لوگوں کونہایت تیز رفتاری سے دھمکیاں دی جا رہی اور گولیاں ماری جا رہی ہیں۔ایک مہینے کے دوران، ہم نے پہلے رضا رومی اور پھرحامد میر پر گولی چلنے کی خبر سنی۔رضا بچ گئے لیکن حامد زخمی ہیں اور تاحال اپنے زخموں سے لڑرہے ہیں۔ گفتگو تو اس سکیورٹی پر ہونی چاہئے جو ہمارے میڈیا کو فراہم کی جا رہی ہے یا اس سکیورٹی پرہونی چاہئے جو ہمارے محترم صحافیوں کو فراہم کی جا رہی ہے یا ایک ایسا دفتر بنانے کے متعلق ہونی چاہئے جوصحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں پر فوراً حرکت میں آجائے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ دھمکیاں کہاں سے دی جا رہی ہیں لیکن اب ذرا دیکھیں کہ ہو کیا رہا ہے؟ ساری گفتگو کا موضوع آئی ایس آئی کو الزام دینے کے جرم کے اور خود حامد میر کے غلط کاموں کے گرد گھوم رہا ہے۔سازشی تھیوریاں عروج پر ہیں۔۔۔مثلاً، میر نے آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کے لئے خود سے یہ سب کچھ کیا۔۔۔کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ عوام کی مشرف کیس سے توجہ ہٹ جائے۔۔۔۔۔ تیسرے ہاتھ(جس کی وضاحت نہیں کی گئی) نے پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے یہ سب کچھ کیا، وغیرہ، وغیرہ۔ مجھے یاد ہے کہ بالکل یہی کچھ اس وقت بھی ہوا تھا جب ملالہ کو گولی لگی تھی۔پہلے تو کچھ غصے بھرے نعرے سنائی دئیے۔ پھر بازی پلٹی اور ہم نے سنا کہ ملالہ نے پاکستان یا طالبان کو بدنام کرنے کے لئے خود ہی اپنے اوپر گولی چلا لی تھی۔ آج ملالہ پاکستان میں بے حد متنازع ہے اور کئی لوگ ابھی تک اسے ایک ڈرامے اور ایک سازش کا شکار سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ایک بار پھر، ہم غلط چیزوں کے متعلق باتیں کرنے میں مصروف ہیں اورہمارے صحافیوں میں سے ایک نہایت دلیر شخص بستر پر پڑا اپنے زخموں سے لڑ رہا ہے۔
اس سارے معاملے کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر اب بھی سارے صحافی آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے ، میڈیا کے لوگوں کے تحفظ کے لئے اور اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لئے اکٹھے نہیں ہوتے توپھر ہم سب دہشت کی حکومت میں زندہ رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اگر ہمارا معاشرہ اب بھی مظلوموں کا ساتھ نہیں دیتا تو پھر ہم نیمولرکے ان الفاظ کو دہرانے لگیں گے:
’’پہلے وہ سماج پسندوں کو لے جانے کے لئے آئے ، مگر میں خاموش رہا کیونکہ میں سماج پسند نہیں ہوں۔
پھر وہ تاجر تنظیموں کے عہدیداروں کو لے جانے کے لئے آئے ، مگر میں خاموش رہا کیونکہ میں کسی تاجر تنظیم کاعہدیدار نہیں ہوں۔
پھر وہ یہودیوں کو لے جانے کے لئے آئے ، مگر میں خاموش رہا کیونکہ میں یہودی نہیں ہوں۔
اور پھر وہ مجھے لے جانے کے لئے آئے۔۔۔۔ مگر یہاں کوئی نہ تھا جو میرے لئے بولتا!‘‘
لہٰذااگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں کوئی ایسا موجود ہو کہ جو ہمارے لئے بولے تو پھر ہمیں میڈیا اوراس سے وابستہ لوگوں کا دفاع کرنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *