ڈرون حملوں کا معاملہ عالمی فورم پراٹھائیں گے

TajSar

اسلام آباد-مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن ڈرون حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا اور یہ معاملہ عالمی انسانی حقوق کمیشن میں اٹھائیں گے۔ سینٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے مشیرخارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے ہماری خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ڈرون حملے ہی مذاکراتی عمل کو متاثر کررہے ہیں۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ وزارت خارجہ کی جانب سے ڈرون کے معاملے پر رد عمل میں تاخیر کی گئی یا ہم کسی دباؤ کا شکار ہیں ہم نے امریکی سفیر کو طلب کرکے تحفظات کا اظہار اور شدید احتجاج کیا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ڈرون حملے کے حوالے سے باقاعدہ پریس کانفرنس کی۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے ملکی دفاع ، سلامتی اور خود مختاری سب سے اولین ترجیح ہے، ہم نے ہمیشہ ڈرون معاملے پرسخت مؤقف اپنایا، 2013 میں 34 ڈرون حملے ہوئے جس پر حکومت نے یہ معاملہ سفارتی اورعالمی سطح  پر اٹھایا جس کے بعد ڈرون حملوں میں واضح کمی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ہم معاملہ عالمی انسانی حقوق کمیشن میں اٹھائیں گے اور اس اصولی مؤقف پر دوست ممالک سے بھی بات کی جائے گی۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بہت ضروری ہے جس کے لئے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، ہم نے امریکا اور افغانستان کو بھی کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی خطے میں امن لایا جاسکتا ہے، جنگ اور فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں جب کہ ملامنصور کے معاملے پر ایران سے مکمل رابطے میں ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *