وہ ممالک جہاں اپنی محنت سے ارب پتی بننا آسان ترین کام ہے۔۔۔

’’unnamedبڑے سرمایہ دار کاروباری دنیا میں کسی افسانوی شہزادی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ سرمایہ داروں کے بھی سرمایہ دار ہیں۔ امارت کی کہانیوں کے لئے موضوع مزاح ہیں۔ وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر ارب پتی بنے ہیں۔
لندن میں قائم پالیسی سٹڈیز کے مرکزنے1996ء سے2010ء تک کے دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فوربز کی فہرست کا تجزیہ کرکے 53ممالک سے تقریباً 1000بڑے سرمایہ داروں کی نشاندہی کی ہے۔
اس رپورٹ کے لئے طے کردہ عظیم سرمایہ دار کے معیار پر پورا اترنے کیلئے ایک کاروباری فرد کو کم از کم 1بلین ڈالر کا مالک ہونا چاہئے تھا۔ اس رپورٹ میں وہ لوگ شامل نہیں کئے گئے جنہوں نے وراثت میں اربوں یا اس سے کچھ کم دولت حاصل کی تھی اور پھر اسے اربوں ڈالر میں تبدیل کرلیا۔
اس رپورٹ کامقصد سرکار اوراس کی اس حکمت عملی کے ڈھانچے کی نشاندہی کرنا تھاجو سرمایہ دارکے معیار پر سب سے بڑھ کر پورا اترتے ہیں۔ بہرحال یہ بڑے سرمایہ دار ان ممالک کے لئے بہت اچھے ہیں جہاںیہ اپنے کاروبار چلاتے ہیں اور اکثرلاکھوں نوکریاں پیدا کرتے ہیں۔
اگر پورے ملک کی آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھا جائے تو ہانگ کانگ اوراسرائیل میں اپنی محنت کے بل بوتے پر ارب پتی بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔امریکہ، سوئیٹزرلینڈاور سنگاپور بھی پہلے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کم ٹیکس اور کم قوائدوضوابط تو بڑے سرمایہ داروں کی بڑی تعداد سے براہ راست متعلق ہیں لیکن سرمایہ داری کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے بنائے گئے منصوبوں کا بڑے سرمایہ داروں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس رپورٹ کے نتائج امریکی خواب کے تاحال زندہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔۔۔۔ یعنی افرادکے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی محنت، قسمت اور ذہانت کے بل بوتے پر ابھریں۔۔۔ رپورٹ کہتی ہے کہ’’اپنی محنت کے بل بوتے پر ارب پتی بننے والے سرمایہ دارلاکھوں ملازمتیں پیداکر چکے ہیں، نجی دولت میں لاکھوں ڈالر کا اضافہ کر چکے ہیں اور ان کے یہ لاکھوں ڈالر شاید معاشرے کے لئے کھربوں ڈالرکے برابر ہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ کا یہ خواب اب پھیلتے پھیلتے عالمگیر خواب میں تبدیل ہوتا جا رہاہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *