وادی سندھ کےعظیم ثقافتی ورثہ کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ توجہ طلب تحریر

عبدالواحد قریشی
 abdul wahid qureshi
وادی سندھ کی تہذیب کا شمار دنیا کی ترقی یافتہ تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب نہ صرف اپنے دور کی عظیم شاہکار تھی بلکہ یہ آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کے توجہ کا مرکز ہے۔ نکاسی آب کا بہترین نظام ہو یا منظم شہری طرز حکومت، فنون لطیفہ کی بات ہو یا زرعی پیداوار ہر شعبہ ہائے زندگی میں انکی ترقی، آج کے انسان کو ورطہ حیرط میں ڈالنے کا سامان کرتی ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق تو اس تہذیب کا زوال ۲۵۰۰ قبل مسیح سے ہی شروع ہو چکا تھا مگر اس نے آنے والے آرین اور مورین جیسے تہذیبوں کے قیام کو بنیاد فراہم کیا۔ آرین اور مورین کے دور سلطنت کے دوران ہی رگ وید کی تدوین ہوئی جس نے بعد میں ہندو مذہب کی عقائد یا ہندو تہذیب کے اقدار کو منظم شکل دی۔ ہندو مذہب کے علاوہ بدھ مذہب کی ترویج بھی اسی دور سلطنت میں نیپال کی سر زمین پر ہوئی۔
sindh-1
اس تہذیب کے آثار پہلی مرتبہ اس وقت منظرعام پر آئے جب سر جان مارشل نے ۱۹۲۸ میں موئنجو دڑو کو دریافت کیا۔ بعد میں ہڑپہ کی دریافت نے اس تہذیب کی عظمت کودنیا کے سامنے مزید آشکار کیا۔ ماہرین کے مطابق ہڑپہ ہی سے کسی زمانے میں خطے پر حکمرانی کی جاتی تھی۔ دونوں شہروں کے درمیان دریافت ہونی والی بستیوں نے اس خیال کو تقویت پہنچائی کہ یہ دریائے سندھ کے کنارے آباد ایک سلطنت تھی، جو کئی بستیوں اور شہروں پر محیط تھی۔
اس تہذیب کے باشندے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہترین سفارت کاری کے بھی ماہر تھے۔ جسکا واضح ثبوت میسو پوٹیمیا تہذیب کے خطے میں ملنے والے ہندوستانی زبان کے خطوط ہیں۔ سومیرین تہذیب سے انکے تجارتی تعلقات سارجن اول کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچے۔ اور انہی سے سٹی سٹیٹ کا تصور وادی سندھ پہنچا۔
sindh-2
وادی سندھ کی تہذیب پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس سے کافی حیران کن اکشافات منظر عام پر آرہے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں بھارت میں کی جانے والے ایک تحقیق میں بذریعہ کاربن ڈیٹنگ تکنیک یہ انکشاف کیا گیا، کہ وادی سندھ کی تہذیب پانچ نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے۔ اس تحقیق کے بعد وادی سندھ کی تہذیب کا مرتبہ اپنے دوسرے ہم عصر تہذیبوں{مصر اور میسوپوٹیمیئن تہذیب} سے بلند کرتر ہو گیا ہے۔
ماضی میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ مون سون بارشوں کے سسٹم میں تبدیلی آنے سے اس تہذیب نے قحط کا سامنا کیا اور اپنا عروج کھو بیٹھے، لیکن سائنسی جریدے، نیچر میں شائع ہونے ایک اور تحقیق نے اس خیال کو رد کیا۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اس تہذیب کے باشندوں نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گندم اور جو جیسی فصلوں پر انحصار کم کر دیا جو زیادہ بارشوں کی مرہونِ منت ہوتی ہیں اور ان کی بجائے چھوٹے دانوں والی فصلیں مثلاً باجرہ اور چاول زیادہ اگانے شروع کر دیں جو خشک سالی کا نسبتاً بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اس طرح خشک سالی کے دور میں بھی انہوں سینکڑوں سال تک اپنےعروج کو برقرار رکھا۔ {بی۔بی۔سی}
اب تک کی جانے والے تحقیق کے نتیجے میں اس تہذیب کے چھ بڑھے شہری مراکز دریافت کئے گئے ہیں۔ جن میں روپڑ، لوتھل اور راکھی گڑھی موجودہ بھارت میں واقع ہیں۔ جبکہ موہنجودڑو، ہڑپہ اور گنیروالا پاکستان کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ تو اب تک اس تہذیب کے جعرافیائی حدود کے اندازے لگا رہے ہیں، لیکن پاکستان میں واقع شہروں کا اس تہذیب کے مراکز ہونے پر سب کا یقین ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں پائے جانے والے آثار قدیمہ نسبتا زیادہ بہتر حالت میں دریافت ہوئے، جو کہ انڈِن آرکیالوجیکل سروے نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حوالے کئے۔
یہاں جو بات قابل تشویش ہے وہ یہ کہ پاکستان میں آثار قدیمہ پر تحقیق کا دائرہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث محدود رہا ہے۔ پاکستان نے آزادی کے بعد وادی سندھ تہذیب کے حوالے سے پاکستان نے جو بڑھی کامیابی  حاصل کی ہے، وہ صرف مہر گڑھ کی دریافت ہے۔ مہرگڑھ کی دریافت سے ہی اس تہذیب کے پتھر کے دور کی نشادہی کی گئی۔  اس کے مقابلے میں اگر بھارت کا جائزہ لیں تو انہوں نے صرف ۲۰۰۰ سے ۲۰۰۵ کے درمیان ۱۶ مختلف ریاستوں میں کدائی کی۔ انڈین آرکیالوجیکل سروے کی مطابق صرف اندھرا پردیش میں پانچ پتھر کے دور کے مقامات دریافت کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے کشمیر، مدھیہ پردیش، کیرالہ، اور اتر پردیش میں لوہے کی دور کے آثار دریافت کئے۔
آثار قدیمہ کے تحفظ کے حوالے سے بھی پاکستان میں سخت کوتاہیاں برتی گئیں ہیں۔ عجائب گھروں میں کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے کئی بار اہنی نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔ ابھی پچھلے سال ہی ایک انگریزی روزنامے نے خبر چھاپی کہ لاہور کے عجائب گھر میں معمولی صفائی کو دوران بدھا کے مجسمے کو نقصان پہنچا۔ اسکے علاوہ مافیاز کا کاروبار بھی عروج پر ہے، جو اپنےایجنٹوں کے ذریعے نوادرات چرا کر باہر سمگل کر رہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت تب ملا جب ۲۰۱۶ میں امریکی سفیر نے امریکہ میں پاکستان سفارت خانے کو بدھا کا ایک مجسمہ پیش کیا، جو ان کے مطابق پاکستان سے چرا کر امریکہ میں بیچا گیا۔
عجائب گھروں میں ہونی والی کرپشن کو چھپانے کیلئے طرح طرح کے جگاڑ لگائے جا رہے ہیں۔ جسمیں اصلی نودرات کی ہوبہو نقل عجائب گھر میں رکھ دی جاتی ہے، جبکہ اصل کا کچھ اتا پتا نہیں چلتا۔ یہ واقعات نہ صرف عالمی طور پر ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ عجائب گھروں میں پائی جانے والے نوادرات کی کریڈیبیلٹی بھی مشکوک ہو رہی ہے۔
موہنجودڑو شہر جسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، ہر برسات کے موسم میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ ایسے میں یہاں ثقافتی فیسٹول بھی منعقد کئے جا تے ہیں۔ جو کہ یقینا کسی حد تک دیواروں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتوں کو چاہئے کہ ترجیحی بنیادوں پر شفاف طریقے سے، تمام عجائب گھروں میں ماہر کنزرویشنسٹس کی خدمات لیں۔ اور کرپشن کی مکمل تحقیقات کرکے، قوم کو ماضی سے محروم کرنے والوں کو انصاف کے کٹھرے میں لائیں۔
ہائیر ایجوکشن کمیشن مختلف جامعات کے طلبہ کو تحقیق میں مدد فراہم کرے۔ ملکی جامعات کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹسمیں میں ماہر فیکلٹی سٹاف اور تحقیق کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
 نیزوادی سندھ کے تہذیب کے حوالے سے خصوصا پاکستان اور بھارت کے ماہرین اور طلبہ کو رابطے بڑھانے چاہئے اور عمومی طور پر بین الااقوامی سطح کے سٹڈی ٹرپس کومزید فروغ دیا جانا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *