وزیرِ اعظم کی نئی زندگی

najam sethi

لندن کے ایک ہسپتال میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے دل کی جراحی نے ملک میں غیر معمولی طور پر بھونچال سا برپا کردیا ہے ۔ اُن کی پاکستان سے غیر حاضری کی وجہ سے پاناما انکشافات کی تحقیقات کے لیے قابلِ قبول ٹرمز آف ریفرنس وضع کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات جمود کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی کنفیوژن میں گھری ہوئی ہے کیونکہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے خارجہ پالیسی کے خلاکو پر کرنے کے لیے پورے جوش و جذبے کے ساتھ قدم رکھ دیا۔ دوسری طرف وزیرِ اعظم کو علیل دیکھ کر اپوزیشن کے جذباتی اشتعال، جو اُنہیں اقتدار سے نکال باہر کرنے پر کمر بستہ تھا، کی شدت کم ہوچکی ہے ۔ اس وقت محمد نواز شریف صاحب کے جذباتی حامیوں سے لے کر سخت ناقدین تک ، ہر کوئی اُن کی جلد صحت یابی کی دعاکررہا ہے ۔ اور تو اور، اُن کے بدترین سیاسی مخالف، عمران خان بھی اُن کے لیے ہسپتال میں پھولوں کا گلدستہ بھیجا اور صحت یابی کے لیے دعا کی۔ ان حالات میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اُنہیں درحقیقت ایک نئی زندگی ملی ہے ۔
پاناما لیکس کے بعد کی جانی والی مبینہ منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز پر ڈیڈلاک شروع سے ہی موجود تھا۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ ان تمام فوکس نواز شریف صاحب پر ہو، حالانکہ اُن کا نام پامانا پیپرز میں موجود نہیں ہے ۔ دوسری طرف حکومت کی قدرتی طو رپر یہ مرضی ہے کہ پاناما پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کی تحقیقات ہوں۔ حکومت تمام کام صبر وتحمل سے کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن وقت ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں، وہ فوری نتائج چاہتی ہے ۔ حکومت جہاں تک ہوسکے معاملات کو لٹکانا چاہتی ہے ۔ چونکہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے اہم ترین رکن، مسٹر اسحاق ڈار بجٹ کی تیاری میں مصروف رہے ہیں جبکہ وزیرِ اعظم ہسپتال میں ہیں تو یقیناًحکومت کے پاس معاملے کو التوا میں ڈالنے کا جواز موجود ہے ۔ دوسری طر ف اپوزیشن اس مرتبہ کوئی نرمی دکھائے بغیر سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ چاہتی ہے ۔ تاہم یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جون بہت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔ درحقیقت عمران خان نے بھی جولائی کو ڈیڈلائن سمجھ کر احتجاجی مظاہروں کی دھمکی دے دی ہے ۔ تاہم اپوزیشن میں سے بہت کم اُن کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے پیدا ہونے والی کنفیوژن پی ایم ایل (ن) کی طرف سے شخصی حکومت اور ذاتی فیصلوں کی پالیسی کا شاخسانہ ہے ۔ مشیر برائے امور خارجہ، تجربہ کار سرتاج عزیز ، معاون خصوصی برائے امور خارجہ ،طارق فاطمی اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی موجودگی کے باوجود چوہدری نثار نے دوہفتے پہلے ملاّ منصور کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کے بعد خارجہ امور پر اپنی رائے کا اظہار ضروری سمجھا۔بدقسمتی سے چوہدری صاحب کے بیان کے بعد معاملات الجھ گئے ۔ پہلے تو وہ پاکستانی فضائی حدود کی پامالی پر امریکہ پر گرجے برسے، اس کے بعد فرمایا کہ اُن کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص ملاّ منصور نہیں، کوئی اور ہے ۔ اس کے بعد جب طالبان نے بھی ہلاکت کی تصدیق کردی اور نئے امیر کا انتخاب بھی کرلیا تو کہیں جاکے چوہدری صاحب کو یقین آیا۔ اس کے بعد اُن پر ہونے والا اگلا انکشاف یہ تھا کہ امریکہ نے تو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہی نہیں، اُن کی طرف آنے والا ڈرون دراصل افغان فضائی حدود سے فائر کیا گیا تھا۔ جس دوران یہ سب تماشا چل رہا تھا، فارن آفس نے امریکی سفیر کو بلایا تاکہ سرخ لکیر عبور کرنے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے لیکن امریکی سفیر آرمی چیف کے پاس گئے اور معذرت کی اور معاملات کو بگڑنے سے بچایا۔ اس کے ساتھ ہی چوہدری صاحب کی کوئی رگ پھر پھڑک اُٹھی اور اس مرتبہ اُن کی نگاہِ انتخاب دفاعی معاملات پر پڑی اور وہ گرجے کہ جی ایچ کیو نے ایک سرحدی چوکی افغان فوج کے حوالے کیوں کردی ہے ۔ کیا ’’جس کا کام اُسے کو ساجھے ‘‘کی پالیسی پر عمل نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا ایک فل ٹائم وزیرِ خارجہ اور فل ٹائم سکیورٹی ایڈوائزیہ کام بہتر انداز میں نہیں کرسکتے ؟
ہمارا اصل مسلۂ وزیرِ اعظم کی علالت نہیں، کوئی انسان بھی طبی مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے، بلکہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر فوجی اسٹبلشمنٹ کی اجارہ داری ہے ۔ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ حکمران پارٹی کی صفوں میں موجودہ خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ان امور پر اپنا اثر قائم رکھتی ہے ۔ نواز شریف صاحب کا اندازِ حکمرانی، جس میں خاندان اور قریبی احباب کا غلبہ ہوتا ہے ، اس میں بہتر اور پیشہ ور افراد کی زیادہ گنجائش نہیں نکلتی۔ جب وہ رمضان کے اختتام کے قریب پاکستان لوٹیں گے تو شاید وہ سوچیں کہ وہ اگلے ایک دوماہ تک اقتدار پر کیسے موجود رہیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ تھرڈ امپائر ہمیشہ نیوٹرل ہوتا ہے اور عمران خان کی تحریک اپنے طور پر زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکتی۔
جنرل راحیل شریف کے جانشین کے نام کا اعلان اگست کے اختتام تک کیا جاسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت قانون سازی کرکے آرمی چیف کے عہدے کی مدت چار سال کردے ۔ اس سے جنرل شریف ایک سال مزید عہدے پررہیں گے اور کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ حکومت نے اُنہیں توسیع دی ہے ۔ تاہم اس کے بعد وہ زیادہ فعال نہیں رہ پائیں گے ۔ اس طرح یہ وقت گزرہی جائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ بدعنوانی اور بدانتظامی پاکستان کے بہت بڑے مسائل ہیں۔ ان پر قابو پانا ضروری ہے ۔ تاہم اس کے لیے سیاست کو ذات ،برادری، عقیدے اور شخصیت پرستی کے جال سے نکلنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *