کن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟

ramzan-mubarak-

مولانا محمد یوسف لدھیانوی

زبان سے کسی چیز کا ذائقہ چکھ کر تھوک دیا تو روزہ نہیں ٹوٹا، مگر بے ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔منہ سے نکلا ہوا خون مگر تھوک سے کم، نگل لیا تو روزہ نہیں ٹوٹا،انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا،روزہ دار نے زبان سے چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا

اگر خون منہ سے نکل رہا تھا، اس کو تھوک کے ساتھ نگل لیا تو روزہ ٹوٹ گیا، البتہ اگر خون کی مقدار تھوک سے کم ہو اور حلق میں خون کا ذائقہ محسوس نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، مگر تھوک جمع کرکے نگلنا مکروہ ہے۔بلغم پیٹ میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ، بلاقصد حلق کے اندر مکھی، دُھواں، گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ اگر حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا دُھواں خودبخود چلا گیا، یا گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا، اور اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

آنکھ میں دوائی ڈالنے یا زخم پر مرہم لگانے یا دوائی لگانے سے روزے میں کوئی فرق نہیں آتا، لیکن ناک اور کان میں دوائی ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اور اگر زخم پیٹ میں ہو یا سر پر ہو اور اس پر دوائی لگانے سے دماغ یا پیٹ کے اندر دوائی سرایت کرجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

اگر بھول کر کھاپی لے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہاں! اگر کھاتے کھاتے یاد آجائے تو یاد آنے کے بعد فوراً چھوڑ دے۔ لیکن اگر روزہ تو یاد ہو، مگر غلطی سے پانی حلق کے نیچے چلا جائے تو روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔

ہم بستری ایک آدمی کی بھول نہیں، اس میں دو افراد کی شرکت ہوتی ہے، اور جہاں بھی ایک سے زائد افراد کی شرکت ہو اور اس قسم کا عمل روزے کی حالت میں کیا جائے تو اس کو گناہ ضرور کہا جاسکتا ہے، بھول نہیں۔

قے اگر خود سے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر قے قصداً لوٹالے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور بلاقصد لوٹ جائے تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ وضو تو خون نکلنے سے ٹوٹ جائے گا، اور روزے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر خون حلق سے نیچے چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں۔ نیت دِل کے ارادے کو کہتے ہیں، جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرلیا تو نیت ہوگئی، زبان سے نیت کے الفاظ کہنا کوئی ضروری نہیں۔ دانت نکالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ خون حلق میں نہ گیا ہو۔ سرمہ یا پورے جسم پر تیل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

اگر روزے کی حالت میں احتلام ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، روزہ دار کو غسل کرتے وقت اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ پانی نہ تو حلق سے نیچے اُترے، اور نہ دماغ میں پہنچے، اس لئے اس کو کلی کرتے وقت غرغرہ نہیں کرنا چاہئے، اور ناک میں پانی بھی زور سے نہیں چڑھانا چاہئے۔

ٹوتھ پیسٹ کا استعمال روزے کی حالت میں مکروہ ہے، تاہم اگر حلق میں نہ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا:۔

Source : shaheedeislam.com/

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *