پنڈت جی سے ملاقات

b.a.alvi
محمد تہامی بشر علوی
5 مئی فیصل آباد ، گارویش ہوٹل میں منعقد بین المذاهب ورکشاپ میں برادرم محمد حسین ہمیں بهی لے چلے. وہان کے سبهی احوال تو ابهی نییں ابهی تو بس یہ دیکهیے یہ ہیں جناب پنڈت آشوک فانی صاحب اور جناب پنڈت ہری دیال سندهو صاحب، ان دونوں نے مل ملا کر ہندو مت کی جو صورت مجهے دکهائی آپ بهی اسے دیکهیے،
مین جلد ان سے آپ کو ملوانا چاہتا تها پر میں موقع کی تلاش کے باوجود موقع نہ نکال سکا، آج ایک حد تک اتنا وقت مل پایا کہ پنڈت جی سے احباب کی ملاقات کروائی جا سکتی ہے، سو قطار اندر قطار کهڑے ہو جائیے اور پنڈت جی سے ملیے، میں تبصرے سے قلم بچاتے ہوئے صرف ان کا کہا حافظے سے اتار کر آپ کے سامنے دهر دیتا ہوں، پنڈت جی کے کہے سے پهر حسب فہم نکات تلاشتے پهریئے، ہمیں تصویر دکها کر سرک جائیں گے. سو سنتے جایئے پنڈت جی کا کہا. میرے پوچهنے پر جو جو کچهہ انہوں نے بتایا وہ یہ تها.
1..همارے مزہب ہندو مت کا بهی ایک کلمہ ہے جس طرح مسلمانوں کا کلمہ ہوتا ہے، پنڈت جی نے وہ کلمہ مجهہ لکهہ کر دیا تها پر افسوس کاغظ گم ہو گیا، اس کا مفہوم یہ تها کہ
"آسمان زمین اور پاتال کا مالک اللہ ہے، چونٹی سے لے کر ہاتهی تک کی رکشا کرنے والی ذات اللہ ہے، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں اور اسے کبهی موت نہیں آنی"
2...پنڈت جی نے بتایا کے جس طرح آپ خدا کے نمائیندے کو رسول کہتے ہیں ہمارے ہاں جن پر رب کی راہ کهلی ان کو اوتار کہا جاتا ہے، خدا کو راضی کرنے کے لیے ہم اوتاروں کے کلام کو مانتے اور اسی طرح عمل کرتے ہیں.
3...مرنے کے بعد نرک اور سورگ کا تصور ہے، البتہ وہاں پہنچنے کے مراحل میں ذرا تفصیل ہے:
نیک ماتما(روح) پرماتما(روح مطلق یعنی خدا) سے مل جاتی ہے. یہ سب سے اعلی مقام ہے مرنے کے بعد. پهر اس نیچے کا درجہ فرشتوں کے ساتهہ رہنے کا درجہ ہے اور اس سے نیچے سورگ یعنی جنت کا مقام ہے. جو سورگ کے لائق بهی نہیں ہوتا اسے مخصوص مدت تک نرک یعنی جہنم میں سزا دے کر پهر اس کی روح کو دوبارہ زمیں پر بهیجا جائے گا کسی اور کی صورت میں جب تک یہ روح پاکیزہ ہو کر سورگ تک نہیں پہنچ جاتی اسے بار بار زمیں پر بهیجا جاتا رہے گا اور بعض اوقات جانوروں کی شکل میں بهیج کر اسے مشقت میں ڈال دیا جائے گا.
4..پنڈت جی نے بتایا کہ ہمارے مذهب میں تبلیغ کی اجازت نہیں پرچار کی اجازت ہے، اس کا مطلب انہوں نے یہ بتایا کہ مقصد خدا کو راضی کرنا ہے اس کے لیے کئی راہیں ہیں، مسلمان محمد ص کی پیروی کر کے اسے راضی کر سکتے ہیں اور ہندو اوتاروں پر اترے خدا کے پیغام کو مان کر اسے راضی کر سکتے ہیں اسی طرح دیگر مذاهب کے ماننے والے بهی. پرچار کا مطلب یہ ہوا کہ جو جس کا مذهب ہے اس کو اسی کے مطابق خدا کی راہ بتائی جائے اور تبلیغ یہ کہ دوسرے مذاهب کے ماننے والوں کو اپنے مذهب کے مطابق خدا کو راضی کرنے کا طریقہ بتایا جائے.
5..بتوں کی پوجا ہندو ہر گز نہیں کرتے، خدا کی کوئی شکل و صورت نہیں ہے البتہ اس کی صفات کا ظہور مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے، ان صفات کے تصور سے جو نقشہ ہمارے ذہن میں آتا ہے اس کے مطابق ہم بت کی صورت میں ایک شکل بنا کر اس کو سجدہ کرتے ہیں جو کہ حقیقت میں خدا کو سجدہ ہے نہ کہ اس بے جان پتهر کی مورت کو.
6...گائے نے ہمارے آخری اوتار کی بہت خدمت کی تهی اسی لیے ہم اس اوتار کی نسبت سے اس کا احترام کرتے اور اسے مقدس سمجهتے ہیں.
7...ہاتهوں میں کڑے اصل میں ہمارے پنڈت کی طرف سے باندها جاتا ہے جس کا مقصد پنڈت سے بیعت کرنا ہوتا ہے کہ ہم کسی برائی کی طرف نہیں بڑهیں گے. گویا یہ پنڈت سے کیے گئے برائی سے بچنے کے عہد کی علامت کے طور پہ بازو سے باندهہ دیا جاتا ہے.
8..محمد ص اللہ کے سچے رسول تهے، ان پر بهی خدا کا کلام اترا، مگر جو شخص جس قوم میں خدا نے پیدا کر دیا ہے وہ اسی کے مطابق خدا کے پیغام پر عمل کرے، ہندو قوم میں خدا کی راہ اوتاروں نے دکهائی ہے وہ اسی کی پیروی کے پابند ہیں.
9..ہمارے ہاں چلے کاٹنے کے لیے میلے کپڑے اور پاگلوں کا سا حلیہ اس لیے بناتے ہیں پنڈت کہ ان کا دنیا سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا وہ رب کی معرفت اور اس کی یاد میں مگن رہنا چاہتے ہیں اسی لیے میلے کچیلے رہتے ہیں کہ لوگ ان سے دور رہیں، کسی پر ان کا یہ راز کهل جائے تو وہ وہاں سے کسی اور جگہ چلے جاتے ہیں.
10... گوشت اور  انڈہ کهانے کی ہمارے مذهب میں اجازت نہیں ایسا نفس کو مارنے اور چلہ پکانے کے لیے کیا جاتا ہے.
11..مرنے کے بعد جلایا اس لیے جاتا ہے کہ انسان کے اجزا اس اصل کی طرف لوٹ جائیں جن سے یہ بنا. آگ ہوا مٹی پانی اور روح اس کے اجزاء ہیں، روح مرتے وقت خدا کی طرف چلی جاتی ہے، جلا کر کچهہ حصہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے کچهہ پانی میں بہہ جاتا اور کچهہ مٹی کا حصہ بن جاتا ہے.
آپ نے سن لی ناں پنڈت جی کی باتیں..؟
ہو گئے نا سوال پیدا..؟
ذہن میں گهسی ہندووں کی پہلی سے تصویر سے یہ تصویر مختلف لگ رہی ہے نا آپ کو..؟
سب بجا مگر میں کیا کروں اب..؟ پنڈت جی سے جو سنا اپ کو سنا ڈالا، اب آپ جانو اور پنڈت جی، میں بیچ سے نکلا.پهر آوں گا تب ملواوں گا سردار کپال سنگهہ صاحب سے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *