ہم کتنے ظالم ہیں!

naveed rasheed

زیادہ پُرانی بات نہیں 20سے 30 سال پہلے پنجاب کے دیہات اور شہروں میں قائم رسم و رواج جو صدیوں سے چلتے آ رہے تھے ،کسی نہ کسی طرح قائم و دائم تھے ، ان میں کچھ رسم و رواج اچھے تھے کچھ بُرے ، جو رسم و رواج بُرے تھے وہ ختم ہو جانے میں ہی لوگوں کی بہتری تھی ، مگر آپ اسے حالات کا جبر کہیں یا کچھ اور ، بُرے رسم و رواجوں کے ساتھ اچھے رسم و رواج بھی ختم ہو گئے ،خصوصا پنجا ب کے ہر گاوں میں رہنے کے کچھ اصول ہوا کرتے تھے یہ اصول تقریبا ہر ذات برادری قائم رکھے ہوے تھی، پنجاب کے اکثر گاوں ایسے ہوتے تھے جن میں ایک ذات برادری کے لوگ رہتے تھے یا ایسے سمجھ لیں کہ کسی ایک برادری کا ایک گاوں میں اگر اکثریت ہوتی،تو دوسرے گاوں میں کسی دوسری برادری کی اکثریت ہوتی ، اور بہت سے دیہات ایسے بھی ہوتے جہاں کسی ذات برادری کی اکثریت نہ ہوتی تھی ، بلکہ ہر ذات برادری کے لوگ ملی جلی تعداد میں رہتے مثال کے طور پر سنٹرل پنجاب میں اگر ایک گاوں جٹ برادری کا ہوتا تو دوسرا گاوں راجپوت برادری کا تو تیسرا گاوں آرائیں بر ادری کا ہوتا ،
گاوں میں کسی کے گھر شادی ہوتی تو ساری برادری اس فیملی کے پیچھے کھڑی ہوتی ، کوئی شادی کے گھر والوں کو شادی کے لیے دو یا چار من دودھ دیتا تو کوئی اپنی طرف سے کھانے پکانے کے لیے لکڑی کا بندوبست کرتا کوئی چاول اپنی طرف سے دیتا تو کوئی اپنے جوان جانور گوشت کے لیے زببیحہ کرتا ،ہر رشتے دار شادی والے گھر اپنی استطاعت کے مطابق اپنا حصہ ڈالتا ،یو ں شادی بیاہ پر ساری برادری ملکر سارے معا ملات اپنے ہاتھ میں لیتی، اوریوں شادی بیاہ خوش اسلوبی سے طے پا جاتے ، اگر گاوں میں کسی گھر فوتگی ہو جاتی پھر بھی ساری برادری پیچھے کھڑی ہو جاتی،یہاں تک کہ فوتیدگی پر آنے والے مہمانوں کے کھانے پینے کا خیال رکھا جاتا ، جہاں یہ سب کچھ ہوتا وہیں ہر گاوں چاہے وہ جٹ برادری کا ہو آرائیں راجپوت یا کسی اور برادری کا ، ہر گاوں میں ایک گھر موچی کمہار جولاہا ماچھی نائی لوہار فیملیوں کا بھی ہوتا ،تقریبا ہر گاوں عیسائی مذہب سے بھی ایک آدھ گھر ہوتا،
ہمارے معاشرے کا یہ سب سے بڑا المیہ یہ ہوا ، کہ ہم نے موچی کمہار جولاہا ماچھی نائی لوہار برادری کو اپنا زرخرید غلام سمجھنا شروع کر دیا ،، حالانکہ ایسا بلکل نہیں تھا ، یہ بلا کے جفا کش تھے ۔ محنت کرتے اور معاوضہ لیتے ، گاوں میں موجود یہ ذاتیں اپنے اپنے فن میں بے مثال ہوتے اگر کسی ایک گاوں میں موچی فیملی نہ ہوتی تو گاوں کے چوہدری سے لیکر چھوٹی ذات کے ہر شخص تک کسی کو جوتی نصیب نہ ہوتی لوگ سب ننگے پاوں چلا کرتے ، اسی طرح اگر کسی گاوں میں کمہار فیملی نہ ہوتی تو بڑی اورچھوٹی ذات کا ہر شخص اپنے گھر میں پتوں پر کھانا کھاتا اور چمڑپر رکھ کر کھانا پکاتا، اگر کسی گاوں میں جو لاہا فیملی نہ ہوتی تو گاوں کا ہر شخص جانوروں کی طرح کپڑوں سے آزاد ہوتا، اگر کسی گاوں میں نائی فیملی نہ ہوتی تو ، شادی بیاہ پر کھانے کون بناتا، گاوں میں موجود افراد کے بال کون کاٹتا شیو کون بناتا ،اسی طرح لوہار فیملی ہر گھر کے لوہے کی ضرور یات پوری کرتی، یا لوہے سے مطلق سارا کام ان کے ہاتھوں میں ہوتا ، ہر قسم کے فرنیچر کا کام بھی ان کے زمہ ہوتا جہاں یہ سب چھوٹی زاتیں گاوں کی ہر فیملی کے لیے اپنے اپنے فرض ادا کرتیں وہاں یہ نہ ہو تا کہ اگر کسی نے نائی سے بال بنوا لیے تو اسکو اسی وقت مزدوری ادا کرنا پڑتی بلکہ گاوں کے ہر گھر کا ان چھوٹی زاتوں سے ایک خاموش معاہدہ ہوتا ، اور اس خاموش معاہدہ کے عوض جب سال کے بعد گندم چاول کی فصل کاٹنے کا وقت آتا تو ، ہر گھر ایک مخصوص مقدار میں آناج ان چھوٹی زاتوں کے بطور معاوضہ ادا کیا جاتا ،یہ اس وقت کی بات ہے جب نا تو جوتے بنانے والے کارخانے بڑی تعداد میں موجود تھے نہ کپڑا بنانے والی ٹیکسٹائل ملز ، نہ سریے گاڈر کی سٹیل فیکڑیاں، نہ فرنیچر بنانے والے کارخانے ، نہ بڑے بڑے بیوٹی سیلون، نہ شیشے اور سٹیل کے برتن بنانے والے کارخانے ، اس وقت ہر کام چھوٹے پیمانے پر ہوتا تھا اور گاوں کی سطع پر ہوتا تھا ،
پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان چھوٹی ذاتوں کی نئی نسلوں نے اپنے باپ دادا کے کام کرنے سے انکار کر نا شروع کر دیا ، اسکے پیچھے کئی وجوہات تھیں ، گاوں میں جاگیردارانہ سوچ رکھنے والے لوگ ان ذاتوں سے اچھا سلوک نہ کرتے ، یہ بھی ایک بڑا فیکٹر تھا ، اسکے علاوہ تعلیم کا عام ہونا بھی ، اب صورتحال یہ ہے کہ احساس محرومی کا شکار یہ چھوٹی زاتیں شہروں کی طرف دھڑا دھڑ جا رہی ہیں اور اپنے مرضی کے کام کر رہی ہیں جبکہ شہروں میں بیوٹی سیلون اب بڑی زاتوں کے زمہ آچکے ، باہر کے ملکوں میں کام کرنے والے ہمارے نوجوان جو پاکستان میں نائی کو کمی کہہ کر پکارتے تھے خو دباہر کے ملکوں میں حجام کا کام کر رہے ہیں،
اسی طرح کپڑا اب جولاہوں کی زمہ داری نہیں رہا ، یہ کام اب آرائیں بھی کرتے ہیں راجپو ت اور جٹ بھی ، افسوس مگر اس بات کا ہے کہ جن کاموں کہ وجہ سے یہ چھوٹی ذاتیں اپنی زاتوں کے نام تک بدلنے پر مجبور ہو گئیں ، وہی کام اب کمرشلزم کی وجہ سے بڑی زاتیں دھڑلے سے کر رہی ہیں
خصوصا ہم نے موچی ذات کے افراد کو اتنا بُرا جانا، کہ نوے فیصد موچی لوگ اپنا پیشہ چھوڑ گئے ، جسکی وجہ سے آپ کو شہروں کے چوکوں چوراہوں پرپنجابی موچی کم ہی نظر آتے ہیں ، بلکہ اس خلا کو پُر کرنے پٹھان
آگئے ، قدرت کا اصول ہے جب کسی جگہ کوئی خلا پیدا ہوتا ہے تو قدرت اس خلا کر پُر کر دیتی ہیں ، آج پنجاب میں اگر موچیوں کا خلا پیدا ہوا تو چوکوں چوراہوں میں بیٹھے خوددار پٹھان وہ خلا پُر کر چکے ،
اور جن کاموں کی وجہ سے ہم نے لوگوں سے نفرت شروع کی ہمارے بچے کمرشلز کے دور کی وجہ سے وہ سب کچھ کر رہے ہیں، آپ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ کل کے کمی آج نواب بن گئے اور نوابوں کی اُولاد ترقی کر کے کمی کا رتبہ پا چکی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *