افغانستان :ناروے کی ناکامی، اسباب و جوہات

نصر ملک

nasar malik

            ناروے نے باقاعدہ اعتراف  کیا ہے کہ وہ افغانستان میں وہ مقاصد قطعاً حاصل نہیں کر سکا جن کے لیے ۲۰۰۱ء میں اُس نے اپنی افواج وہاں بھیجی تھیں۔ نارویجین فوجی تحفظات اور افغان ریاستی اداروں کی تعمیر نو اور بحیثیت مجموعی افغانستان کی تعمیر کے لیے اگرچہ منصوبہ بندی کی گئی لیکن ان اہداف کے حصول کے لیے ذرائعے اور افغان عملدرآمد کے طریقوں کے مابین شروع ہی سے تنازعے  کھڑے ہو گئے تھے جو افغانستان میں ناروے کے اہداف اور اس کی مدد سے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی کا سبب بن گئے ۔ یہ بات ناروے کی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ  کے اعلیٰ ترین عہدیداروں پر مشتمل ایک ’’ خصوصی افغان کمیٹی‘‘ کی اُس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو آج (سوموار) اوسلو میں جاری کی گئی ہے ۔

  • ناروے نے ۲۰۰۱ء سے لے کر اب تک مختلف ترقیاتی منصوبوں اور فوجی مقاصد کے لیے گیارہ عشاریہ پانچ بلین کرونا کی خطیر رقم صرف کی ہے ۔ اس میں سے آٹھ عشاریہ چار بلین کرونا خالصتاً فوجی اور نیم عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے ۔
  • ۲۰۰۱ء سے لے کر ۲۰۱۴ء تک ناروے کے نو ہزار سے زائد فوجیوں  اور سرکاری اہلکاروں نے افغانستان میں خدمات سر انجام دیں ۔ جب کہ نو فوجی مارے گئے ۔
  • ناروے کی اہم ترجیحات میں افغان نظام تعلیم اور خاص کر لڑکیوں کے لیے تعلیم کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی سرکاری انتظامیہ کے پیشہ وارانہ رویوں کو درست کرنا اور  اہلکاروں کو تربیت دینا اور علاقائی اور مقامی دیہی ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا شامل تھا۔
  • نارویجین افواج اور ان کے امدادی سول عملے کے عہدیدار ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ ء تک افغانستان کے صوبہ فریاب میں متعین تھے اور یہ پورا صوبہ اُن کی عملداری میں تھے لیکن اب اس صوبے کا بہت زیادہ علاقہ اُن طالبان جنگجوؤں کے مستحکم قبضے میں ہے جن کے خلاف یہ ناریجین اور نیٹو میں شامل دوسرے ملکوں کے فوجی، امریکی سربراہی میں جنگ کرنے گئے تھے ۔

ناروے کی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ’افغان کمیٹی ‘ نے اپنی ایک سال کی تحقیق کے دوران بڑی خوردبینی سے اس بات کا جائزہ لیا اور تجزیہ کیا ہے کہ افغانستان میں پندرہ سال تک بر سر پیکار رہنے، امدادی منصوبوں کو  پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں پر صرف کیے جانے والی  لاکھوں بلین کرونا کی بھاری امدادی رقوم کے تصرف اور فوجیوں کی جدوجہد کا نتیجہ کیا برآمد ہوا ہے ۔

نارویجین ’ افغان کمیٹی‘ کے سربراہBjørn Tore Godal نے دارالحکومت اوسلو میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعتراف کے لہجے میں تسلیم کیا کہ، ’’ افغانستان میں طالبان اور دوسرے مسلح جنگجو گروپوں کی سرکوبی اور ملک میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے کئی سال سے بین الاقوامی فوجی و سول کوششوں کے   باوجود ملک کے بیشتر علاقوں میں اور خاص کر صوبہ فریاب جہاں نارویجین افواج متعین تھیں اور جو پورا صوبہ ان کی عملداری میں تھا وہاں آج بھی بڑے حصے پر طالبان کی حکمرانی ہے اور یہی نہیں بلکہ وہ  ۲۰۰۱ء  کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہیں اور بڑی ثابت قدمی دکھا رہے ہیں ۔

اس خصوصی رپورٹ میں شدید تنقید کرتے ہوئے  دوسری باتوں کے علاوہ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کوششوں کے دوران افغانستان کے متعلق دستیاب معلومات ، علاقائی و مقامی  (دیہی) صورت حال، تہذیب و ثقافت، سماجی روایات اور تنازعات کی حدِ وسعت کو خال خال دھیان میں رکھا گیا ۔

            رپورٹ میں کھل کر اعتراف کیا گیا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ناروے افغانستان میں اپنے تین بڑے اہداف میں سے صرف ایک کو پورا کر سکا ہے اور وہ یہ  ہے کہ ہم یعنی ناروے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ وہ عالمی دشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ  اور نیٹو کا ایک ’قابل اعتماد اتحادی‘ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم عالمی دہشت گردی کے خلاف لڑنے میں ایک حد تک کامیاب تو ہوئے لیکن اس کا یوں خاتمہ نہیں کر سکے کہ افغانستان میں یہ دوبارہ قدم نہ جما سکے ۔

رپورٹ میں کھل کر اعتراف  کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہمیں افغانستان میں پائیدار جمہوریت کے قیام کے لیے اتنے طویل عرصے تک جاری رکھے جانی والی کوششوں کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور بد قسمتی سے ہماری سب کوششیں ناکام رہیں ۔ ہماری بھاری امدادی گرانٹس اور امن کے لیے سفارت کاری، سب کچھ بے سود رہا ۔

نارویجین ’ افغان کمیٹی‘ کے سربراہBjørn Tore Godal نے دارالحکومت اوسلو میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا،  ’افغان کمیٹی کی نگاہ میں ناروے  نےافغانستان میں اپنی طویل عرصے کی موجودگی سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک ’بہترین اتحادی ‘ ہے۔ پریس کانفرنس میں یہ رپورٹ پیش کئے جانے دوران، اسٹیٹ سیکرٹریØystein Bø وزیر دفاع Ine Eriksen Søreideاور وزیر خارجہ  Børgr Brende بھی موجود تھے ۔

نارویجین حکام  کے مطابق افغانستان میں ناروے کے فوجی بھیجنے کے سامنے تین اہداف تھے جن میں سے بڑا ہدف یہی تھا کہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر ایک بہتر افغانستان کے لیے،  عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں اور ہمارے لیے یہی اہم بھی تھا کہ تمام عرصہ امریکی اور نیٹو کی عسکری اور دیگر کارروائیوں کا بھر پور اور ٹھوس انداز میں ساتھ دیں اور ہم  نے پوری ذمہ داری کے ساتھ ثابت کردیا ہے کہ ہم امریکہ و نیٹو کے با اعتماد اتحادی ہیں ۔ اور ہماری وفاداریاں  پائیدار ہیں ۔

وزیر خارجہBørge Brende نے رپورٹ تیار کرنے اور ناروے نے افغانستان میں کیا پایا اور کیا کھویا کو سامنے لانے والی کمیٹی کے سبھی ارکان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بڑی محنت سے رپورٹ تیار کی اور حقائق کو سامنے لائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ رپورٹ کا بغور مطالعہ کریں گے اور  دیکھیں گے کہ اِس روپورٹ کی روشنی میں ہم کیا سبق سیکھ سکتے ہیں ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے افغانستان میں مقاصد کے حوالےسے  کہا کہ ایک بڑا مقصد ابھی تک یہی ہے کہ افغانستان کبھی دہشت گردی کا گڑھ نہ بن سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ہماری کوششیں بڑی ’ پر خطر‘ تھیں اور یقیناً دیگر ذرائع بھی اپنائے جا سکتے تھے لیکن اب ہمیں اس رپورٹ کی روشنی میں موقع ملا ہے کہ ہم بصیرت حاصل کر سکیں ۔

وزیر دفاعIne Eriksen Søreide نے بھی ’ افغان کمیٹی‘ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب ہم اتنا کچھ جان چکے ہیں کہ ہم ’’ جامع بصیرت ‘‘ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اتنا کچھ تو سیکھ چکے ہیں کہ اپنے تجربات کو یکجا اکٹھا کر کے مزید بہت کچھ سیکھ سکیں ۔ انہوں نے رپورٹ کے ایک دو مندرجات کا حوالہ دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ افغانستان میں ناروے کی وسیع پر کوششوں کے ایک چھوٹے سے حصے نے مثبت نتیجہ بھی مہیا کیا ہے جس سے ملک میں ترقی کے تشخص کو تھوڑا سا بدلنے میں کچھ کامیابی ہوئی ہے  لیکن شائد یہ کامیابی دکھائی نہیں دیتی ۔

افغانستان میں ناروے نے کیا پایا اور کھویا کا جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے والی کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں افغانستان میں دی جانے والی  عالمی اور خاص کرنارویجین ترقیاتی امداد اور رشوت   کے درمیان تعلق پر بھی  روشنی ڈالی ہے ۔

رپورٹ میں کھل کر بڑے صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ’’ کمیٹی کو اس میں کوئی شک دکھائی نہیں دیتا کہ افغانستان میں ’ رشوت کا بازار گرم ہے‘،  ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹھیکے دیتے ہوئے ’’ راشی ایکٹر ‘‘ بڑی صفائی سے اپنا کام کر جاتے ہیں۔ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے امدادی گرانٹس اور سیکورٹی کے لیے مہیا کیے جانے فنڈز میں گڑبڑ بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ عالمی امداد پر انحصار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اِن عالمی امدادی گرانٹس نے رشوت کے فروغ میں بڑا حصہ ڈالا ہے اور رپورٹ میں اِس بارے دستاویزی شواہد موجود ہیں ۔ رپورٹ میں زور دیتے ہوئے تصدیق کی گئی ہے کہ  افغانستان کی مسلح افواج اور رشوت خوری  کے درمیان گہرا تعلق ہے ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *