موٹاپے سے پریشان افراد کے لیے نئی تحقیق آگئی

FAtty

جسمانی وزن میں اضافے سے پریشان ہیں اور اس میں کمی کے لیے اپنی غذا پر کنٹرول کررہے ہیں تو یہ وقت کے ضیاع سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ دعویٰ اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ غذا پر کنٹرول کی بجائے صحت کے لیے فائدہ مند چربی جیسے زیتون کے تیل سے بھرپور غذا موٹاپے سے نجات کے لیے بہترین طریقہ کار ثابت ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ساڑھے ہزار مرد و خواتین کا جائزہ پانچ سال تک لیا گیا۔ یہ سب رضاکار ذیابیطس ٹائپ ٹو یا امراض قلب کے خطرے سے دوچار تھے اور انہیں ایک سے تین غذاﺅں تک محدود کیا گیا۔ ایک گروپ کو پھلوں، سبزیوں اور زیتون کے تیل سے بھرپور غذا کا استعمال کرایا گیا، دوسرے گروپ کو گریوں کا استعمال کرایا گیا جبکہ تیسرے گروپ کے لیے ڈائٹنگ کو اپنایا گیا۔ 5 سال بعد یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد نے زیتون کے تیل سے بھرپور غذا کا استعمال کیا تھا ان میں جسمانی وزن میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تحقیق کے مطابق چربی کا استعمال کم کرنے سے توند پر کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ کمر کی چوڑائی چربی سے دور بھاگنے والے گروپ میں 1.2 سینٹی میٹر تک بڑھ گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے کم چربی والی غذا کی حمایت میں پالیسیاں تیار کی جارہی ہیں تاہم یہ موٹاپے پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں کرتیں درحقیقت زیتون کے تیل سمیت سبزیوں و پھلوں سے بھرپور غذا جسمانی وزن یا کمر کی چوڑائی پر زیادہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس غذا میں مچھلی، گریاں، سبزیاں، پھل اور زیتون کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل لینسٹ ڈائیبیٹس اینڈ اینڈوکرنولوجی میں شائع ہوئے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *