Site icon DUNYA PAKISTAN

سوچ نہیں مرتی …..

Share

بندہ مر جاتا ہے اس کی سوچ نہیں مرتی ،مرنے والا تو چلا گیا مگر اس کی سوچ اسے زندہ رکھتی ہے۔

 شاید اسی لئے فرانسیسی دانشور ڈےکارٹسDECARTS (1596تا1650)نے کہا تھا I THINK THEREFORE I AM.میں سوچتا ہوں اسی لئے میں ہوں۔رانا اعجاز سوچتا تھا اسلئے مرے گا بھی نہیں دفن ہو گیا مگر اس کی باتیں ابھی بھی فضا میں گونج رہی ہیں۔

عجیب، منفرد اور پراسرار شخص تھا۔ میری صرف ایک دو ملاقاتیں تھیں مگر انہی میں ہم گہرے دوست بن گئےتھے۔ بظاہر سیدھا سادا قصباتی باشندہ مگر اندر سے مضبوط مطالعے کا عالم فاضل دانشور، اس قدر گہرا کہ اسے مکمل پڑھنا بہت ہی مشکل تھا ۔میرا کوئی کالم شائع ہوتا یا ٹی وی پر کوئی تبصرہ چلتا تو اچانک فون آجاتا اور کہتا البرٹ کامیو کا THE JUST ASSASINیاد آ گیا۔

 ایک اور دن مجھے کہا مجدد الف ثانی اور اکبر اعظم کے دین الٰہی کی محاذ آرائی آج بھی جاری ہے ،کبھی فون پر مارکس کے اقتباسات سنا کر مجھے حیران کر دیتا۔میں ہر بار سوچتا کہ اس شخص نے کیا کیا پڑھ رکھا ہے، اپنے دماغ میں کیا کیا چھپا رکھا ہے؟

بڑے بڑے کاسمو پولیٹن شہروں سے دور قصبات میں بڑے بڑے نگینے چھپے بیٹھے ہوتے ہیں کچھ تو ذرائع ابلاغ سے دوری ان کے ہنر اور گہرائی کو چھپائے رکھتی ہے اور کچھ وہ خود بھی اپنے علم وفضل کی رونمائی سے گریزاں ہوتے ہیں ،ان گہرے لوگوں کے گوہر کو پانے کے لئے گہرے پانیوں میں تلاشی لینی پڑتی ہے ۔

رانا اعجاز بھی ایسا ہی تھا بات چلتی تو احساس ہوتا کہ اس نے لیہ سے بہاولپور کے سفر اورمہ وسال میں کن کن کتابوں کو کھنگال رکھا ہے وگرنہ اس کے چہرے پر ملکوتی سکوت تھا اگر موضوع نہ چھڑے تو شاید وہ اپنے خیالات بتانے پر آمادہ نہ ہو ۔ میری طویل نشستیں ہوئیں ،رانا اعجاز نے ایسا گھائل کیا کہ اس کا مداح ہو گیا ۔

کہنے کو وہ محکمہ تعلقات عامہ کا ریجنل افسر تھاوہاں بھی اپنی علمیت چھپا کر رکھتا ہوگا ،کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو جی سر جی سر کہہ کر وقت گزارتا ہوگا، ان کو کیا علم ہو گا کہ یہ جی سر جی سر کرنے والا سیدھا سادا افسر کتنا گہرا ہے، کتنا علم رکھتا ہے اور اس نے کیا کیا پڑھ رکھا ہے۔

میں کمزور دل کا مالک ہوں کوئی جاننے والا فوت ہو جائے تو مجھے یقین کرنے میں کافی دیر لگتی ہے ہمارے کولیگ اور دوست رمان احسان کو رخصت ہوئے برسوں بیت چکے ہیں مگر میں نے فون سے اس کا نام اور نمبر حذف نہیں کیا۔

رئوف کلاسرا کے ایک کالم میں پڑھا کہ رانا اعجاز بھی چلے گئے میں نے سوچا یہ کوئی اور رانا اعجاز ہو گا پھر شاکر حسین نے رانا اعجاز کی موت کا ذکر کیا۔ اس دوران رانا اعجاز کافون آئے کافی دن ہو چکے تھے ،میں نے امیدوبیم کی کیفیت میں رانا اعجاز کا نمبر ملایا تاکہ یہ شک دور ہو جائے کہ میرا رانا اعجاز ٹھیک ٹھاک ہے۔ 

رئوف کلاسرا اور شاکر حسین کا رانا اعجاز مرا ہے۔ بیل کافی دیر بجی اور پھر کسی خاتون نے فون اٹھایا اور کہا یہ رانا اعجاز کا نمبر نہیں ہے ،رانا اعجاز تو ایک ماہ پہلے فوت ہو چکے ہیں ۔تب مجھے احساس ہوا حقائق سے آنکھیں چرانے سے حقائق نہیں بدلتے ،میرا کلاسرا اور شاکر حسین کا رانا اعجاز وہی ایک تھا۔ 

حالانکہ سچ یہ ہے کہ رانا اعجاز نے بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی نہیں بتایا کہ اس کے دوستوں کا حلقہ اتنا وسیع ہے۔

فلسفہ حیات وموت کو سمجھنا اور سمجھانا بہت ہی مشکل ہے فلاسفروں اور مذہبی اسکالروں نے بہت توجیہات پیش کی ہیں مگر نوع انسانی تقدیر پر ہمیشہ شاکی ہی رہتی ہے انسانی جسم تو فانی ہے مگر سوچ ہمیشہ کے لئے لافانی ہے ۔

میرے دادا چودھری علی بخش میری پیدائش سے کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے مگر میرے والد چودھری فیض سرور سلطان انہیں ہر روز ہر معاملے میں یاد کرکے کہتے ابا جی حضور کے کھانے کے آداب یہ تھے ۔مہمانوں کی تواضع کا انداز یہ تھا ،ان کے چلنے اور پھرنے کا طریقہ یہ تھا۔ والد صاحب کی ان باتوں کی وجہ سے ہمارے گھر کا نظام دادا کے فرمان پر چلتا تھا۔

 کئی بار تو مجھے لگتا کہ میرے دادا اوپر کی منزل پر رہتے اور ہمیں احکامات بھیجتے رہتے ہیں، دادا زندہ نہ تھے مگر ان کے افکار زندہ جاوید رہے۔ رانا اعجاز بھی اس دنیا سے چلا گیا لیکن اس کی وہ فلسفیانہ مثالیں، اس کی داد اور اس کے تبصرے گاہے گاہے یاد آتے رہیں گے۔

ہماری دنیا میں اکثر تعلق غرض اور مطلب کے ہیں۔کام پڑ گیا تو دوستی اور رشتہ داری اچانک گہری ہو جاتی ہے، کام نہ ہوا تو ناراضی، کام ہو گیا تو چند دن کے شکریئے کے بعد پھر سے وہی اجنبیت، مگر کچھ لوگ بے غرض اور بے لوث ہوتے ہیں ۔

رانا اعجاز بھی ایسا ہی تھا نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا ، نہ کوئی گلہ نہ شکایت ،نہ اسے کوئی ٹرانسفر کروانی تھی اور نہ اسے کسی بڑے افسر سے کام ہوتا تھا چھوٹی سے چھوٹی کال کرتا تھا اور بڑی بات کرکے فون بند کر دیتا تھا۔

کورونا کی وبا تھوڑی تھمی ہے تو احساس ہوا ہے کہ طاعون اور ملیریا کی وبا کی طرح اس دور میں بھی بہت قیمتی نفوس جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جسٹس شریف بخاری انتہائی نفیس، ڈسپلنڈ اور اصولوں کے پکے شخص تھے۔ کشمیر کی آزادی کے مجاہد، پیپلز پارٹی کے سچے پیروکار اور حق و سچ کے ماننے والے رہے۔ ابھی چند روز پہلے ملک مشتاق اعوان بھی ہم سے دور چلے گئے۔ 

ملک مشتاق اعوان سے 1989میں شیخوپورہ کے ایک ضمنی انتخاب میں ملاقات ہوئی اور پھر ان کے ساتھ لندن، لاہور اور اسلام آباد کئی بار اکٹھے وقت گزارنے کا اتفاق ہوا ،جیلوں میں ان سے ملتا رہا۔ دوستوں کا خیال رکھنے والے اور ایثار کرنے والے شخص تھے ،آخری عمر تک متحرک اور جوش وجذبے سے بھرپور رہے ،خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

رانا اعجاز ہو، ملک مشتاق اعوان ہوں، جسٹس شریف بخاری ہوں یا ہم میں سے کوئی بھی ہو سب نے اس جہان سے چلے جانا ہے اصل بات یہ ہے ہم ایسا کچھ ضرور کرکے جائیں کہ اس کائنات میں کچھ بہتری ہو۔کچھ نہ بن پڑے کوئی عظیم کارنامہ نہ بھی کریں تو کم از کم انسانوں کےلئے مثبت سوچ رکھیں کسی کا استحصال نہ کریں۔

ضروری نہیں کہ ہم میں سے ہر شخص ہیرو یالیڈر ہو مگر کم از کم اچھا انسان تو ہو۔اس کے شر سے اس کے ارد گرد رہنے و الے محفوظ ہوں وہ کچھ بڑا نہ بھی کرے کم از کم انسانوں کے حقوق تو ادا کرے۔

میری نظر میں تو ہر وہ شخص ہیرو ہے جو اپنے معاملات میں نا انصافی نہیں کرتا اور کسی کا استحصال نہیں کرتا مثبت سوچتااور مثبت کام کرتا ہے۔

Exit mobile version