عقائد کا جبر

Ayeshaڈاکٹر عائشہ صدیقہ

حال ہی میں سینٹ نے قبروں کی بے حرمتی کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت دینے کے لیے ایک بل کی منظوری دی۔ جس دوران اس ملک میں رہنے والے اچھے دوست، واقف کار، رشتہ دار اور دیگر شہری تیزی سے فنا کے گھاٹ اتر رہے ہوں تویہ خبر یقیناًہر کسی کے لیے طمانیت کا باعث بنے گی کہ ان کے مرحومین کم از کم قبروں میں تو محفوظ رہیں گے، کیا ہوا اگر حکومت ان کو زندگی میں تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ راشد رحمان، ڈاکٹر فیصل منظور اور بہت سے دیگر افراد ، جو سفاک ہاتھوں سے چلائی گئی اندھی گولیوں اور تشد د کا نشانہ بن کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، کو ان کی قبروں میں تو تحفظ حاصل ہوجائے گا... اسے بھی غنیمت سمجھا جائے۔
جب ریاست شہریوں کو جان و مال کا تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوچکی، اس قانون سازی کو بہت بڑی پیش رفت قرار دیا جانا چاہیے۔ آج کل افراد کی حیثیت اعداد وشمارسے زیادہ کچھ نہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کی گنتی میں اضافہ زندہ بچ جانے والے افراد کی زبانوں پر قفل ڈال دیتا ہے کہ مبادا زبان کی جنبش اُنہیں بھی اسی انجام سے دوچارکردے۔ گزشتہ سال ہونے والے ایک قتل کی حالیہ دنوں سامنے آنے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس ڈاکٹر کو اس لیے ہلاک کیا گیا کہ وہ لبرل نظریات رکھتا تھا۔ اسی طرح راشد رحمان کو بھی اسی لیے گولی ماری گئی کہ اس پر الزام تھا کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا جس کی سزا ایک اسلامی معاشرے میں موت کے سوا کچھ نہیں۔ تاہم انصاف کا تقاضا ہے کہ جب تک کسی پر جرم ثابت نہیں ہوتا، اُسے بے گناہ سمجھا جائے۔
میری طرح بہت سے دیگر افراد ا جونصاف کے حوالے سے وسیع تر نکتۂ نظر رکھتے ہیں، کو ان قوانین کا ٹھنڈے سے جائزہ لینا چاہیے کیونکہ ہم انتہائی عقائد کے جبر میں پسی ہوئی قوم ہیں۔اب جبکہ پاکستان ایک صفِ اول کا ملک نہیں اور عالمی طاقتیں سے خطے سے جارہی ہیں تو پاکستان کی صورتِ حال مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ایسے معاشرے اور سیاسی نظام جو کسی قدآور شخصیت کے گرد گھومتے ہیں، میں کسی غیر جانبدار ثالث کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔ کسی نظام کی غیر موجودگی میں ایسے معاشرے کسی غیر جانبدار ثالث کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ انصاف پسند نہ ہو لیکن اس کا قدرے یا مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا مختلف سٹیک ہولڈرز کے لیے قابلِ قبول ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب، مثال کے طور پر ، امریکہ ایسے ثالث کا کردار ادا کیا کرتا تھا اور سول سوسائٹی مختلف معاملات میں اس کی مداخلت کی طرف دیکھتی تھی۔ مداخلت کا مطلب ہر مرتبہ فوجیں لے کر چڑھ دوڑنا نہیں ہوتا، بلکہ اخلاقی اور سیاسی دباؤ بھی مداخلت کی ایک شکل ہی ہوتی ہے۔ تاہم آج کی دنیا میں ایسا کوئی ثالث دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری سول سوسائٹی کے لیے مشکل یہ ہے کہ سعودی بھائی مخصوص حلقوں کی بات کرتے ہیں جبکہ چین کو ایسے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ مداخلت اور ثالث کی غیر موجودگی میں ریاست اور اس کے پارٹنرزعوام کو خائف رکھ سکتے ہیں۔ یہ بات کہنا اچھا نہیں لگ رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلسل خوف کا عنصر کسی معاشرے کے پوٹینشل کو کم کرتے ہوئے اسے مسائل سے نبردآزماہونے کے قابل نہیں رہنے دیتا۔ کسی بھی شخص کا قتل دیگر افراد کو خوفزدہ کرتے ہوئے ان کی مثبت فعالیت کو کم کردیتا ہے۔ لوگ اپنے ارد گرد انتہا پسندی اور مذہب کے نام پر بہنے والے خون کو دیکھتے ہوئے اس کے خلا ف زبان کھولنے یا اس کے خلاف احتجاج کرنے کی جرات نہیں کرتے۔ وہ گھبرائی ہوئی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں لیکن کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ ایسے معاملات زیرِ بحث لانے کے امکانات کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔ سچائی کے لیے ثابت قدمی سے کھڑا ہونا دلیری نہیں حماقت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون کس کا گلا کاٹ دے۔ ان حالات میں جو افرادوسائل رکھتے ہیں، ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ملک کے باصلاحیت نوجوان بیرونی ممالک جارہے ہیں لیکن کسی کو اس برین ڈرین کی کوئی پروا نہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ کر جارہے ہیں لیکن وہ لوگ جو حساس طبیعت اور فہم و فراست رکھتے ہیں، ان کی تعداد یقیناًکم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈگری ہولڈز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن ان میں سوچ کا فقدان ہے۔ کیا یہ بات ہمارے اربابِ اختیار کے لیے باعثِ تشویش ہے ؟
گزشتہ دنوں جب ڈبلیو ایچ او(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)نے خبردار کیا کہ پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد حد سے تجاوز کرچکی ہے اور ا س ضمن اس کچھ پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو ہمارے دفترِ خارجہ کی ترجمان نے فوراً ہی پریشان پاکستانیوں کے خدشات کو کم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف ایک ’’تجویز ‘‘ ہے، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ شاید ہمیں بھی مس اسلم کی طرح پریشان نہ ہونے کا کورس کر لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمیں دوسروں پر الزام عائد کرنے اور بات بات پر سازش کی بو سونگنے کی بھی مہارت ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک یہ بات کی جاتی ہے اور ہونے والا تشدد دراصل غیر ملکی سازش ہے اور یہ کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی جان نہیں لے سکتا۔ افسوس، تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے جس تلخ حقیقت سے واسطہ پرتا ہے وہ ہمارے اس رٹے ڑٹائے جملے کے برعکس ہے۔ ہم اور ہمارے آباؤ و اجداد کا تعلق مختلف تہذیبوں سے تھا۔ غالب آنے والے طبقوں نے ہم سے خدمت لینے کے لیے تشدد کی راہ اپنائی اور پھرہم نے بھی ایسا ہی کیا۔ تاریخ کے اس چکر میں ہم اپنی غلطیوں کو بھول کر دوسروں کی سازش کو تلاش کرنا سیکھ گئے۔
ہماری ریاست کے بہت سے حلقے یقین رکھتے ہیں کہ پولیو کی وجہ سے سفر ی پابندیاں دراصل کسی غیر ملکی سازش کا شاخسانہ ہے۔ اسی طرح غیر ملکی طاقت کے ایجنٹ شکیل آفریدی کے سر الزام تھوپنا بھی بہت آسان اور اس کے ہوتے ہوئے ہم ان مذہبی عناصر کو فراموش کرگئے جو بن لادن پر حملے سے بہت پہلے پولیو کے قطروں کے خلاف تبلیغ کیا کرتے تھے۔ یقیناًعوام کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی یادداشت بھی بہت کمزور ہے۔ اور پھر ہمارے لیے ساز ش اور سازش کی تھیوریاں ہی کافی ہیں، ہمیں تاریخ سے کیا سروکار؟
ایک لمحہ توقف کرتے ہوتے ذرا سوچیں کہ ہم مذہب کے نام پر جبر کرتے ہوئے کس طرح نئی تاریخ لکھنے کی کوشش میں ہیں۔ ساٹھ کے سے زائد وکلا کے خلاف توہین کا کیس دائر کیا گیا کیونکہ وہ ایک ایسے پولیس مین کے خلاف احتجاج کررہے تھے جس کا نام خلیفۂ دوم کے نام پر تھا۔ یقیناًوہ پولیس والے خلفائے راشدین میں کسی کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہوسکتا ہے کہ وکلا میں سے بھی کسی کا نام کسی اسلامی شخصیت کے نام پر ہوسکتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل قصور وار ان کے والدین ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت بہت سے احتجاج کرنے والے خود کو کوس رہے ہوں گے کہ وہ اس کا حصہ کیوں بنے۔ دراصل توہین کے جرائم میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو الزام لگا کر ثابت کرنے کی زحمت بھی کرنی پڑتی۔ الزام لگتے ہی لوگ مشتعل ہوکر ملزم کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔ بعض کیسز میں اسے موقع پر ہی ہلاک کردیا جاتا ہے۔ ہم بدعنوان اور نااہل تو تھے، اب ایک ترقی کا ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے عقائد کے حوالے سے جرائم کی سزا دینے میں مہارت حاصل کرچکے۔ اب ہم پہلے اپنا عقیدہ بیان کریں گے اور پھرجن کا عقیدہ ایسا نہیں ہوگا، ان پر حملہ کردیں گے۔ ہمارے ہاں ایمان کی پختگی سے یہی مراد ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *