’’ بے شک انسان خسارے میں ہے ‘‘

column kahani.noshi gillani

 گزشتہ دنوں کسی افتادِ طبع کے زیرِ اثر جہانِ ادب کے حوالے سے ایک تحریر مجھ سے سرزد ہو گیٔ ۔۔ تحریر کیا تھی بس جلے دل کی وحشت سرائےتھی جسے عرفِ عام میں نوحہ خوانی یا مزید عرفِ عام میں واویلا بھی کہا جا سکتا ہے۔ احباب نے اس قدر پذیرائی کی کہ حیرت سی ہوئی۔۔ کیونکہ دنیائےحرف و سُخن میں اپنی آمد کی پہلی دہائی میں جب کبھی ادب کے ان خود ساختہ دیوتاؤں کے حوالے سے ذرا سا بھی سچ بولنے کی کوشش کی تو گویا حقّہ پانی بند ہو جانےجیسی صورتحال پیدا ہو گئی ۔۔ اور ہم 'کُڑیاں تے چِڑیاں' لڑتی بلا کا ہیں لیکن تھکن جلد ہی خاموشی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ عجب طرح سے فطری نزاکتیں اور کچھ سماجی قباحتیں گھیر ے لیتی ہیں۔۔ لیکن اس بار یہ احساس ضرور ہوا کہ وقت نے معاشرے میں سچائی کے لیٔے گنجایٔشیں پیدا کردی ہیں جو بہت خوشگوار بات ہے۔ گویا ادب میں بھی بُت پرستی یا Hero worship اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ فیاض تحسین صاحب نے تو یہاں تک اصرار کیا کہ مذکورہ ادبی جاگیرداروں کے نام بھی لیے جایٔیں۔۔ جناب نام تو مَیں لے دوں لیکن پھر اُن جیالوں سے مجھے کوں بچائے گا جو خوشنودیٴ شاہ کے لیٔے مجھ سے وابستہ ایسی ایسی کہانیاں تراشیں گے کہ میں کیا میرے بزرگوں کی سوانح حیات کا بھی رُخ بدل کے رکھ دیں گے اور پھر سرِ شام کسی ٹی ہاؤس میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر داد دیتے اور وصول کرتے نظر آیٔیں گے۔ کمال تو یہ ہوگا کہ چند خواتین بھی ان میں شامل ہو جائیں گی ۔۔ بس پھر کیا گناہ اور کیا ثواب ۔۔ اور تو کیا بس اتنا ضرور ہوگا کہ طبیعت ان کہانی کاروں کی ہنر مندی کی قائل ہوجائے گی۔ لیکن نہ نہ کرتے بھی ایک بار پھر قلم سنبھال لیا ۔۔اس تمام دورانیے میں جب مَیں اپنے تئیں اس موضوع سے فرار کی کوشش کر رہی تھی،قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ ایک دن بھی ایسا نہیں گذرا جب ایڈیٹر گُلِ نوخیز اختر نے بار بار کی یاد دہانی نہ کروائ ہو اور کالم نہ لکھ سکنے کے احساسِ جرم سے نکلنے دیا ہو۔ سو اس اذیّت سے تنگ آکر آج لطفِ گوشہ نشینی کوترک کیا ۔ یہ بھی پردیس میں گزرے طویل برسوں کی دین ہے کہ گوشہ نشینی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ یوں بھی اپنی ذات سے مکالمہ میں جب سنہرہ پن جھلکنے لگے تو لگ جاۓ تو آس پاس پھیلے ہجوم کی کشش کم ہونے لگتی ہے۔ ترک وطلب کا قبلہ ہی بدل جاتا ہے ۔۔ درست یا غلط ، یہ تو رَب جانے ! ویسے بھی عمرِ عزیز کے اس حصّے تک آتے آتے اتنی شدید بارشِ سنگِ ملامت سے گزرے ہیں کہ اب جسم وجاں پر پتھر پڑیں بھی تو ضرب نہیں لگتی صرف نشان بنتا ہے ۔ اور یہ دُھول و داغ تو ملامتی فرقے کا ہار سنگھار ہیں۔ اُردو شعر و ادب کے مطالعے کے دوران ایک سوال کبھی کبھی تو ہرمنظر کا احاطہ کرلیتا کہ یہ بے شمار شخصی مغالطوں کا شکاردھندلے ذہنوں والے لوگ ایسے شفاف گوہرِ آبدار جیسے شعر کیسے کہہ لیتے ہیں ؟ شاید ڈاکٹر سلیم اختر ہی ان رویّوں کے پس منظر میں کارفرما محرکات کی وضاح کر سکیں کہ وہ نفیسیاتی تنقید کے ماہرین میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں ۔۔ یہ ادب، ادیب اور اس کے نفسیاتی الجھاؤ, سب کیا ہے ؟ ۱۹۹۴ میں جب قدرت نے امریکہ میں ہمارے مستقل قیام فیصلہ کیا تو ریاست کیلی فورنیا کا خوبصورت شہر سان فرانسسکو ہمارا مقّدر ٹھہرا۔ ہمسایہ شہر لاس اینجلس اُن دنوں ادبی گڑھ ہوا کرتا تھا ، اب بھی ہے۔ آپا نیّر جہاں اور اُن کے شوہر ذہانت بھائی، مجید اختر بھائی ،شفیق بھائی ،روزی، ظفر عباس، فرحت شہزاد، لالی چوہدری اور دیگر احباب کی مدد سے بہت اہتمام اور تسلسل سے مشاعرے برپا کرتےتھے ۔ پاکستان اور انڈیا سے شعرا کو مدعو کیا جاتا جن کے لیٔے سیرو تفریح سے لے کر ہر طرح کی سہولت و آرام کا سامان کیا جاتا۔ نیّر آپا کے خوبصورت اپارٹمنٹ اور عمدہ شاعر مجید بھائی کے گھر کا پچھلا برآمدہ جسے ’’ادبی ڈھابہ’’ کا نام دیا گیا تھا، پُر لطف شعلہ بیانیوں کی آماجگاہیں تھیں۔ اس دور میں باقاعدہ مشاعرہ بازی ہمارے بھی مشغلوں میں شامل تھی ۔۔ شاعری کا سرور اپنی جگہ مگر ساتھ ہی ساتھ منتظمین کو باجماعت حواس کو منجمد کر دینے والے تجربوں کا بھی سامنا رہا کرتا ۔ گویا ہم سب ہی مہمان شاعروں کی حشر سامانیوں کی زد میں رہتے۔۔ مجھے یاد ہے کہ ایک عہد ساز شاعر جو پاکستان سے نیّر آپا کی دعوت پرتشریف لائے تھے اور اپنی بزرگانہ وضع قطع سے بہت ہی معصوم اور شفیق دکھائی دیتے تھے ۔ بعد از مشاعرہ بہت جوش سے اپنے تیرہ بچوں کی قابلیت کے بارے میں بتاتے بتاتے اچانک بھٹک گئے۔اور بغیر کسی لحاظ کے امریکہ میں اپنے موجودہ قیام کے دوران غیر مرئی صنفِ نازک اور اپنی طلسماتی بزرگی کے حُسن کی ان گنت داستانیں سنانےپر تُل گئے اور ایسا وجد طاری ہوا کہ ان کے رعشہ زدہ ہاتھ مزید شدت سے کانپنے لگے۔ محفل میں موجود خواتین نے رخصت کا ارادہ باندھا ہی تھا کہ افتی نسیم اُٹھےاور اُن کے قریب جاکر ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور اُن شہرت یافتہ بزرگوارم کو اطلاع دی کہ حضورکرسی پر بیٹھ جایٔے پانی قالین پر چھلک رہا ہے، آپ کی ضعیفی اس قسم کی قصہ خوانی کی متحمل نہیں ہو سکتی- وہاں سے اپنے گھر پہنچتے ہی مَیں نے ان کے شعری مجموعہ سے معذرت چاہی اور اُسے تہ خانے میں گُم کر دیا۔ آخر یونہی تو نہیں قرانِ پاک میں ربِّ باری تعالی نے فرمایا کہ ، ’’ بے شک انسان خسارے میں ہے ‘‘

’’ بے شک انسان خسارے میں ہے ‘‘” پر بصرے

  • Zafar Mirza
    جون 8, 2016 at 10:20 PM
    Permalink

    آپ انیس شاہ جیلانی کا سفر نامہ " مقبوضہ ہندوستان " پڑئئں

    Reply
  • جون 9, 2016 at 12:25 PM
    Permalink

    لائق مبارک باد تحریر۔ ادیبوں کا ایک رویہ کسی قدر وضاحت طلب ہے۔ جب کوئی خاتون شاعری کے میدان میں اترتی ہے تو بہت سے بزرگ شعرا یہ تاثر دینے کی کوشش کیوں کرتے ہیں کہ ’’یارا ں دا ای کم اے‘‘۔ عورت کی شاعرانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

    Reply
  • جون 10, 2016 at 1:05 AM
    Permalink

    ایسی بے شمار کہانیاں اکثر سننے کو ملتی ہیں. . آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں اور خوشی کی بات ہے کہ آپ نثر کے میدان میں بھی اپنا اعتراف کرا رہی ہیں اور اسی بہانے یادیں قلمبند ہو رہی ہیں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *