مولوی صاحب اورتہذیبی ارتقا

naeem-baloch1مولوی کا مطلب ہے اللہ والا۔ کوئی ایک صدی پہلے تک اصطلاحاً یہ لفظ پڑھے لکھے اور مہذب شخص کے لیے استعمال ہوتا تھا۔اس زمانے میں علم اورتعلیم سے مراد دینی تعلیم ہی ہوا کرتی تھی۔ مسلم معاشروں میں ابھی مغربی کلچر کا اثر عام نہیں ہوا تھا، لیکن جیسے جیسے مسلم معاشروں پر علم کے دور جدید کاسیاسی،معاشرتی اور علمی غلبہ گہرا ہوتا گیا، اس کا اثرلباس سے لے کر رہن سہن اور کھانے پینے تک درآیا۔اس تبدیلی نے برصغیر میں ہی نہیں بلکہ کم و بیش دنیا کے ہرمسلم معاشرے میں چار طرح کے طبقوں کو جنم دیا۔ پہلا طبقہ وہ ہے جس کا تعلق مذہبی مدرسے،خانقاہ اور مسجد سے تھا۔ اس طبقے نے پوری شدومد کے ساتھ مغرب کے علم، فکر، تہذیب اور اس کے اظہار کی ہر علامت کومردود قرار دیا۔اس نے اپنے ظاہر ی حلیے سے لے کر اپنی معاشرت تک کو حتی الامکان اس کے اثر سے محفوظ رکھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مذہبی طبقہ ان سیاسی حکومتوں کاایک عرصے سے حصہ تھا جن کی حکومتوں کو ختم کرکے غیر مسلم حکومتیں ان پر قابض ہوئی تھیں۔اس لیے وہ دشمن کی تہذیب کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ دوسرا یہ کہ اس سے ان کی مذہبی اجارہ داری شدید خطرے میں پڑ گئی ۔چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں مسجد، مدرسہ اور خانقاہ سے متعلقین تمام لوگ، ابھی تک ڈاڑھی، ٹوپی، پٹکا، شلوار قمیص وغیرہ کا سختی کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔
دوسرا طبقہ عوام الناس کا ہے جو ذہنی طور پر کم از کم حلیے کی حد تک اسی چیز کو بہتر اور دین کا تقاضا سمجھتا ہے جو پہلے طبقے نے ا پنا رکھا ہے لیکن جدید طرزِ زندگی کو ایمان کی کمزوی کی وجہ سے اپنائے ہوئے ہے۔ اس طبقے کے ہاں توڑ پھوڑ تیزی سے جاری ہے اور یہ تیسرے اور چوتھے طبقے میں داخل ہو نے کے مرحلے میں ہے۔
تیسرا طبقہ وہ ہے جس کا مذہب سے اصلاً اعتماد اُٹھ چکا ہے، وہ اسلام سمیت تمام مذاہب کو ماضی کا قصہ سمجھتا ہے اور اگر کوئی اللہ یا اسلام پر یقین رکھتا بھی ہے تو وہ اس کا اپنا مخصوص قسم کا مذہب ہے جس کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے وہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی مانند ہو گا۔ اس طبقے نے پوری آمادگی کے ساتھ جدید بودو باش کو اپنا لیا ہے اور ان کے ہاں مولویانہ طور طریقے انتہا ئی دقیانوسی ہیں اور کسی کو مولوی قرار دینا گالی سے کم نہیں۔
چوتھا طبقے وہ ہے جس نے اپنی استعداد کے مطابق مگر پورے شعور کے ساتھ اس مسئلے کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا جہاں تک عقائد و عبادات اور حلال وحرام کا تعلق ہے، اس کے اندر کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی، البتہ تہذیب میں تبدیلی نا گزیر ہے۔ لباس سے لے کر حلیہ،دستر خوان سے لے کر تفریحات تک، ہر چیز میں تبدیلی نا گزیر ہے، چنانچہ یہ لوگ ڈاڑھی، ٹوپی، پٹکا، شلوار قمیص وغیرہ کو کوئی مذہبی اہمیت نہیں دیتے۔ ان میں سے کچھ لوگ ان چیزوں کو مذہب کی علامت سمجھتے ہیں اور بس علامتی طور پر ہی اسے اختیار کرنے کو کافی سمجھتے ہیں۔ فی الوقت معاشرے میں ان کی تعداد سب سے کم ہے۔
آئیے اب ہم ان چاروں طبقوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے مولوی صاحب کو لیتے ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کو براہ راست اخذ کرنے کے بجائے اسے اپنے اپنے مخصوص فرقوں، مدرسوں اور سلسلہ تصوف کے بزرگوں کے ذریعے سے سمجھا ہے۔ وہ یا تو کسی کے مقلد ہیں یا کسی کے مرید۔ ان کے ہاں اسلام سمجھنے کی نہیں صرف ماننے کی چیز ہے۔ اسی لیے وہ مذہب اور عقل کو دو متضاد چیزیں سمجھتے ہیں۔ اپنے افکار، نظریات اور روایات کے علاوہ ہر چیز کو گمراہی یا کم از کم دنیا کی بے حقیقت شے گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک بے ڈاڑھی، بے پردہ مردو خواتین اگر جہنمی مخلوق نہیں تو کم از کم فاسق و فاجر اورگمراہ ضرور ہیں۔ان متقی لوگوں نے کبھی عقل و فہم اور تنقیدی نگاہ سے اپنا تجزیہ نہیں کیا ہوتا۔ ورنہ ان کو معلوم ہوتا کہ وہ صرف چند ظاہری چیزوں کے علاوہ کم و بیش ہر چیز اختیار کر چکے ہیں۔غور کیجیے جب ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی جیسی چیزیں جو خالص مغربی علوم وفنون کی ترقی کی وجہ سے معاشرت میں داخل ہوئیں، ان کے ہاں شروع شروع میں حرام کے درجے کی تھیں، اور اب بھی انتہائی متقی قسم کے لوگوں، یا بقول شخصے جنھیں مخصوص تقویٰ کا دا ئمی ہیضہ ہوا ہوتا ہے، کے ہاں ممنوع ہیں۔ لیکن جمہورقسم کے مولوی حضرات بلا تکلف ٹی وی، میوزک، فلم، موبائل، کیمر ہ وغیرہ کی برکات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ اب یہ چیزیں ان کی زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ اسی لیے ان جیسے مولوی حضرات کثرت سے مل جائیں جو پوری فحش فلم دیکھنے کے بعد فرمائیں گے، لاحول ولا قوۃ۔ ان سے انھی کی رائے کے مطابق غیر محرم خواتین سے فیس بک اور موبائل پر گھنٹوں پیغام رسانی یا گفتگو فرمائیں گے لیکن اس وقت نہ انھیں غص بصر کا خیال ہو گا، نہ پاکیزگی نیت کا خیال۔ فتویٰ کی زبان میں پوچھیں تو تربوز کے پانی سے وضو کا جائز اور ناجائز ہونا بھی بتا دیں گے لیکن انٹر نٹ سرفنگ کرتے، سپر سٹور پر شاپنگ کرتے،تعلیمی اداروں میں تعلیم پاتے، کاروباری یا جاب کی مصروفیات کے دوران میں ذرا ان سے پوچھیے کہ حضرات آپ کا فتویٰ کہاں ہے؟ کیا آپ اپنی اس فقہ کے ساتھ، جس کو آپ مانتے ہیں،یہ ساری activities کر سکتے ہیں؟ کیا آپ زبان حال سے یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ کا جامد فکری سرمایہ اور ورثہ موجودہ تہذیبی ترقی کا ساتھ نہیں سے سکتا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ عملی زندگی میں آپ بالکل بھول جاتے ہیں کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے بہشتی زیور میں کیا فرمایا ہے اور مولانامودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تفہیم القرآن میں سورۃ احزاب کی تشریح میں خواتین کے حوالے سے کیا کچھ کیا لکھ دیا ہے! دراصل یہ سب کچھ خود ان کے لیے ناقابل عمل ہو گیا ہے۔
ایک روشن خیال مولوی صاحب نے ترنگ میں آکر یہ دعویٰ کر دیا کہ دور جدید کا بانی مذہب اسلام ہے، کیونکہ شرک کی عالمگیر مغلوبیت اور توحید کی عمومی فتح کی وجہ سے مظاہر فطرت کی پرستش کے بجائے اس پر تحقیق ہونے لگی، اسی وجہ سے سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ ایسی باتیں مخصوص قسم کے بسم اللہ کے گنبد میں تو چل جاتی ہیں لیکن سر عام اس کی تصدیق کرانا ذرا مشکل ہے۔ چنانچہ یہ دعویٰ سن کر ان کا ایک فیس بکی ہندو پوچھ بیٹھا: حضرت آپ کو آپ کے تقویٰ کی قسم، بتائیے تصویر کے بارے میں ائمہ فقہ کی کیا رائے ہے؟کیا کوئی اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتا ہے؟ اگر نہیں تو آپ کو منصور حلاج کے نعرہ اناالحق کی قسم، فرمائیے، تصویر بنائے بغیر دنیاترقی کے اس دور میں داخل ہو سکتی تھی؟ اتنی بڑی قسموں کے باوجود وہ حضرت کیونکہ کج بحثی میں phdتھے، بولے: کیا آپ نے ابن الہیثم، ابن سینا، فارابی، ابن رشد، الادریسی،ابن مسکویہ وٖغیرہ کے نقشے، تصویریں اور گراف وغیرہ نہیں دیکھے؟ وہ ہندو مردود بھی کافی پڑھا لکھا نکلا، برا سا منہ بنا بولا: اچھا، اب سمجھ میں آئی بات کہ ان تمام سائنسدانوں پر اس وقت کے مولویوں نے زندیق، کافر، مردود اور گمراہ وغیرہ ہونے کے فتوے کیوں لگائے تھے؟ جواب میں ان مولوی صاحب نے اسے گاؤ ماتا کے پوتر پیشاب سے منہ دھونے کا مشوہ دیا اور انھیں unfriendکر دیا۔
ایک سکھ مہاراج اس وقت زیر بحث مولویت کا شکار بنے جب وہ ایک تبلیغی کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ جذباتی اتنے ہوئے کہ فوراً ڈاڑھی کی تہذیب کر ڈالی۔ اور تین دن کی چھٹی لے کراسپتال میں داخل ہوئے، بڑے خشوع و خضوع سے ختنہ کروایا، پھر تین ماہ کے چلّے پر چلے گئے۔ اب جب وہاں تہجد، فجر، اشراق،چاشت ،ظہر،عصر، مغرب،اوابین اور عشا کے بعد قیام اللیل کی ’’تپسیا ‘‘بھی باقاعدگی کی تو ذرا جذبات کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔ گھر آئے، ڈوبتے کاروبار کو سنبھالا دیا، بیوی بچوں کو بھی نئے مذہبی جذبے سے وقت دیا، تین ماہ ہی گزرے تھے کہ حضرت جی اگلے تین ماہ کے چلّے کے عوض جنت کی چابی تھامے حاضر ہو گئے۔ سابقہ بلدیو سنگھ اور نئے بلند علی نے ذرا د یر کی مزید مہلت مانگی تو حضرت جی ہتھے ہی سے اکھڑ گئے، ان کے اس رویے اور ایمان کو توکل، ضعفِ ایمان، دنیا داری اور کچھ دیگر بھاری بھرکم باٹوں سے تول دیا۔ آخر وہ بھی سکھ رہ چکے تھے۔ بولے، مہاراج، اس طرح تو میں مسلمان نہیں رہ سکتا، یہ مذہب تو اچھا ہے لیکن صرف فارغ لوگوں کے لیے مناسب ہے۔ میں تو باز آیا اس سے!
حضرت جی نے آنکھیں نکالیں اور فرمایا: معلوم ہے مرتد ہونے کی سزا کیا ہے؟ موت،صرف موت!!
بلدیو سنگھ انتہائی بے چارگی سے بولا:
عجیب مذہب ہے، اندر داخل ہو تو نیچے سے کٹواؤ، باہر نکلنا چاہو تو اوپر سے کٹواؤ!!!
ہو سکتا ہے آپ اس جواب پر شدید غصہ میں آئیں یا کھل کھلا کے ہنسیں، لیکن ان دونوں کاموں سے فارغ ہو کر اس کی بلاغت پر غور ضرور کیجیے گا۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *