کشمیریوں کو سکیولرازم کی تدریس

srinagarبدری رائنا

دکھی جذبات کے اس موسم میں، اب میری باری ہے۔۔۔ اور وہ بھی پورے زوروشور کے ساتھ۔ایک وسیع الجثہ لیکن کم ظرف منبر سے بہت تاخیر سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کشمیر، جس سے میری مراد صرف وادی ہے، کو عبداللہ خاندان نے ایک’’ کمیونل‘‘ مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔بمشکل تمام پوشیدہ ہونے والی بین السطور تحریریہ ہے کہ ایک طرح سے تو یہ ہمیشہ ہی سے ایک کمیونل مقام تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ کسی حد تک میری سیاسی اور روحانی زندگی ، ایک بنیادپرستانہ انداز کی حامل ہے ۔ اس کا سبب میرا بطور کشمیری پیدا ہونے اورپرورش پانے کا تجربہ ہے، اپنے سیکھے ہوئے دانشمندانہ تصورات کے قریب تر ہونے کااندرونی احساس ہے،ایک محسوس ہونے والی امارت ہے جو حتیٰ کہ اب عمر کے تہترویں برس میں اور وادی سے دوری کے پچاس سال بعد بھی میرے کام آتی ہے ۔ آج، حتیٰ کہ اس وقت بھی میں کسی برہمی کا مظاہرہ نہیں کر تا جب میں یہ کہہ رہا ہوتا ہوں کہ میں شدید غصے میں ہوں۔۔۔اور اس وقت بھی کسی مشتعل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرتا جب اس خطرناک لاعلمی کو دیکھتا ہوں جوکشمیری سکیولرازم کے متعلق یہ غیر ذمہ دارانہ رائے دے چکی ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ ان کے علاوہ گجرات میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو بہتر علم رکھتے تھے۔ ان میں ایک شخص موہن داس کرم چند گاندھی نامی بھی تھا۔۔۔جو اب صرف ایک یاد رہ گیا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے زمانے میں کہ جب برصغیر کا بڑا حصہ فرقہ وارانہ قتل عام کے سبب سرخ ہو رہا تھاتواس وقت وہ اکلوتی جگہ جہاں مہاتما گاندھی نے امید کی ایک کرن دیکھی وہ مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر تھی، اوریاد رکھیں، ہندوستان سے الحاق سے چند ماہ قبل تک ایسا ہی رہا۔
جہاں تک شیخ کا تعلق ہے، ریکارڈ ظاہر کرے گا کہ وہ مذہبی قوم پرستی کی ان تڑی مڑی ترغیبات کے سامنے خاصے عقل مند ثابت ہوئے کہ جو صرف انہی کے نہیں بلکہ دوسرں کے سامنے بھی پیش کی گئیں۔شیخ اس قدردانش مندانہ نکتہ نظر رکھتے تھے کہ انہوں نے جناح کو بتا دیا کہ تصور پاکستان کی حقیقت ایک جاگیردارانہ پنجابی قومیت کی سی ہو گی۔ حقیقت ایک مذہبی نعرے کے تحت بھیس بدلے ہوئے ہو گی۔ ان نعروں میں سے ایک ، ’’صوفی‘‘ کشمیر کا نعرہ کوئی عوامی حمایت حاصل نہ کرسکا۔اس وقت، جب شیخ کے ہم مذہبوں نے پاکستان کی نئی ریاست سے ایک حملے کے ذریعے مسئلے کو زبردستی حل کرنے کا منصوبہ بنایا، اور اس وقت جب کوئی کشمیری یا کوئی دوسری فوج جواباً حملہ کرنے کے لئے موجود ہی نہیں تھی، اس وقت شیخ کی گونجتی ہوئی بلند آواز ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ، ’’شیر کشمیر کا کیا ارشاد/ہندو، مسلم، سکھ اتحاد‘‘۔
اور مسلمان حملہ آوروں سے انہوں نے کہا، ’’حملہ آور خبردار/ہم کشمیری ہیں تیار‘‘۔کوئی بھی کشمیری جو اس وقت زندہ تھا اور ہوش و حواس میں تھا، جیسا کہ میں بھی تھا، اس کے لئے تاریخ کے اس لمحے کو بھلانا ناممکن ہے، چاہے بعد میں وہ جتنا بھی ناراض ہو گیا ہو۔تاریخ کی کتب پڑھیں، آپ کو معلوم ہو گاکہ مغل، جن کے کشمیری مسلمان سردارجنگیں لڑتے رہے، لیکن پھر بھی کشمیری مغلوں کو’’حملہ آور‘‘ ہی لکھتے رہے۔
بلاشبہ، غیر اعلانیہ پابندیاں خواہ جو بھی ہیں، وادی میں موجود صوفیوں کی درگاہیںآج بھی اسی طرح پر ہجوم ہیں جیسے ہمیشہ تھیں۔ انتہاء پسندوں کی جانب سے انہیں جلا دینے کی متعدد کوششوں کے باوجود،ایک حقیقت، جو ایک پیچیدہ سچائی کا ثبوت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا بھرمیںیہی مذہبی عقیدہ(اسلام)، کم کم ہی ایک بلاتفریق ، مشترکہ یا یکساں ورثہ رکھتا ہے، بلکہ ہر جگہ دوسرے ثقافتی گروہوں کے ساتھ مسائل اور اختلافات رکھتا ہے اور ایسی تاریخ کا حامل ہے جوتمام ثقافتی گروہوں کو یکجاء کرنے خواہشات کو ہمیشہ چیلنج کرتی ہے اور اگر ان خواہشات کو سرکاری سطح پر مسلط کرنے کی خواہش کی جائے تو متشددہنگاموں کی آفتیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ یقیناً، جب کوئی شخص کثیرالقومی ریاستوں میں مسلمانوں کو درپیش حالیہ اور موجودہ مسائل پر غورکرے گا تونہایت افسوسناک انداز میں یہ مسئلہ ظاہر ہو جائے گا۔
میرا ایمان ہے کہ کشمیر میں ایسی کوئی ثقافتی جنگ کبھی نہیں ہو سکتی۔ تاہم تاریخ کسی کو بالکل درست پیش گوئی کی اجازت کبھی نہیں دیتی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکاہوں کہ وادی میں اس طرح کے رجحانات، تاحال اس محبت کو تقسیم کرتے محسوس نہیں ہوتے ، جو کشمیری مسلمان ابھی تک پنڈتوں کے لئے اپنے دلوں میں رکھے ہوئے ہیں۔یہی وہ چند چیزیں ہیں جواس شخص کوبے انتہا مسرت سے دوچار کر دیتی ہیں جو کشمیریوں کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ انہی چیزوں میں سے ایک کشمیریوں میں نظر آنے والے بنگلہ دیشیوں کے رنگ بھی ہیں؟
تاہم،ایک چیز جو لازماً تلخی کااحساس دلاتی ہے، وہ یہ ہے کہ دور جدید کے گجرات سے یا برصغیر کے کسی دوسرے حصے سے کوئی شخص اٹھے اور کشمیریوں پر علاقائی تعصب یا گروہ بندی کا الزام لگا دے ۔ اگر کیرالہ سماجی اور انسانی ترقی کی فہرستوں میں تمام دوسری ریاستوں سے آگے ہے تو کشمیر اس سے بھی آگے ہے ۔ بہر حال یہ ہو چکا ہے۔ سکیولر ازم کی سمجھ بوجھ اور اس پر عملدرآمد ، ہر دو حوالوں سے کشمیر کی ریاست، باقی تمام ریا ستو ں سے آگے ہے۔ اگر آپ کو اس حقیقت کوہضم کرنا مشکل لگتا ہے تو پھر جائیں اور کچھ وقت کے لئے وادی میں رہیں اور مزید عقل مند ہو کر واپس آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *