کیا یہ بھی یہود و ہنود کی سازش ہے؟  

shakeela sher ali

ہر رات آٹھ سے دس بجے تک مختلف ملکی نیوز چینلز پر ہر قسم کا جغادری،قسم ہا قسم کے موضوعات پر بهانت بهانت کی آراء انتہائی تیقن سے پیش کرتا پایا جاتا ہے.ان میں سے بعض کی تان تو ہمیشہ اس اندهے اعتقاد پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان کو در پیش گوناگوں مسائل کی اصل وجہ' یہود و ہنود' کی وہ سازشیں ہیں جن کا بنیادی مقصد وطن عزیز کو چاروں طرف سے گهیر کر عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنا اور پهر اس کے(خدانخواستہ) ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے. اپنی اس تهیوری کو بیچنے کے لیئے آج کل ایک بہت ہی عمده اور دلچسپ موضوع ان کے ہتهے چڑهه گیا ہے اور وه ہے 'مودی سرکار' کا دورہء ایران وافغانستان اور وہاں انڈیا کے تعاون سے باالترتیب بندرگاه اور ڈیم کا تعمیرکیا جانا.اس سے پہلے شری مودی سعودیہ و قطر یاترا بهی کر چکے ہیں حتی کہ قطر کی جامعہ مسجد کے دروازے ایک کٹراوربنیاد پرست ہندو کے لیئے بهی کهول دیے گئے.نتیجتا" قطر اور سعودی عرب کی ہندوستان کے ساتهه تجارت کا حجم پہلے سے کئی گنا بڑهه گیا ہے بلکہ کئی ایسے شعبے جن میں پاکستان کو ان دونوں ممالک میں تقریبا" اجارہ داری حاصل تهی،اب بتدریج ہندوستان کی طرف کهسک رہے ہیں،کہاں ہیں ہمارے متعلقہ کارپرداز؟جناب انہیں اپنے اور اپنے اہلخانہ کے لیئے زیادہ سے زیادہ مراعات کے حصول سے ہی فرصت نہیں.یہ ہی حال ہماری سیاسی قیادت کے آئے روز کے بیرونی دوروں کا ہے کہ جن سے ملک کو تو کچه حاصل وصول نہیں ہاں البتہ کچهه لوگوں کی انفرادی طور پر چاندی ہو جاتی ہے- دورے ہوں تو پهر مودی کی طرح کے ہوں کہ بهیا دوسرے ممالک سے اپنے لیئے نہیں اپنے ملک کے لیئے لدے پهندے آئیں
معروضی حقائق کے ضمن میں یہ عرض کرتی چلوں کہ یہ تو ٹهیک ہے کہ چاہ بہار کی بندر گاہ اور سلمی ڈیم ہندوستان کے نقطہء نگاہ سے واقعی پاکستان سپیسفک ہیں لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبهی ہم نےغور فرمانے کی زحمت گوارا کی ہے کہ ہماری ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت ہمارے دوست ہمارے دشمن سے ہاتهه ملا کر اس کی گود میں جا بیٹهے اور ہم منہه دیکهتے رہ گئے؟کسی دانشور نے بالکل صحیح کہا تها کہ دشمن سے آپ کیونکر توقع رکهتے ہیں کہ وہ آپ پر نظر کرم فرمائے گا یا آپ کو پہلے سے خبردار کرے گا کہ' ہوشیار باش میں آپ کی جڑیں کاٹ رہا ہوں.' دشمن تودشمن ہے،وہ تو لا محالہ اپنے مخالف کو زچ اور آئسولیٹ کرنے کی منصوبہ بندی کرے گا ہی. یہ تو ہم پر ہے ناں کہ ہم کتنے الرٹ ہو کر اپنے بچائو کی تدابیر کرتے ہیں؟ لیکن ماشآللہ ہم خبط عظمت میں مبتلا وہ قوم ہیں کہ ' سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے' کے مصداق ایسے ایسے لوگوں پہ اپنا دست شفقت رکها کہ بعد میں ہمارے انہی " قیمتی اثاثوں" نے ہمارے اپنے بچوں کے گلے کاٹے.اس انتہائی غیر دانشمندانہ اور ضرر رساں اثرات کی حامل پالیسی کی تشکیل بهی غالبا" یہودو ہنود کی سازش تهی؟؟ ایک دنیا چیختی رہی کہ سب سے مطلوب دہشت گرد آپ کے ہاں ہیں مگر آپ مان کر نہ دیے لیکن پهر چشم عالم نے یہ تماشا بهی دیکها کہ وہ سب یکے بعد دیگرے ہمارے ہاں سے ہی برآمد ہوئے.کیا کہیں یہ بهی ایک سازش تو نہ تهی؟
کیا یہ بهی ایک سازش تهی کہ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد معاشی عوامل پر رکهنے کی بجائے نسبتا" کم اہم  سیکیورٹی ایشوز پر رکهی جس نے ہمیں ایک مسلسل حالت جنگ سے باہر ہی نہیں آنے دیا اور جس کی بنا پر ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ معاشی مستقبل دینے کے قابل ہی نہیں رہے .ہم نے اپنی بےحداہمیت کی حامل جغرافیائی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے معاشی گزرگاہوں کی کهوج ہی نہیں کی بلکہ جب دوستوں اور ہمسایوں نے رعایت مانگی تو ہماری سمجهه میں بات نہیں آئی بلکہ اس وقت ہم اپنے "سٹریٹجک" اثاثوں کو سنبهالنے میں مصروف رہے.ایسے میں پهر ظاہر ہے کہ دوسرے ہاتهه پر ہاتهه دهرے تو نہیں بیٹهے تهے،انہوں نے کچهه نہ کچهه تو کرنا تها ناں.مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہماری وژن سے عاری قیادت کو اب تک اس بات کا احساس نہیں ہواکہ یہ وقت خارجہ پالیسی کی جہت اور اس کے پیچهے کارفرما سوچ پر نظر ثانی کا ہے نہ کہ سازشوں کی بو سونگهنے کا.مانا کہ سیکیورٹی سے غافل نہیں رہا جا سکتا لیکن ایک اندرونی طور پر کمزور،اقتصادی طور پر دیوالیہ و مقروض اور معاشرتی طور پر منقسم ملک کیسے اپنا بهر پور دفاع کر سکتا ہے؟اب یہ فرسودہ سیکیورٹی پیراڈائم بمشکل ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے-سر ونسٹن چرچل نے خارجہ پالیسی کے بارے میں بجا طور پر کہا تها، "It actually begins at home."
اب کیا یہ بهی یہود و ہنود کی سازش ہے کہ ایٹمی صلاحیت رکهنے والا پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چهٹا بڑا ملک ہے لیکن اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی فہرست میں 147ویں نمبر پر ہے.دل گرفتگی کی بات تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور نیپال بهی اس پیمانے پر ہم سے آگے ہیں.ہیومن ریسورس کی ترقی کو جانچنے کے حوالے سے یو این او کا ایک اور پیمانہ خوشحالی انڈیکس کا بهی ہے خوشحالی انڈیکس میں ہمارا نمبر 130واں ہے.خوشحالی انڈیکس میں وہ ممالک شامل ہیں جنہیں آسودہ،امیر،صحتمند اور محفوظ کہا جا سکتا ہے.اس انڈیکس کو جانچنے کا پیمانہ متعلقہ ممالک میں وہاں کے شہریوں کی اوسط فی کس آمدنی،صحت و تعلیم کا اعلی معیار،حصول روز گار کے وافر مواقع،عوام کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی اور گورننس کا معیار شامل ہیں.سیدهی سی بات ہے کہ انسانی شعبہ میں ہونے والی ترقی کو اصل ترقی گردانا گیا ہے اور اسی کا ہمارے ہاں ہر دور میں بدرجہءاتم فقدان پایا گیا ہے.سوال پهر وہی ہے کہ، ' کیا یہ بهی یہودوہنود کی سازش ہے' ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *