وہ کایا پلٹ آئیڈیاز کہاں ہیں؟

khalid mehmood rasool

بجٹ 2016-17 کے ذریعے وزیر خزانہ نے جتنے سوالوں کے جوابات دیے، اس سے دوگنا سوالات بجٹ تقریر کے بعد کھڑے ہو گئے۔ پہلا سوال ہی ان کی سب سے فخریہ کامیابی پر اُٹھا۔۔۔ جی ڈی پی میں سالانہ اضافہ4.7 % نہیں بلکہ اس سے کہیں کم ہے ۔ ایک معاشی ریسرچ ادارے نے بڑی عرق ریزی کر کے جی ڈی پی میں اضافے کے متبادل اعدادو شمار بھی پیش کر دیے تاکہ عوام اور میڈیا ینکرز کو حوالہ دینے میں سہولت ہو سکے۔ مسلسل میڈیا دیکھنے اور سننے کے بعد انہی دنوں احساس ہوا کہ ہمارے ہاں معیشت دانوں کی ہر گز کمی نہیں ، ایک ڈھونڈو ہزار نہ سہی ایک آدھ سو تو ضرور مل جاتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ مائیک سامنے ہو، ٹاک شوز کا میدان سجا ہو ، سامعین کو سننے کی لت ہو اور اینکرز کو سنانے کی۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔بجٹ بحثوں میں ایسے ایسے باریک معاشی نکات کا پتہ چلا کہ اپنی کم علمی پر افسوس ہوا۔
موجودہ حکومت نے الیکشن لڑا تو اس کا ایک خوش کن نعرہ یہی تھا کہ وہ معیشت اور کاروبار کو بہتر سمجھتے ہیں۔ بس ایک ذرا حکومت ملنے کی دیر ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت کے دماغ میں معیشت کو پل بھر میں پاؤں پر کھڑا کرنے کے کئی نسخے ہیں۔ بلکہ حکومت سنبھالنے سے قبل کئی بینکرز اور ماہرین کے پے در پے اجلاسوں نے توقعات کا لیول کافی بڑھا دیا ۔ پہلا بجٹ پیش کیا تو یہ عذر موجود تھا کہ حکومت کو یہ بجٹ تیار کرنے کا موقع نہیں ملا، جو تیار تھا اسے پیش کرنے کا فریضہ ادا ہوا۔ دوسرا بجٹ پیش ہوا تو کمزور مالیاتی اشاریے اور مالیاتی کشادگی نہ ہونے کا عذر پھر کام آیا۔ مالیاتی اشاریے اگلے سال بہتر ہوئے تو دھرنے نے ناطقہ سر بگریباں کیے رکھا۔ سی پیک کے آغاز میں تاخیر اور معیشت میں بے یقینی کے جواز کے ساتھ تیسرا بجٹ پیش ہوا ۔
اب چوتھا بجٹ پیش ہوا تو حالات میں اُس طرح کی تندی کی جگہ قدرے ٹھہراؤ آ چکا ہے۔ ضربِ عضب نے امن و مان بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں۔ تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈی میں دیگر اشیاء اور اجناس کی قیمتوں میں کمی نے تجارتی خسارے کو بھی کم کیا اور مالیاتی کشادگی بھی بہتر ہوئی۔ بیرون ملک سے ترسیلات نے گرتی ہوتی برآمدات کے باوجود مالیاتی سہارا دیے رکھا۔ شرح سود میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی کئی ٹارگٹ مس ہونے کے باوجود آ ن ٹریک رہا اور آئی ایم ایف کے بورڈ نے کئی بار موقع محل ہونے کے باوجو د ٌ ٹانگ نہ اڑائی ٌ بلکہ ٌ پہلے سے بہتر ٌ کی آواز سے حوصلہ افزائی کی۔ ان حالات میں اس چوتھے بجٹ سے توقع تھی کہ معیشت اب Stability کے آئی سی یو سے نکل کر Growth یعنی بڑھوتری کی شاہراہ پر ڈالنے کا اہتمام ہو گا لیکن اب کی بار بھی ان کایا پلٹ نسخوں اور انقلابی آئیڈیاز کا انتظار ہی رہا جن کا ذکر الیکشن مہم میں لہک لہک کر ہوتا تھا۔ بجٹ حسب معمول جمع تفریق کے جنجھٹ سے جان نہ چھڑا سکا۔ لہٖذا جوابات سے کہیں زیادہ سوالات نے بجٹ کو گھیرے رکھا۔
بجٹ کا سارا زور محصولات جمع کرنے پر ہے۔ زراعت کو کچھ تھوڑی بہت رعایت کا نقصان پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مزید محصولات جمع کرنے کی مجبوری غالب رہی۔ قومی اور نجی بچتوں میں گذشتہ سال کمی رہی۔ فکسڈ Assets کی جمع بندی میں بھی کمی رہی۔ لے دے کر آسرا تھا کہ حکومتی ڈویلپمنٹ سرمایہ کاری میں اضافہ قدرے تلافی کرے گا لیکن قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کل محاصل کا چالیس فیصد کے لگ بھگ رہی اور یہی بجٹ کا سب سے بڑا خرچہ تھا۔ اس کے بعد ڈیفنس کا لازمی خرچہ تھا۔ سو حکومت کے پاس جو بچا وہ بمشکل پچھلے سال کے برابر تھا جو معیشت کو نمایا ں بڑھوتری کے ٹریک پر لانے کے لیے ناکافی ہے۔ ایک امیدبرائے امید یہ ہے کہ صوبوں کو دو ہزار ارب روپے سے زائد حصے کے طور پر دیے گئے وسائل اگر صیح ترجیحات اور کرپشن سے بچ بچا کر صیح صیح خرچ ہو جائیں تو کسر پوری ہو جائے لیکن صوبوں کا پچھلا ٹریک ریکارڈ ایسی کسی امید باندھنے کے حق میں نہیں۔
گذشتہ کئی سال صنعت کو امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بے حال کیے رکھا۔ ہر گذرتے بجٹ نے روایتی ٹیکس گذار اس شعبے کو مزید زیر بار کر کے ادھ موا کیا۔صنعت کا کل معیشت میں حصہ سکڑتے سکڑتے اب فقط اکیس فی صد رہ گیا ہے۔ سروسز کا حصہ بڑھ کر ساٹھ فی صد ہونے کو ہے۔ بلیک اکونومی اور غیر روایتی شعبے میں منافع کی شرح بدستور روایتی اور صنعتی شعبے سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ صنعت میں اضافہ بہت واجبی سا ہے لیکن پراپرٹی، اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی شعبے ٹیکس کی جھک جھک سے آزاداس قدر پھل پھول رہے ہیں کہ ان کے سامنے صنعت میں سرمایہ کاری سراسر ناقابل فہم ہے ۔ گذشتہ اور حالیہ بجٹ میں فائلر اور فائلر کے امتیاز کا چرچا ضرور ہوا ہے لیکن ٹیکس گزاری، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، سیلز ٹیکس ریفنڈ سمیت کئی اقدامات نے صنعتوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ نجی بچتوں اور سرمایہ کاری میں کمی کیوں آئی ہے۔ جب ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کھل کر نہیں ہو سکا تو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں سال کے پہلے دس مہینے فقط ایک ارب ڈالر پر افسوس کیسا ! ان حالات میں معیشت میں کسی بڑی بڑھوتری کی امید اب کہاں سے آئے؟
بجٹ میں زراعت کے لیے چند رعایتیں ضرور ہیں ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو زراعت کے In-puts پر گذشتہ سالوں میں اندھا دھند سیلز ٹیکس عائد کرنا مناسب نہ تھا۔ جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں۔ زرعی شعبے کے بنیادی مسائل کا تعلق صوبوں سے ہے جہاں ان مسائل کے ادراک کا شائبہ کل تھا اور شاید آنے والے سال میں بھی نہ ہو۔ موسم اگر مہربان رہا تو زرعی پیداوار بہتر ہو جائے گی جس کا کریڈت حکومت لے گی لیکن عملاٌ زرعی شعبے کے بنیادی مسائل صرف چند زرعی مداخل پر سلیز ٹیکس کم کرنے سے حل نہ ہو ں گے۔ اسی طرح برآمدی شعبہ علاقائی اور عالمی مسابقت میں بہت پہچھے رہ گیا ہے۔ صرف پانچ شعبوں کو زیرو ریٹ سیلز ٹیکس کی سہولت سے برآمدات کی مسابقت لوٹ کر نہیں آئے گی کہ اس شعبے کے مسائل Structrual اور پیچیدہ ہیں۔ فقط زیرو ریٹنگ سے بات مشکل ہی بن پائے گی۔
ایک اہم مسئلہ گذشتہ کئی سالوں سے علاقائی تفاوت کا ہے۔ معاشی ، تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں محدود ہو رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک کثیر سیلاب ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر پہلے ہی ناکافی ہے۔ مسلسل انتقالِ آبادی نے شہروں کے انفراسٹرکچر کو مزید ناکافی بنا دیا ہے۔ شہروں میں محروم طبقات کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑھتی آبادی نے پراپرٹی کے کاروبار کو پَر لگا دیے ہیں۔ حسنِ اتفاق کہ یہ شعبہ ٹیکس کی جھک جھک سے بے نیاز ہے۔ حکومتی ڈویلپمنٹ ادارے سرخ فیتے اور کرپشن کی زد میں ہیں۔ سو، شہروں کے آس پاس پرائیویٹ رہاشی آبادیوں کے بے ترتیب جنگل اگ رہے ہیں۔ پراپرٹی سر مایہ کاروں کا سرمایہ دو تین سالوں میں ڈبل ہو رہا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات کے لیے ہاوسنگ ہر گذرتے سال دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ تقریباٌ جمود کا شکار صنعتی شعبہ اور low value سروسز کا شعبہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ملازمتیں اور خاطر خواہ معاشی بڑھوتری کہاں سے لائے؟ جب بجٹ کا بھی سارا زور محاصل کا ٹارگٹ پورا کرنے پر ہو، بڑھوتری میں چھ سات فی صد اضافہ کیونکر ممکن ہو گا؟
میڈیا اینکرز اور حکومت پر بات بات پر چڑھ دوڑنے والے تجزیہ کاروں سمیت بجٹ موسم میں نودریافت شدہ معیشت دانوں میں سے ہر ایک نے حکومت کو بے نقط تو خوب کھل کر سنائیں لیکن ان مسائل کے سنجیدہ حل سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔ چلیے ، ا بے نقط سنانا ان کی تومجبوری ٹھہری لیکن مسلم لیگ ن کے وہ کایا پلٹ معاشی نسخے کیا ہوئے؟ چوتھا بجٹ بھی روایتی جمع تفریق کا بے جوڑ پلندہ تھما کر کر چلتا بنا۔ جس پارلیمنٹ میں اس بجٹ پر سنجیدہ بحث ہونا ہے، وہاں ٹریکٹر ٹرالی کے پارلیمانی ہونے یا نہ ہونے پر بحث چل نکلی ہے۔ باقی صدیقی یاد آئے۔۔۔
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *