فنکار ایک آزاد فرد ہے

satya paal

میری نظریہ سازی میں کیا کچھ محرک ثابت ہوا


گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں میرے مطالعہ کی رفتار بہت تیز تھی۔ یونیورسٹی میں دو پیریڈ پڑھانے کے بعد میرا معمول دوپہر کو قیلولہ کرنا نہیں تھا، لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنا تھا۔انہی برسوں میں میں نے کروچےؔ کے ایک ایک لفظ کو بنظرِ غور پڑھا، یعنی ایسے پڑھا جیسے امتحان کے لیے طلبہ کسی متن کو حفظ کر لیتے ہیں۔ کروچےؔ نے علم و عمل کی ذو جہتی یونانی تھیوری کے مطابق یہ درس دیا کہ علم و عمل دونوں جہاں ایک طرف نفسِ امارہ، نفسِ مطمئنہ اور نفس لوامہ کے لیے وجدان کا سامان مہیّا کر سکتے ہیں وہاں منطق و ادراک، شعور و عقل کو بھی نشو و نما دیتے ہیں۔ موخر الذکر کے لیے تعقل یہ کام کرتا ہے اور اول الذکر کے لیے تخیل اپنا سب سر و سامان بروئے کار لاتا ہے۔ وجدان اپنے آپ میں صرف ایک حسی اور حسیاتی جذبہ ہے اور اس کی تکمیل تبھی ہوتی ہے، جب یہ اظہار کا راستہ تلاش کر لے ۔ اظہار کی تجسیم ہی اس کا فرض ہے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو یہ کسی جانور کا خوشی میں چھلانگیں لگانے کا عمل تو ہو سکتا ہے، انسان کا وجدان نہیں۔
جس بات نے مجھے ہمیشہ کے لیے کروچےؔ کا مرہونِ منت کر لیا وہ اس کا یہ فرمان ہے کہ جمالی فعل صرف اس وقت منصہ شہود پر آتا ہے جب انسانی ذہن میں کوئی واضح یا نیم واضح خیالی خاکہ ایک شکل میں ڈھل جائے۔ گویا ایک بصری منظر نامہ معرضِ وجود میں آ جائے۔مثال کے طور پر حب الوطنی ایک ’کانسیپٹ‘ ہے ، جس کی کوئی واضح شکل انسانی ذہن میں موجود نہیں ہے۔ اس کانسیپٹ کو تخلیقی عمل میں سے گذرنے کی غٖرض سے اپنے لیے ایک سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے اور وہ ایک ایسا منظر نامہ ہے، جس سے اس کی غرض و غایت اگر ثابت نہ بھی ہو تو اس کا عمل ثابت ہو۔ اس دورانیے میں تخلیقی ذہن اپنے لیے وہ جیومیٹری کی اشکال تراشتا ہے، جو زبان میں ڈھلنے کے بعد ا س کا نقشہ قاری کو یا سامع کو سمجھ آ سکیں۔
یہاں یہ بات ضروری ہے کہ اظہار کا یہ خارجی طریقہ شاعر کے لیے زباندانی، مصور کے لیے برش اور رنگوں کے استعمال کا ہنر، یامورتی کلا کے لیے ، خام سامان یعنی پتھراور اوزار یعنی ہتھوڑا ، چھینی وغیرہ کا ماہرانہ عمل، یہ سب خارجی اوزار اس کے اصلی اور اندرونی لائحہ عمل سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، اس کے لیے تو اسے فنکارانہ ہنر کی ضرورت ہے۔ فن اور ہنر کا یہی امتزاج کسی کو اچھا یا برا فنکار بنا سکتا ہے۔
جو کچھ ’باہر‘ معرضِ وجود میں آیا ہے، وہ ’اندر’ کی کاربن کاپی تو نہیں ہو سکتا۔ ’اندر‘ کے تصویری مونتاژ کی لا تعداد جہتیں، بے شمار رنگ، بے حد و نہایت زمان و مکان کے استمراری اور غیر استمراری آبان ۔ اور ان سب کی دم بدم بدلتی ہوئی کیفیات کی کوئی ’’نقل برابر اصل‘‘ تصویر الفاظ میں یا رنگوں میں یا ایک مورتی کی شکل میں ڈھالی نہیں جا سکتی، تو پھر آرٹ کیسے اصل یعنی اندرونی ’سچ‘ کو دکھا سکتا ہے؟ اس کا کوئی جواب دینا کسی کے بس کی بات نہیں تھی، لیکن چنڈی گڑھ میں قیام کے دوران جب میں نے اورو بندو گھوشؔ کی انگریزی تصنیفا ت کو پڑھا تو مجھے یہ مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
پہلے ایک کتاب کی بات کریں جو میرےانجمن ترقی پسند مصنفین سے علیحدگی کے روّیے میں محرک ثابت ہوئی۔ یہ کتاب تین انگریزی ناول نگاروں کے خطوط کا مجموعہ تھی، جو گراہم گرینؔ ، بریختؔ اور الزبتھ ہاون نے آپس میں ایک دوسرے کو لکھے تھے۔ کتاب کا عنوان تھا، Why Do I Write? یہ سلسلہ تب شروع ہو ا جب برٹولڈ بریخت کے دو خطوط جو اس نے اپنی خاتون دوست الزبتھ ہاون کو لکھے تھے، مکتوب علیہ نے اپنے کامینٹس کے ساتھ گراہم گرین کو پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے بھیج دیے۔ بریخت چونکہ اس سلسلے کا محرک تھا، اس کے دونوں خطوط میں نے کئی بار پڑھے، سرخ اور نیلی پنسلوں سے سطروں کو انڈر لاین ( اردو : خط زد ؟) کیا ، حاشیے میں اپنے خیالات لکھے ، اور پھر ان کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ ، ظاہر ہے، کسی ترقی پسند رسالے میں تو اس لیے نہیں شائع ہو سکتا تھا کہ اس کے مندرجات ترقی پسند تحریک کے منشور کے منافی تھے، لیکن دہلی سے چھپنے والے رسالے ’’راہی‘‘، جس کے اندرون سرورق پر اس کے مالک اور مدیر بلدیو متر بجلی ؔ کے نام کے ساتھ ساتھ ترتیب دینے والوں میں میرا نام بھی از راہ مروّت چھپتا تھا ، اسے شامل اشاعت کر لیا۔ یہ بات تو طے تھی کہ جب تک یہ ’’شاہراہ‘‘ یا پاکستان کے ترقی پسند تحریک سے منسلک ادبی رسائل ’’سویرا‘‘ (مدیر احمد راہی) یا ’’نقوش‘‘ میں نہ چھپتا ، اس کی طرف کسی کا توجہ دینا محال تھا۔اور یہی ہوا ، سوائے ایک دو دوستوں کے اس کی تعریف میں یا اس کی مخالفت میں مدیر کے نام کوئی خط موصول نہیں ہوا۔
بریخت کے خطوط اسی مفروضے سے شروع ہوتے تھے کہ سیاسی یا مذہبی عقیدہ ایک چیز ہے اور تخیل اس سے مختلف ایک دوسری۔ ایک قلم کار جو کچھ لکھتا ہے ، وہ اس کی اس شخصیت سے الگ ہے، جو اس کے کیتھولک عیسائی ہونے یا کمیونسٹ ہونے کا دم بھرتی ہے۔ تخیل کی بنا پرنظم یا افسانہ لکھنے والی شخصیت اور عقیدے کی بنا پر اتوار کو گرجا گھر جانے یا کمیونسٹ پارٹی کے جلوسوں میں شامل ہونے والی شخصیتوں کا آپس میں کوئی لین دین نہیں ہے۔ اس نے تحریر کیا کہ ادیب کے طور پر یہ سوال خود میں لا یعنی ہے کہ ہم جس سماج کے فرد ہیں، اس کے مطالبات کے مطابق ہم ادب تخلیق کر رہے ہیں یا نہیں۔’’ ہم تو ان جھمیلوں سے آزاد ہیں‘‘، اس نے لکھا۔’’ اور خصوصاً اگر ہم مبلغ کے طور پر ، یعنی ڈھنڈورچی بن کراپنے ناولوں اور ڈراموں میں ایک سیاسی نظریے کا پرچار کر رہے ہیں، تو ہم فنکار نہیں ہیں، ڈھنڈورچی ہی ہیں۔ ‘‘
مجھے یہ باور کرنے میں کچھ تامل ہوا کہ اگر بریخت یہ کہتا ہے کہ ادیب کو ایماندارانہ طور پر اپنی اس شخصیت persona پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے جو اس کی تخلیقیت کا منبع ہے تو اس میں ترقی پسندوں کو اعتراض کیوں ہے۔ وہ ان ادیبوں پر یہ الزام کیوں لگاتے ہیں کہ اکثر ادیب ایماندار نہیں ہے اور ’’بے تعلقی کے پردے میں عوام مخالف طاقتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘ نقادوں کے استاد گرامی احتشام حسین نے تو یہ لکھنے سے بھی گریز نہیں کیا: ’’جب ہم موجودہ دور کے عالمی ادب پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عوام دوست ادیب اپنی جانبداری کا اعلان کرتے ہیں اور جو کچھ لکھتے ہیں شعوری طور پر عوام کے مفاد کے لیے لکھتے ہیں، لیکن وہ ادیب جو سرمایہ دار حاکم طبقہ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں اپنی غیر جانبداری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کا مشاہد ہ اور تجزیہ ان سے کوئی ایسے چیز لکھوا دیتا ہے جس سے عام انسانوں کے مفاد کو کوئی پہلو نکلے تو اس کی تاویلیں کرتے ہیں۔‘‘ مجھے ابکائی سی آئی، ایسے محسوس ہوا کہ یہ بات ہم سب کے پیر و مرشدسید احتشام حسین نہیں کہہ رہے، بلکہ ماؤ زے تُنگ ؔ کہہ رہا ہے، یا کمبودیا کا پول پات ؔ کہہ رہا ہے۔ تو کیا ادیب اور مبلغ میں کوئی تمیز نہیں۔ کیا تخلیقی قوت کی کارکردگی کو تسمہ پا کر کے اس بات پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ صرف اور صرف عوام کی بہبودی کے لیے حرکت میں آئے، اور پھر ’عوام کی بہبودی‘ کیا وہی بہبودی ہے جس نے روس اور چین اور کمبودیا میں آمرانہ تسلط قائم کیا اور لاکھوں انسانوں کو یا تو موت کے گھاٹ اتارا یا پھرقیدی بنا کر کیمپوں میں بھر دیا۔مجھے حیرت بھی ہوئی کہ احتشام حسین جیسے قابل احترام نقاد بھی ’’عوام دوست‘‘، ’’عوام دشمن‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ جھجکتے نہیں، بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
بریختؔ نے تو اس خط میں ایک سیدھا سادا جملہ لکھا تھا کہ وہ نہ تو کسی پڑھنے والے کے لیے لکھتا ہے، نہ عوام کے لیے، نہ سوسائٹی کے لیے، بلکہ صرف اپنی ذات کے لیے لکھتا ہے . اور یہ کہ لکھتے ہوئے اور لکھ چکنے کے بعد اسے اپنا ہی بنایا ہوا ، لفظوں سے مزین، جمال آفرین خاکہ دیکھ کر روحانی مسرت ہوتی ہے۔ اس سیدھے سادے جملے پر عوام دوستی یا عوام دشمنی کے لیبل لگا کر یہ کہنا کہ ایسے ادیب ’’رجعت پسند‘‘ ہیں ، نہ احتشام حسین کی اور نہ ہی ان جیسے کسی اور عزت ماّب پروفیسر اور نقاد کی شان کے شایاں تھا۔
مجھے اپنے ترقی پسند تحریک کا ایک فرد ہونے پر کچھ کچھ شک تو پہلے ہی تھا، لیکن اس کتاب اور اس پر پروفیسر احتشام حسین کے ارشادات کو دیکھ کر طبیعت بہت مکدر ہوئی۔
بہر حال واپس کتاب کی طرف جائیں۔ الزبتھ ہاون ؔ نے متن میں ہیئت پر زور دیا اور لکھا کہ نفسِ مضمون کے چکر میں پھنس کر ہم اگر اسلوب کو پسِ پشت ڈال دیں تو یہ ’’گوشت کو آدھا کچا کھانے کی طرح ہو گا‘‘۔ یعنی اگر نفس مضمون گوشت ہے اور ہیئت اسے پکانے کا سلیقہ ہے تو پھوہڑ پن سے بھون بھون کر پکائے گئے گوشت کا کیا لطف ہے؟ یہ پڑھ کر اس وقت میرے دل میں یہ خیال ضرور جاگزیں ہوا کہ اگر ہم گوشت کو سلیقے سے پکانے پر ہی یعنی ہیئت پر سار ا زور صرف کر دیں اور نفس مضمون پر اسے غالب آنے دیں تو ہم کرشن چندر تو بن سکتے ہیں، راجندر سنگھ بیدی یا منٹو نہیں بن سکتے۔
گراہم گرین کے اصل خطوط کی غرض و غایت یہی تھی کہ کیا یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی ادیب عصرِ حاضر کے سیاسی یا معاشرتی یا تہذیبی مباحث کو اس طرح اپنے ادب میں آگے بڑھائے کہ اس کی ترجیحات کا دائرہ بائیں بازو کی طرف صریحاً جھکتا ہوا نظر آئے؟ گراہم گرین نے اپنے خطوط کے تحرک سے ایک نکتہ جو اور اٹھایا تھا وہ میرے لیے بے حد قیمتی تھا۔ اس نے کہا(اور بریخت نے اس پر صاد کیا) کہ سماج اور فنکار اس لیے ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں کہ سماج میں متصادم فرقوں میں سے کسی ایک کی جانب جھکے بغیر فنکار دونوں کو بجنسہ پیش کر سکتا ہے ۔ اگر سماج اور فرد میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صلح نامہ لکھ لیا جائے
اور تصادم کی کیفیت بیک قلم موقوف ہو جائے تو ادیب کے لکھنے کے لیے کیا موضوع رہ جائے گا؟ صرف تمثال ، تمثیل اور علامت کے تانے بانے میں الجھی ہوئی تخلیقات کے علاوہ وہ لکھ بھی کیا سکے گا؟
اس نے اس سلسلے میں انقلاب کے بعد روس کی مثال دی اور کہا کہ اشتراکیت کے نفاذ کے بعد روس نے کوئی بڑا ادیب پید ا نہیں کیا، کہاں لرمینتوف اور ٹالسٹائی اور گورکی اور کہاں اشتراکی انقلاب کے بعد کے اہل قلم؟ مجھے اس منطق میں کچھ خامی ضرور نظر آئی کہ ایک طرف تو بریخت اور گراہم گرین دونوں اس بات پر مصر ہیں کہ ادیب کا اپنے تخیل کو آزاد رکھنا ضروری ہے، چاہے اس کے خیالات مذہب یا سیاست کے بارے میں کچھ ہی کیوں نہ ہوں اور دوسری طرف وہ سماج میں اور فرد میں تصادم کو اچھے ادب کی تخلیقی کی ایک شرط تسلیم کرتے ہیں۔ اگر فرد (اور شاعر یا فنکار ایک خود آگاہ فرد ہی تو ہے!) اور سماج کے ما بین تعاون اور استمداد کا رشتہ استوار ہے، (جیسے کہ مبینہ طور پر انقلاب روس کے بعد اس ملک میں ہے) تو اچھا ادب کیسے تخلیق ہو گا۔ واہ واہ اور تعریف و توصیف تو مقررین کی خصوصیات ہیں ، اہل قلم کی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *