کیا اخلاقیات کی بنیاد فقط رد عمل ہے؟

کبیر علی

kabir ali

پاکستان کی کئی جامعات کے اندر مختلف چار سالہ کورسز میں اخلاقیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ اس مضمون کے تحت جو نکات زیر بحث آتے ہیں ان میں غلط/درست، مناسب/غیر مناسب،اخلاقی/غیر اخلاقی اور کونی/مقامی کے مباحث شامل ہیں۔ مگر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اخلاقیات کا تعلق صرف رد عمل سے ہے یا اپنے آپ میں آزاد، خود مختار، ذاتی اخلاقیات کا بھی وجود ہے؟
مثال کے طور پہ دو، تین روز قبل اسمبلی کے اندر مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف نے تحریک انصاف کی شیریں مزاری کے بارے کچھ نا گفتہ بہ الفاظ کہے جس پہ بعد میں انہوں نے مبہم سی معذرت بھی کی۔ تاہم دلچسپ صورتحال یہ تھی کہ حکومتی جماعت کے مداح خواجہ صاحب کے اس غیر مناسب فعل کی دلیل تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کے بیانات سے اخذ کر رہے تھے۔ اور دونوں جماعتوں کے مداحین ایک دوسرے پہ غیر شائستہ ہونے کا الزم لگا رہے تھے۔ طرفین کے پاس ایسے موقعوں پہ ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ "چونکہ! مخالف جماعت کے فلاں لیڈر نے فلاں موقع پہ یہ غیر مناسب بات کی تھی لہٰذا جب ہمارے لیڈر نے "ذرا سی" بات کر دی تو اب واویلا کیوں؟"
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ خدا کے بندو! کیا ذاتی اخلاقیات نام کی کوئی چڑیا بھی ہوتی ہے کہ نہیں؟ اگر آپ کی ذاتی اخلاقیات میں خواتین کا احترام شامل ہے تو مخالفین لاکھ غیر شائستگی کا مظاہرہ کریں آپ کبھی بھی خواتین کے باب میں غیرشائستہ نہ ہوں گے۔ رد عمل پہ تو حیوانات بھی جی لیا کرتے ہیں مگر انسانوں کو تو شعور کی نعمت کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی اخلاقیات کی تشکیل کرنی چاہیے ۔ خصوصا ارباب سیاست کو اس معاملے میں خاص طور پہ حساس ہونا چاہیے کہ ان کا اندازِ گفتگو میڈیا کے ذریعے پورا ملک دیکھتا ہے۔
میں جامعات کے کئی ایسے اساتذہ کو جانتا ہوں جو رد عمل کی اخلاقیات کا شکار ہیں۔ تعلیم کے کمرشلائز ہونے اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پہ اب طالب علم کچھ زیادہ مودب نہیں رہے۔ مگر کئی اساتذہ ، طلبا و طالبات کے غیر مناسب رویے کے بعد ذاتیات پہ اتر آتے ہیں جو ایک استاد کے مقام ومرتبہ کے شایان ِ شان نہیں۔ مگر دوسری طرف ایسے اساتذہ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے طالب علم کی صریح گستاخی و بدتمیزی کو اس کی نادانی سمجھ کے معاف کر دیا اور اس کے گریڈز کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ بعد میں انہی طلبا نے نہ صرف ندامت کے ساتھ معافی مانگی بلکہ اب اپنے اساتذہ کے شکر گزار بھی ہیں کہ جنہوں نے اتنی عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلبا کے مستقبل پہ آنچ نہیں آنے دی۔
تو گزارش یہ ہے اپنے مرتبہ انسانیت کا لحاظ کرتے ہوئے ہمیں آزاد اور ذاتی اخلاقیات پہ قائم رہنا چاہیے۔ ایسی اخلاقیات جو اچھے برے رویوں کے جواب میں تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہ کے مخالفین کو شرمندہ کر سکتی ہیں ۔ معاشرے بھی اسی صورت میں مثبت انداز میں نشوونما پا سکتے ہیں وگرنہ رد عمل کی نفسیات و اخلاقیات کے تحت تو انسان دوسرے انسانوں کا بہت خون بہا چکے، تاریخ جس کی گواہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *