میرا امرتسر، امر جلیل کا پُونا

Photo Attaul Haq qasmi sbدو برس پیشتر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کتاب میلہ میں میری ملاقات ایک خوبصورت شخص سے ہوئی، جسے میں پڑھتا رہا تھا مگر اسے دیکھا نہیں تھا، یہ امر جلیل تھے۔ جیسی ان کی تحریر ویسے ہی وہ خود بھی خوبصورت! یہ ان سے میری پہلی اور (تادمِ تحریر) آخری ملاقات تھی۔ وہ اپنی تحریروں میں جو عموماً علامتی ہوتی ہیں، خود کو بہت بوڑھا اور نحیف ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اس وقت اسّی کراس کر چکے ہیں مگر وہ نہ تو مجھے بوڑھے لگے اور نہ نحیف___بلکہ بہت سے نوجوانوں سے زیادہ فعال دکھائی دیئے۔ میں ان کے کالموں کا باقاعدہ قاری ہوں اور ان کے مطالعہ کے دوران تخلیقی حظ اٹھاتا ہوں! تاہم تین روز قبل شائع ہونے والا ان کا کالم تکنیکی اور تخلیقی حوالے سے تو حسبِ معمول تھا مگر اس کے بنیادی خیال سے میں متفق نہیں ہو سکا۔ برادرم امر جلیل نے بین السطور قیامِ پاکستان کو انگریز کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے خود کو’’ پیدائشی انڈین‘‘ بھی قرار دیا کہ ان کی پیدائش ہندوستان کے کسی شہر میں ہوئی تھی مگر درحقیقت وہ’’ پیدائشی غلام ہندوستانی‘‘ ہیں۔ میں بھی غلام انڈیا میں پیدا ہوا تھا، مجھے اپنی جنم بھومی امرتسر سے بے پناہ محبت ہے اور اس حوالے سے میری ایک غزل میں اس کا حوالہ بھی ہے ؂
میرا لاہور بھی ہے اور ہے امرتسر بھی
دونوں شہروں سے شناسائی پرانی میری
مگر مجھے غلام ہندوستان کا شہری کہلانے سے ایک آزاد ملک کا شہری کہلانا صرف اچھا ہی نہیں لگتا بلکہ مجھے اس پر فخر بھی ہے! مجھے برادرم امر جلیل کی یہ لائن بھی اچھی نہیں لگی’’ ہماری حواس باختہ نسل نے 1947ء میں اپنی ماں کا بٹوارہ ہوتے دیکھا‘‘ ہندوستان کے مسلمان’’ حواس باختہ‘‘ نہیں تھے ان کا تجربہ انہیں بتاتا تھا کہ وہ انتہا پسند ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلسل باہمی جنگ و جدل میں مبتلا رہنے کی بجائے کیوں نہ وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں۔ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اجتماعی شعور تھا اور اجتماعی شعور فردِ واحد کی رائے سے کہیں زیادہ وقیع ہوتا ہے۔ اور ہاں ہندوستان کے مسلمان اور ان کے قائد الگ ملک چاہتے کب تھے؟ وہ تو صرف اپنے حقوق کے طلب گار تھے۔ چنانچہ قائد اعظمؒ نے کیبنٹ مشن پلان قبول کر لیا جس کے مطابق متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے مختلف صوبے اپنا اپنا گروپ بنا سکیں گے جن میں وہ اپنی مرضی کے قوانین بنا سکیں۔ مسلم لیگ کے ایک ساتھ رہنے اور ہندوستان کا بٹوارہ نہ ہونے کی اس خواہش کا احترام بھی نہ کیا گیا۔ قائد اعظمؒ نے کیبنٹ مشن پلان قبول کر لیا مگر کانگریس نے عین موقع پر یہ پلان قبول کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ یہ پلان فیڈریشن کے اندر رہنے کی خواہش کا مظہر تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا یا کانگریس نے بنایا۔ پاکستان مسلمانوں کی حواس باختہ نسل نے بنایا یا کانگریس کی جنوبی ذہنیت نے بنایا۔ پاکستان اس وقت بنا جب برصغیر کے مسلمانوں کے جائز حقوق تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا گیا !
میری ان سطور سے یہ اندازہ نہ لگائیں کہ میں خدانخواستہ برادرم امر جلیل کو ایک محب وطن پاکستانی نہیں سمجھتا، اگر انہیں پاکستان سے محبت نہ ہوتی تو گیارہ سال کی عمر میں پاکستان آنے کے بعد ستر سال پاکستان میں رہنا پسند نہ کرتے، وہ سرحدوں کے قائل ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے کالم میں تجویز پیش کی ہے کہ اسّی سال کی عمر سے زیادہ افراد کو ہندوستان اور پاکستان دونوں ملک تاحیات ویزہ جاری کریں۔ میں اس تجویز کی حمایت کرتا ہوں بشرطیکہ وہ اپنی تجویز میں ترمیم کر کے تاعمر ویزہ کی شرط اسّی کی بجائے ستر کر دیں تاکہ وہ اپنے پُونا اور میں اپنے امرتسر کا چکر لگا لیا کروں۔ برادرم نے اس تمنا کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اپنی عمر کے آخری ایام پُونا میں گزار سکیں جہاں ان کی والدہ نے جنم لیا تھا۔ اس سے ملتی جلتی خواہش کا اظہار تو قائد اعظمؒ نے بھی کیا تھا۔ وہ سال کے چند مہینے بمبئی میں گزارنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنا بمبئی کا گھر فروخت نہیں کیا۔ مگر قائد اعظمؒ کے یہ خواب تو دھرے کے دھرے رہ گئے جن کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا جیسے ہونا تھے، کہ پاکستان کے قیام کو گاؤماتا کی تقسیم قرار دیا جاتا رہا ہے اور ایک حقیقت کو لکیر قرار دے کر اسے مٹانے کی کوشش تاحال جاری ہے۔ ویسے بھی امر جلیل بھائی، اب آپ اپنی زندگی کے بقیہ دن ہندوستان میں گزار کر کیا کرینگے، وہاں تو بین الاقوامی شہرت کے حامل مسلمان اداکاروں کو گھر بھی کرائے پر نہیں دیا جاتا۔ ان میں سے کچھ نے تو ہندوستان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ امر جلیل نے اپنے کالم میں اس خوبصورت پاکستان کا نقشہ بھی کھینچا ہے جیسا خوبصورت پاکستان وہ دیکھنا چاہتے ہیں تاہم عام قاری ان کے اسٹائل کی وجہ سے شاید ان کے اس نقطے کو نہ سمجھ سکے کہ اس کا اظہار انہوں نے اپنے مخصوص اسلوب میں کیا ہے!
کالم کے آخر میں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل جن مسلم رہنماؤں نے پاکستان کی مخالفت کی۔ میں ان کی نیت پر شک نہیں کرتا۔ اس وقت اس بحث کا جواز بھی موجود تھا کہ پاکستان بننا چاہئے کہ نہیں؟ مگر پاکستان تو بن چکا ہے اور بے شمار خرابیوں کے باوجود اور ان خرابیوں کی ایک وجہ بلکہ بنیادی وجہ مارشل لاؤں کا تسلسل ہے۔ یہ ملک آہستہ روی سے سہی مگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان اب کوئی معمولی ملک نہیں ہے، ہمارا یہ خطہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے چنانچہ اس مرحلے پر ہمیں اس کے قیام کے حوالے سے کنفیوژن پھیلانے کی بجائے اس کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ متحدہ ہندوستان اب ایک ڈراؤنا خواب ہے اور یہ خواب دیکھنے کا مطلب 1947ء میں ہونے والی خونریزی اور بہیمت کا پارٹ ٹو دیکھنا ہے۔ اور ہاں جس نسل نے اپنی آنکھیں ہی پاکستان کی آغوش میں کھولی ہیں، اس کا کوئی ناسٹیلجیا نہیں ہے، سو اسے امرتسر اور پُونا سے کوئی غرض نہیں، اس کیلئے سب کچھ پاکستان ہے۔ اب امر جلیل کیلئے بھی سب کچھ پاکستان ہی ہے، تاہم ان کے دل میں پُونا جانے اور وہاں کچھ وقت گزارنے کی خواہش جینوئن ہے، خدا کرے دونوں ملک اپنے تنازعات پرامن طریقے سے جلد سے جلد حل کریں اور پھر ویزے کی نرمی کے نتیجے میں، میں جب چاہوں اپنے امرتسر کا ایک چکر لگا آؤں اور امر جلیل اپنے پُونا سے ہو آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *