تیز رفتاریاں اور سرکاری ذمہ داریاں

azhar khan

"منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے" لاہور شہر کی معروف شاہرا ہ سے گزرتے ہوئے جونہی ہم ٹریفک سگنل پر رکے تو ساتھ ہی کسی سکول کی پک اپ آکر رکی جس میں ڈرائیور نے بہت تیز آواز میں مشہور زمانہ گانا لگایا ہوا تھا، اوراس کے ساتھ والی سیٹ پر تین معصوم بچیاں ڈری سہمی ہوئی بیٹھی ہوئی تھیں، جیسے وہ کسی سکول کی بچیاں نہ ہوں بلکہ خدانخواستہ ان کو کوئی اغوا کر کے لے جا رہا ہو۔لاہور سے واپسی پر گزشتہ ہفتے ڈیرہ اڈا ملتان کی طرف جانا ہوا تو بالکل ویسی ہی صورت حال تمام " ہائی رؤفس" میں دیکھنے میں نظر آئی جس میں "ڈرائیوروں" نے اپنے جذبات کو بھڑکانے والے گانے تو لگائے ہی ہوئے تھے اور انہوں نے فرنٹ سیٹ جو کہ زیادہ سے زیادہ دو خواتین کے لیے مخصوص ہوتی ہے، تین سے کم خواتین نہیں بٹھائی ہوئی تھیں۔ اسکے علاوہ شہر کی آبادی یا مصروف روڈ سے گزرتے ہوئے ان کے ڈرائیورز " ریسیں" لگانے میں بھی بہت مہارت رکھتے ہیں۔
اب ذرا بات کریں مشہور شاہی سواری چنچی کی جس کو پیار سے " چاند گاڑی" بھی کہا جاتا ہے، اکثر وبیشتر اس کو10 سے 15 سال کی عمر کے درمیان بچے ڈرائیو کر رہے ہوتے ہیں، چنچی کی گرجدار آواز میں اگر آپ کو کسی سی بات کرنی ہو تو فل والیم سے بولنا پڑتا ہے اور اوپر سے اگر اس میں میوزک کی آوازبھی شامل ہو جائے تو پھر آپ کو چنچی روکنے کے لیے اس کی سائیڈ والی دیواروں پر زور زور سے تھپڑ لگانے پڑتے ہیں تا کہ آواز ڈرائیور تک پہنچ جائے بعض اوقات تو چنچی کے " پائلٹ آفیسرز "اتنی تیزی اور خطرناک طریقے سے ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ اکثر اوقات آپ کو اللہ یاد آجاتا ہے۔اور آپ اپنے تمام سابقہ گناہوں کی معافی مانگ کر توبہ بھی کر لیتے ہیں۔سفر بخیریت کٹنے پر بعض اوقات صدقہ یا خیرات بھی ضرور کر دیتے ہیں، اور جب کبھی آپ حالات سے تنگ ہوں تو آپ چنچی کی سواری بھی کر سکتے ہیں۔
اور یہ صورتحال صرف لاہور یا ملتان میں ہی نہیں، بلکہ ملک کے تمام شہروں میں دیکھنے میں نظر آتی ہے۔اس وقت پنجاب گورنمنٹ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ملک کے مختلف شہرو ں میں شہریوں کو میٹرو اور اورنج لائن ٹرین جیسی سہولیات مہیا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن کسی بھی شہر کے تمام شہری اس سہولت سے مستفید نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہو رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم عوام کی بات کریں تو ان میں بہت سے لوگ ہائی روفس، چنگ چی، ٹیکسی، آٹو رکشہ،لوکل بسزوغیرہ میں سفر کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سکول، کالج، یونیورسٹی جانے والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور ان میں مختلف دفاتر، فیکٹریز میں کام کرنے والے اور کاروباری حضرات وٖغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں میں مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں جو کہ اپنی تعلیم یا جابز کے سلسلہ میں مختلف اداروں میں جا رہی ہوتی ہیں اور ان ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی خواتین، لڑکیاں یا بچیاں کن مشکلات سے دو چار ہوتی ہیں، یہ بھی ایک قابل فکر لمحہ ہے۔ اور اس سے بھی خطرناک صورتحال یہ ہے جس طرح سے ہماری سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے پائلٹ آفیسرز ڈرائیونگ کے فرائض سر انجام دیتے ہیں، اونچی آواز میں میوزک تیز رفتاری، اوور ٹیکنگ تو ان ڈرائیور حضرات کے لیے ایک اہم مشغلہ ہوتا ہے۔ اور اکثر اوقات کچھ ڈرائیور حضٗرات تو سو کی سپیڈ پر گاڑیاں ایک دوسرے کے متوازی دوڑاتے جا رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ وہ کوئی ہوائی جہاز اڑا رہے ہیں اور یہ سوچے بغیر کہ ان کے ساتھ بہت سے اور لوگ بھی سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ جن کی زندگی ان حضرات کی وجہ سے داؤ پر لگی ہوتی ہے۔
اگرچہ ریجنل ٹراپسورٹ اتھارٹیز اس سلسلے میں کہیں کہیں کافی فعال نظر آتی ہیں لیکن مجموعی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔بہت سے حادثات تیز رفتاری یا لا پرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہو رہے ہوتے ہیں، اور ان حادثات کے بعد کچھ لوگ یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر ساری زندگی کے لیے معذور ہو کر دوسروں کے سہارے جیتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حادثے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مخالف سمت سے آتی ہوئی ہائی ایس تیز رفتاری اور اوور ٹیکنگ کرتے ہوئے ایک بڑے ٹرالے سے ٹکرا گئی اور اس کے بعد آٹھ لوگ موقع پر اپنی جان سے گزر گئے اور باقیوں کی جو حالت تھی ان کواس حالت میں تڑپتے اور مرتے دیکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا،اور وہاں یہ بحث جاری تھی کہ ذمہ دار کون تھا؟ اور یہ واقعی سوچنے والی بات ہے کہ ذمہ دار کون ہوتا ہے ان حادثات کاکیا گورنمنٹ کا کوئی ادارہ؟ کیا ٹرانسپورٹ اتھارٹیز؟ کیاگاڑی کا وہ ڈرائیور؟ ظاہر ہے اس موقع پر تو وہ ڈرائیور ہی ذمہ دار ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔
کوئی بھی ایسی ٹرانسپورٹ کمپنی جس کے ڈرائیورز اس طرح کی ڈرائیونگ کریں اس کمپنی کو نہ صرف بھاری جرمانہ کیا جائے بلکہ کچھ عرصہ کے لیے اس کو کام کرنے سے روک دیں تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے ، اس کے علاوہ تمام ٹرانسپورٹ کمپنیز یا ٹرانسپورٹ اتھارٹیز یا پھر گاڑی مالکان کی طرف سے ڈرائیونگ کرنے والے افراد کومہینے میں کسی ایک دن صرف تین گھنٹے کسی بھی ہسپتال کے شعبہ حادثات میں بٹھایا جائے تاکہ وہ وہاں پر آنے والے زخمیوں کی دیکھ بھال کریں ، ہو سکتا ہے اس طرح سے شاید ان میں احساس جاگے کہ زندگی کتنی قیمتی ہوتی ہے اور اگر کسی بھی حادثے کی وجہ سے اگر زندگی چلی جائے یا معذوری کا شکار ہونا پڑے تو کتنی اذیت ہوتی ہے۔
اس حوالے سے خادم اعلی کی خصوصی توجہ بھی بہت ضروری ہے، سنا جاتا ہے کہ آپ اپنی قابلیت اور ہر مسئلے پر فوری ایکشن لینے کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، ذرا اس طرف بھی توجہ دیں، کیونکہ آئے دن ان حادثات کی وجہ سے بہت سے خاندان اجڑ جاتے ہیں، اور پھر ان کے لیے چند لاکھ روپے کی امداد ان کے اس دکھ، یا تکلیف کا مداوا نہیں کر سکتی جس کے بعد ان کے پیارے ان سے بچھڑ جاتے ہیں آپ ٹرانسپورٹ سے متعلقہ اتھارٹیز کو مزید فعال ہونے کی ہدایات دیں۔ٹرانسپورٹ اتھارٹیز تمام ٹرانسپورٹ کمپنیز یاپھر مالکان کو آگاہ کردیں کہ اس کمپنی کے ڈرائیوزر اگر کسی بھی طرح کی خطرناک ڈرائیونگ ، اوور سپیڈنگ یا بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تونہ صرف اس کمپنی کو بھاری جرمانہ برداشت کرنا پڑے گا بلکہ کچھ عرصہ کے لیے اس کی سروسز معطل بھی کی جا سکتی ہیں،
جن افراد کا ٹرانسپورٹ کے شعبے سے روزگار وابستہ ہے وہ انتہائی قابل احترام ہیں لیکن ان سے بھی درخواست ہے کہ خدارا دوسروں کی زندگی سے مت کھیلیں آپ بھی کسی فیملی کے سربراہ، کسی کے باپ یا پھر بیٹے ہو سکتے ہیں، آپ اپنی تیز رفتاری، اوور سپیڈنگ یا اوور ٹیکنگ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی جان لینے کے بعد یہ کہیں کہ یہ تو "اللہ کی مرضی تھی" تو ان کے لیے ایک مفت مشورہ ہے کہ ایسے لوگ پھر خود کسی تیزر فتار گاڑی کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور شدید زخمی ہونے کے بعد یہ کہیں کہ اللہ کی مرضی تھی تو شاید انہیں سمجھ آئے کہ خود کو زخمی کروانا ان کی اپنی منشا تھی،اللہ کی مرضی نہیں تھی۔ او راگر کسی فیملی کا ایک ہی کمانے والا ہو اور وہ آپ کی تیزرفتاری یا خطرناک ڈرائیونگ سے زندگی سے چلا جائے یا ہمیشہ کے لیے معذور ہو جائے، تو ذرا سوچیے کہ اس خاندان کی زندگی کتنی سخت مشکلات سے دو چار ہو سکتی ہے۔
ہمیں تھوڑی تھوڑی امید ہے کہ خادم اعلی اس حوالے سے فوری ایکشن لیتے ہوئے ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو مزید فعال ہونے کی ہدایات دیں گے تاکہ مستقبل میں نہ صرف مزید حادثات سے بچا جا سکے بلکہ اس کے نتیجے میں بہت سے اجڑتے ہوئے خاندانوں کو بھی بچایا جا سکے۔ کیونکہ یہ تیز رفتاریاں تب ہی ختم ہو ں گی جب سرکاری ادارے صحیح طریقے سے اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *