ہوتا ہے شب روز تماشہ میرے آگے

محمد ارشد قریشی

Muhammad arshad qureshi

ایک وقت تھا جب پاکستان میں صرف ایک سرکاری ٹیلیویژن پی ٹی وی دیکھا جاتا تھا اور لوگوں کے میڈیا کے حوالے سے شوق بھی محدود تھے وہ کہتے ہیں نہ کہ چادر دیکھ کر اپنے پاؤں پھیلانے چاہیے تو وسائل محدود ہونے کی وجہ سے لوگ تمام دن تین وقت میڈیا کی نظر کرتے تھے صبح اٹھتے ہی ریڈیو کی سوئی بی بی سی اردو سروس پر ٹہرتی تھی جبکہ رات آٹھ بجے لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے تھے ایک گھنٹہ پی ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈرامے کو دیتے تھے پھر وہ لوگ جو حالات حاضرہ پر نظر رکھتے تھے ان کے لیئے پی ٹی وی کا نو بجے جا خبرنامہ بہت اہمیت رکھتا تھا ۔ اسی طرح شام میں والدین بچوں کو ٹی وی کے آگےبیٹھنے کی تلقین کرتے تھے کیونکہ وہاں قرآن مجید پڑھانے کا پروگرام اقراء نشر کیا جاتا تھا خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کر بغیر کسی خوف و شرمندگی کے پروگرام دیکھا کرتے تھے مجال ہے کہ کسی پروگرام میں کوئی ایک لفظ ایسا بول دیا جائے جس سے اخلاقی پستی نظر آئے ۔
تمام دنیا کی طرح پاکستان میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا استمال شروع ہوا جہاں بہت سی نت نئی سہولیات پاکستانیوں کی دسترس میں آئیں وہیں پاکستان ٹیلیویژن کا مقابلہ کرنے کئی نجی ٹی وی چینل آگئے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہوگئی پھر اس دوڑ میں سب کچھ جائز ہوتا نظر آیا ، میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیئے پیمرا کا ادارہ موجود ہے لیکن لگتا ہے گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہے بجائے چینلز کو کنٹرول کرنے کے پیمرا کو ہی چینلز نے کنٹرول کرلیا ۔آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہوتی ہے اس کی قدر کرنی چاہیے تاکہ وہ ہمیشہ برقرار رہے بہت احتیاط سے پھونک پھونک کر چلنا چاہیئے تاکہ کسی بھی غلطی کی وجہ سے آزادی صلب نہ کرلی جائے ، ایسی ہی ایک آزادی میڈیا کو حاصل ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی انہیں مشرف صاحب کے دور میں دی گئی تھی اور پھر اسی وقت سے روشن خیالی کے نام پر بہت کچھ ہوتا رہا اور اب تک جاری ہے ۔
ہم تو ٹی وی کیبلز پر غیر ملکی ٹی وی چینلز کی بھرمار اور ن پر نشر ہونے والے واحیات پروگرموں کو بچوں کی اخلاقیات تباہ کرنے کا رونا روتے تھے مگر اب اس کا بیڑہ ہمارے اپنے ہی چینلز نے اٹھالیا ہے ہر روز صبح مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے مارننگ شوز میں کیا کیا ہوتا رہا جو کسی سے ڈھکا چھپہ نہیں جب کسی مارننگ شوز کے خلاف سخت عوامی رد عمل آیا تو کہہ دیا گیا کہ یہ تو منصوبے کے تحت تھا یہ تمام افراد جو بات کررہے تھے وہ ہمارے کہنے اور معاوضہ ملنے کی وجہ سے کہہ رہے تھے اب سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ ہررات کم و بیش تمام چینلز پر نشر ہونے والے مختلف موضوع اور حالات حاضرہ پر نشر ہونے والے ٹاک شوز نے تو اب مارننگ شوز کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے ان ٹاک شوز کو اب اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا نا ممکن ہوگیا ہے اور اگر آپ کو دیکھنا بھی ہے تو ہر لمحہ آپ کی انگلی ٹی وی ریموٹ کے چینلز بدلنے والے سوئچ پر لازمی رہنی چاہیئے ۔ کئی سالوں پہلے میں ایک ٹاک شو دیکھ رہا تھا جہاں مہمانوں میں سی پی ایل سی کے سابق سربراہ جمیل یوسف صاحب کے ساتھ ایک پی ٹی آئی کے اور دوسرے پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما تشریف فرما تھے اچانک پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے رہنما ٹاک شو میں جھگڑ پڑے اور جو مغلضات بکی گئیں طویل مغلظات کےبعد ایک رہنما نے دوسرے کو پانی کا گلاس مار کر اس مغلظات کی جنگ کا اختتام کیا اس شو کے بعد مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اب پیمرا کا قانون حرکت میں آئے گا اور اس قسم کی حرکتیں دوبارہ کسی شو میں دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔لیکن جناب یہ ہماری خام خیالی ہی تھی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اب تو ہر شو میں ایسا ہی ہونے لگا اب مجھے یہ تو نہیں معلوم کے ایسا چینلز مالکان کی جانب سے ریٹنگ بڑھانے کے لیئے دانستہ کرایا جانے لگا یا پھر حقیقت میں ایسا ہونے لگا ، لیکن دونوں صورتوں میں تباہی ہمارے بچوں کی اخلاقیات کی ہورہی ہے ، ٹی وی ٹاک شوز میں وہ وہ تماشے دیکھائے جارہے ہیں جنہیں دیکھ کر نہ صرف سر شرم سے جھک جاتے ہیں بلکہ شدید دکھ بھی ہوتا ہے ہمارے حکمرانوں نے نظام تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی نہ تعلیم کے لیئے بجٹ میں زیادہ اضافہ کیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد عوامی چناؤ کے نتیجے میں دو ہی اعلی تعلیم یافتہ حکمران آئے جناب ذولفقار علی بھٹو اور ان کی ہی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹوصاحبہ۔
افسوس اس بات کا ہے کہ وطن عزیز میں قانون ساز ادارے موجود ہیں لیکن وہ قانون سازی کے بجائے اکثر قانون بازی میں مصروف دیکھائی دیتے ہیں۔ ماہ رمضان کے مبارک اور بابرکت مہینے کے پہلے عشرے میں ہی ایک نجی ٹی وی سے غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کرنے کے موضوع پر نشر ہونے والے شو میں جس کے مہمان جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ نے شو میں شریک ماروی سرمد کو طوائف کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ میں تیری اور تیری ماں کی شلوار اتاردونگا ظاہر ہے مولانا نے یہ بات اچانک نہیں کی انہیں طیش دلایا گیا باوجود اس کے کہ ہوسکتا ہے تمام واقع کی ذمہ دار ماروی سرمد ہی ہوں پھر بھی مولانا کو یہ جملے ادا نہیں کرنے چاہیے تھے ، چند دن پہلے رمضان کے حوالے سے منعقدہ ایک شو میں صبر اور برداشت کا درس دینے والے مولانا نے ماروی سرمد کو ایک گھونسہ رسید کرنا چاہا لیکن وہاں موجود ایک مزید تماش بین فیاض چوہان صاحب درمیان میں آگئے اور گھونسے کو اپنے اوپر سہہ لیا۔
بدقستمی سے ہمارے یہاں مردوں کے درمیان ہونے والے لڑائی جگھڑوں میں جتنی مغلظات دی جاتی ہیں ان سب میں عورت کا ہی ذکر ہوتا ہے اور جس گالی میں عورت کا ذکر نہ ہو وہ آپ کے مدمقابل کو طیش نہیں دلا سکتی اور نہ آپ کو فاتحانہ سکون میسر آسکتا ہے۔
ایسےہی ایک پروگرام میں میزبان نے محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں ایک ٹی وی شو میں شریک نامی گرامی مولانا سے پوچھا کہ آپ کو بی بی کی کون سی بات یاد آتی ہے تو موصوف فرماتے ہیں مجھے ان کی گردن کے نیچے کا تل بہت یاد آتا ہے ۔ٹی وی پر براہ راست آنے والے ایک شو میں متحدہ کے قائد کی ایک تقریر کے اس حصے کو بار بار دیکھایا گیا جس میں انھوں نے شریں مزاری کو شیریں بازاری کہہ کر مخاطب کیا بعد ازاں شیریں مزاری صاحبہ سے معافی مانگ لی،پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال صاحب ایک شو میں موجود پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کو یہ کہہ دیا کہ میرا منہ مت کھلواؤ کے میں یہ بتادوں کہ تم کہاں سے آئ ہو،کشمالہ طارق کو براہ راست پروگرام میں مغلظات بکی گئیں ، ایان علی کو عدالت پیشی کے موقع پر لائیو کوریج دیتے ہوئے اس کے لباس پر خبریں چلائی جائیں ،سندھ اسمبلی میں خاتون ایم پی اے کو لو لیٹر تھما نے کی بریکنگ نیوز چلائی جائے، قندیل بلوچ کو ٹاک شو میں بیٹھا کر اس کے فیس بک پیج پر لگائی جانی والی نیم برہنہ تصاویر کے بارے میں بات کی جائے یا پھر مولانا ٹاک شو میں بیٹھ کریہ کہیں کہ میں تو خوبصورت خواتین کو ڈھونڈتا رہتا ہوں تاکہ ان سے اپنے حق میں دعا کراؤں ۔
یہ سب تسلسل سے ہورہا ہے اور پیمرا سورہا ہے کچھ عرصے قبل پیمرا کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ اس قسم کے پروگراموں کو براہ راست دیکھانے میں چند سیکنڈ کا فرق رکھا جائے تاکہ جو جملے قابل اعتراض ہوں انہیں حذف کردیا جائے ، لیکن شائید پیمرا کی اس میں بھی ایک نہ چلی اور وہ خاموش تماشائی کی طرح خاموش ہوگیا۔
اس طرح کے پروگرام جن میں ایسی بیہودہ باتیں کی گئی ہوں ان سے بچوں پر منفی اثر پڑتا ہے ،جو ہوچکا وہ نہیں ہونا چاہیئے تھا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات کیئے جائیں کہ مستقبل قریب میں ایسا دوبارہ نہ ہو کیونکہ اس سے نہ صرف ایک تماشہ بنتا ہے بلکہ ہمارے دین، معاشرے اور ملک کے بارے میں ایک منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے ، پیمرا کو لازم جاگنا ہوگا اور اس بارے میں قانون سازی کرنی ہوگی یا پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدارآمد کرانا ہوگا کسی بھی حساس موضوع یا دینی موضوع پر ہونے والے شوز میں خواتین کے ساتھ مذہبی علماء کو بٹھانے سے حتی المکان گریز کرنا چاہیئے جبکہ خود علماء کرام کو ایسے پروگراموں میں شرکت نہیں کرنی چاہیئے جہاں ایسی صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہو، اس کے علاوہ اس بات کو بھی سختی سے دیکھنا ہوگا کہ ریٹنگ کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لیئے کئی چینلز پری پلان شوز تو نہیں کررہے جیسا کی ماضی میں بھی مشاہدے میں آیاتھا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *