علماء کی خاموشی اوربازاری مولوی

حیدر شیرازی

haider sherazi

علماء انبیاء کے وارث ہیں ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر داڑھی والے کو مولوی یا عالم کہہ دیتے ہیں اور یہ جانے بغیر کہ ان میں بھی تقسیم ہے جیسے ہمارا ملک جو کہ مسلم ریاست ہے اورسنی اکثریت میں ہمیں مولوی ، علامہ ،ملا،قاری ،ذاکر وغیرہ وغیرہ کا ذکر ملتا ہے اور اس کے ساتھ اگر آپ شیعہ ہیں تو آپ کو مجتہد ،آیت اللہ ،امام اور فقیہہ کے درجات نظر آئیں گے ۔ اب علماء کے اثر رسوخ کی بات ہو تواس کی ابتداء اور علماء کا کردار ہمیں اسلام کی شروعات سے ملتا ہے جس میں ہمیں ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے علماء کا لبادہ اُوڑھ رکھا تھا اور جو اَب بھی ہے اِس تفصیل میں جانے سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ مذہبی کردارمیں اس قدر اہم ہو گئے ہیں کہ ہم پیدائش سے لے کر موت تک ان کے زیر اثر زندگی گذارتے ہیں چاہے نکاح ہو ، کھانا کھانے کا سلیقہ ہو مذہبی و معاشرتی روایات ہوں، وراثت کے مسائل ہوں ، عدالتی و انتظامی امور ہوں ان تمام اعمال اور رسومات کی ادائیگی میں یہ(مولوی اور مذہبی لوگ) طبقہ زندگی کا ایک اہم جُز بن گیا ہے اور یہ صرف مسلمانوں کی ہاں نہیں ، عیسائیت میں چرچ اور پوپ کے قیام کے بعد ایک منظم جماعت بن گئی اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کا اثر نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہندؤں میں برہمن طبقہ مذہبی رسومات کے لئے مختص ہواوران کے بعد بھگشوں کاجنم ہوا جس نے مذہبی اجارہ داری قائم کی جو ہمیں ہندو معاشرے میں نظر آتی ہے ۔الگ ریاست جدا مذہبی و سماجی مسائل۔ اسکے بعد پاکستان کی طرف آتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست ہے اور اس اسلامی مملکت کے لئے اسلام نافظ (یا نعرے لگانے والوں نے)کرنے والوں نے کیا کیا۔۔ ؟یہ ایک موجودہ حالات کے تناظرمیں اہم سوال ہے ، جس سے پاکستانی معاشرے کو مذہبی شدت پسندی سے روکنے میں مدد ملے گی اسلامی معاشرے میں مذہبی شخصیت کو باعزت مقام حاصل ہوتا ہے لیکن آج ایسا وقت آ چکا ہے کہ ایک عام آدمی معاشرے کے سب سے اہم اور باعزت افراد اور مذہب کی تعلیم دینے والوں کو سب سے برا سمجھتاہے کیوں ۔؟ اورعوامی ردعمل دیکھ کرایسا لگ رہا ہے کہ مذہبی کرداروں کے رویے کے پیش نظر انہیں معاشرے سے نکال پھینکنے کے لئے پر تولے جا رہے ہیں اور بلا شبہ یہ اُن کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن حالا ت کیوں ایسا منظر پیش کر رہے ہیں ۔اس کے لئے کیا کسی صاحب ایمان نے سوچایا یہ فریضہ بھی تب ادا ہو گا جب پانی سر سے گذر چکا ہو گا۔ اگر میں ان سارے مسائل کا ایک جواب دوں وہ یہ ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ علماء کی خاموشی ہے جس کی وجہ سے علماء سو اور چند داڑھی اور جبہ پہنے دماغ میں شیطانی خیالات کی بھرمار لئے معاشرے کی اصلاح کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں اور اِن کے ناقص علم اور غلطیوں کی وجہ سے ایک بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ علماء حق کو بھی عوام نے اُسی صف میں کھڑا کر دیا ہے جہاںیہ جاہل کھڑے ہیں ۔ یہاں مولوی سوچ کو ہی ایک عالم کا عمل و کردار سمجھا جا رہا ہے ۔اس کے لئے عوام کی رائے میں تبدیلی کیسے لائی جانی چاہیے اس بارے میں علماء کو سوچنا ہو گا ،کون علماء کی صف میں کھڑا ہونے کے لائق ہے اور کون نہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ علماء چنتے چنتے ہمیں شیرانی بمقابلہ اشرفی کی طرح گریبان چاک ملیں ہمارے معاشرے میں اِن کے مذہبی کردار اہمیت کھوتے جا رہے ہیں اس جانب توجہ ضروری ہے اور معاشرے کی رائے کو طاقت کے بل بوتے بدلا نہیں جا سکتا اس کے لئے علماء کو بہتر فیصلے کرنے ہوں گے اور مولوی چولا اوڑھے اُن بھیڑیوں کی نشاندہی کرنا ہو گی ۔یہ انہی جاہلوں کی نادانیاں ہیں جن کی وجہ سے اگر کبھی خواتین پر تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے تو مولوی کے ایک جہالت پر مبنی جملے کی وجہ سے اُس واقعے کا نزلہ اسلام پر گرایا جاتا ہے جس کی مثالیں ہمیں موجودہ ادوار میں نظر آتی ہیں ۔ کوئی پرانی بات نہیں ،ایک دن پہلا واقعہ دہرا دوں جس میں ایک داڑھی والے نالائق شخص جسے اتنا نہیں معلوم کہ عام حالت میں مومن پر غصہ جائز نہیں وہ روزے کی حالت میں ایک عورت سے اس قدر غلیظ گفتگو کر رہا تھا جسے ایک مہذب معاشرہ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سُن سکتا ۔ جس پر چند لوگوں نے اس قدر سخت جملے کہے اور موجودہ اسلامی نظریات پر براہ راست تنقید کے نشتر گاڑے ۔ اس کے ساتھ ایک بات واضع کر دوں کہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے جو کسی فردِ واحد کی غلطی کو پورے معاشرے کا چہرہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے تمام نوجوان جو اس نالائق شحص کو اسلام کا محافظ سمجھ کر پوچھ رہے ہیں کہ کیا ایسا اسلام ہے۔۔کیا ؟تو ان کے لئے اتنا بتا دوں کہ اسلام میں غصے کی اس قدر ممانعت ہے کہ ایک مرتبہ میدان جنگ میں امام علیؑ نے ایک دشمن کو زیر کر لیا اور تلوار سے سر تن سے جد ا کرنے والے تھے کہ اس شخص نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا جس پر آپ نے اسے معاف کر دیا اور فرمایا پہلے اللہ کے لئے جہا د تھا اب اس میں انتقام شامل ہو گیا ہے جاؤ میں نے تمھیں معاف کیا ۔۔۔ اگر حمد اللہ تھوڑا بہت اسلام سمجھتا تو یقیناًاسے روزے کی حالت میں غصہ نہ آتا اور مومن تو غصہ پی جانے والے ہوتے ہیں اگر غصہ آبھی گیا تو الفاظ کا اِ س انداز سے دنیا کے سامنے بیان کرنا ایک مہذب فرد کی نشانی نہیں ۔ ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں یہ حل نکالناہو گا کہ کون اسلام اور شریعت پر گفتگو کرنے کے لائق ہے اور کون بازی گر ۔ یہاں جہالت کی انتہا یہ ہے کہ ایک جاہل شخص اپنی گندی اور غلیظ سوچ کو ایسے بیان کر رہا ہوتا ہے کہ رب خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اسی لئے میں سفر خوبصورت خواتین کے ساتھ کرنا پسند کرتا ہوں اور اگر کوئی خوبصورت نہ نظر آئے تو تلاش کرتا ہوں۔مزید اُس کی جہالت کو کیا بیان کروں۔یہ لوگ اس قدر ضعیف سوچ رکھتے ہیں کہ خواتین پر تشدد کے لئے آیات کا سہارا لیتے ہیں جبکہ اس آیت پر کئی بار بحث ہو چکی ہے اور بے شمار علماء نے تشدد سے بھی منع کیا ہے۔یہ آج کی بات نہیں تاریخ اٹھا ئیں تو ہمیں ایسا نظر آتا ہے کہ اگر درباری ملا کسی دور میں پائے گئے تو ہمیں علماء حق کی بھی کہیں پہچان نظر آئی لیکن موجودہ ادوار میں مجھے کوئی عالم اور اسلام کی تعلیمات دینے والا نظر نہیں آرہا ہو سکتا ہے موجود ہوں لیکن مجھے اسلام کا لبادہ اوڑھے جو بھی نظر آیا یا تو کوئی کرنٹ مارنے والا نظر آیایا کوئی حور کے قصے بیان کرنے پر داد کا مستحق ٹھہرا ۔اور کسی کے توبہ توبہ کا سلسلہ مساجد کی تعداد بڑھا گیا ۔ یہی نہیں اب کی بار ہمیں اسلام کے نام پر Emitional Black Mailing بھی نظر آئی جس کی زندہ مثال ہم سب کو آج رمضان نشریات میں نظرآرہی ہے۔ جس میں ہر دس منٹ بعد کہا جاتا ہے جب محترم ناچ گانا کرتے تھے ۔تب اور اب ۔ محترم کرکٹر تھے ۔۔تب ۔۔اور اب۔۔ محترمہ ماڈلنگ کرتی تھیں تب اور اب۔۔ہر کوئی تب اور اب کے اس سلسلے کو کیش کروانے کے چکر میں ہے،ایسے موقع پرجب ان نادانوں کی وجہ سے علماء پر انگلی اُٹھ رہی ہیں تو اس کا ذمہ دار خود علماء کی خاموشی ہے جس کی وجہ سے جاہلوں کو زبان لگ گئی ہے علماء کیا کریں ایسے مواقع پر۔۔ بس ایک کام۔۔۔  نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *