’’ماہرانہ رائے‘‘

Photo Nusrat Javed sbمیں امریکی سیاست کے بارے میں عام پاکستانیوں سے ذرا زیادہ باخبر رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری معلومات کا ماخذ مگر چند کتابیں اور زیادہ تر اخباری مضامین ہی ہوا کرتے ہیں۔ صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے 1986ء سے کئی بار اس ملک جانے کے بھی مواقع ملتے رہے ہیں۔ عام امریکی اپنی روزمرہّ زندگی میں کافی خوشگوار اور دوستانہ نظر آتا ہے۔ مجھے اس ملک میں رہتے ہوئے مگر کبھی بھی کوئی خاص لطف محسوس نہیں ہوا۔ بلندوبالا عمارتوں کو دیکھ کر بلکہ وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے نفسیات دان Claustrophobiaکہتے ہیں۔ یعنی دم گھٹنے کا خوف وغیرہ۔ اسی خوف کی وجہ سے اپنا کام مکمل ہوتے ہی وطن لوٹ آتا ہوں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں مجھے آصف علی زرداری کے انٹرویو کے لئے نیویارک جانا پڑا۔ امریکہ کا یہ سفر میں نے تیرہ سال کے طویل وقفے کے بعد کیا تھا۔ امریکہ میں مقیم میرے چند بہت ہی عزیز دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ میں آصف صاحب سے انٹرویو کے بعد ان دوستوں کے ساتھ بھی کچھ روز گزاروں۔ میرے پاس ان کی خواہش سے بچنے کا بہانہ اس لئے بھی موجود نہیں تھا کیونکہ ان دنوں میں ٹی وی شوز کے حوالے سے تقریباََ فارغ تھا۔ بہت آسانی سے کم از کم دو ہفتے نیویارک اور واشنگٹن میں گزار ے جاسکتے تھے۔ آصف صاحب سے اپنا انٹرویو مکمل ہوتے ہی مگر تین روز امریکہ میں رہ کر وطن لوٹ آیا۔ امریکہ سے اپنی اجنبیت کی تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ آپ کو احساس دلاسکوں کہ امریکی سیاست کے بارے میں میری رائے کم علمی کی بنیاد پر قطعاََ ناقص بھی ہوسکتی ہے۔امریکی سیاست کے بارے میں لیکن کئی برسوں تک وہاں کے نامی گرامی اخباروں میں تواتر سے لکھنے کے بعد چند لوگ وہاں سیاسی پنڈت کہلائے جاتے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ نے جب امریکی صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو ان پنڈتوں کی اکثریت نے اسے کوئی ا ہمیت ہی نہ دی۔ سیاسی پنڈتوں کی ا کثریت کو یقین تھا کہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والا ٹرمپ محض ایک رنگ باز قسم کا مسخرہ ہے۔ اسے اپنی دولت کی نمائش کا جنون ہے اور عمومی اخلاقیات کے حوالے سے اس کے چند رویے بھی قطعاََ ناقابل برداشت ہیں۔ری پبلکن پارٹی کے صدارتی ٹکٹ کے امیدواروں کے درمیان ہوئے ایک Liveمباحثے میں ٹرمپ نے Foxٹیلی وژن کی ایک معروف اینکر کے ساتھ کافی بے ہودہ زبان استعمال کی۔ سیاسی پنڈتوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ٹرمپ کی کہانی ختم ہی سمجھو۔ خاتون اینکر سے بدزبانی کے علاوہ اہم بات یہ بھی تھی کہ Foxٹیلی وژن کو امریکی قدامت پرستوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ یہ نیٹ ورک امریکہ میں مقیم سیاہ فام اور دیگر ملکوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے خلاف انتہائی ڈھٹائی سے اپنے تعصب کا اظہار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ اس کے پروگراموں میں لوگوں کی تضحیک کے لئے وہی زبان اور ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جو پاکستان کے آزاد اور بے باک ٹی وی ٹاک شوز کے اکثر اینکرخواتین وحضرات نے اپنا وطیرہ بنارکھا ہے۔ انتہائی معتبر،اور تجربہ کار مانے سیاسی پنڈتوں کی ماہرانہ رائے کے باوجود ڈونلڈٹرمپ انتہائی تیزی سے ری پبلکن پارٹی کی صفوں میں مقبولیت حاصل کرتا چلا گیا۔ایسا کرتے ہوئے اس نے اس جماعت کے کئی معتبر اور اپنی دولت اور خاندان کے حوالے سے بڑے موثر سمجھے جانے والے حریفوں کو میدان سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔اب یہ بات تقریباََ طے ہوچکی ہے کہ اس سال نومبر میں ری پبلکن پارٹی کی طرف ٹرمپ ہی ڈیموکریٹ پارٹی کی ہیلری کلنٹن کا وائٹ ہاؤس پہنچنے کے لئے مقابلہ کرے گا۔ ٹرمپ کی حیران کن پیش قدمیوں کے باوجود میں اتوار کے دن تک طے کئے بیٹھا رہا کہ بالآخر کامیابی ہیلری کلنٹن ہی کو نصیب ہوگی۔ ایک افغان نژاد نوجوان نے مگر فلوریڈا کے شہر اور لانڈو میں 50کے قریب امریکی ہم جنس پرستوں کو قتل کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ بظاہر ان دو واقعات میں کوئی خاص تعلق نہیں مگر 1980ء میں جب ریگن اور کارٹر کے درمیان صدارتی مقابلہ ہونا تھا تو کارٹر ریگن ایسے B-Gradeایکٹر کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور نظر آرہا تھا۔ چند ایرانی انتہاء پسندوں نے مگر تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے وہاں متعین سفارت کاروں کو کئی ہفتے تک مغوی بنائے رکھا ۔ کارٹر اپنے سفارت کاروں کی حفاظت کے لئے کچھ بھی نہ کرپایا ۔ ریگن نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلمی انداز میں بڑھکیں لگائیں کہ وہ صدر منتخب ہوکر دنیا پرثابت کردے گا کہ اس دور کا سب سے طاقتور ملک صرف اور صرف امریکہ ہے اور کوئی اس سے پنگا لینے کی کبھی جرات نہ کرے۔ اپنی ان بڑھکوں کی بدولت وہ بے پناہ اکثریت سے کامیاب ہوا۔ امریکہ کا صدر منتخب ہوتے ہی اس نے افغانستان کو جہاد کے ذریعے سوویت یونین سے آزاد کروانے کی مہم میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور بالآخر اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب بھی ہوگیا۔ امریکہ کی حالیہ تاریخ میں کلنٹن جیسا کرشمہ ساز کوئی اور صدر نہیں ہوا۔ اس نے امریکی معیشت کی بحالی کے لئے بڑے جدید اور حیران کن اقدامات اٹھائے۔ اس نے اپنی میعادِ صدارت مکمل کرلی تو ٹیکساس سے عادتاََ غلط انگریزی بولنے ،کتابوں اور خیالات کی دنیا سے قطعی اجنبی شخص -بش -رونما ہوا۔جس نے امریکی عوام کو یقین دلایا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ان کے ملک کو جدید دور کی رومن ایمپائر کی طرح پوری دنیا پر اپنا نظام اور روایات مسلط کرنا ہوں گے۔ وہ الگور(Al-Gore) جیسے ماحول میں ہونے والی تباہیوں کے بارے میں فکر مند امیدوار کے خلاف تقریباََ دھونس اور دھاندلی کی بدولت جیت گیا۔ بش نے ا مریکی صدر منتخب ہوجانے کے بعد افغانستان اور عراق میں جو تباہی مچائی وہ ہمارے سامنے ہے۔ اوبامہ نے اس کے چلے جانے کے بعد معاملات کو سنوارنے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔ ڈونلڈٹرمپ کا مگر اصرار ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت نظر آنے والی افراتفری بش کی جانب سے عراق اور افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگیں نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ جو صرف اور صرف دہشتگردی کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا زیرنگین بنانا چاہ رہے ہیں۔ مسلمان خواہ کچھ بھی کہتا رہے اس پر ہرگز اعتبار نہ کرو۔ اس پر کڑی نگاہ رکھو اور بہتر تو یہی ہے کہ اسے امریکہ میں داخل ہی نہ ہونے دو تاکہ وہاں کے لوگ اطمینان سے اپنی اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ صدر اوبامہ کو وہ ایک Closet Muslimقرار دیتا ہے یعنی ایک ایسا مسلمان جو اپنا ایمان ظاہر نہیں کرتا مگر اپنی قوت واختیار کو اپنے دین کی تقویت وپھیلاؤ کے لئے بڑی مکاری سے استعمال کرتا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ فلوریڈا میں اتوار کے روز ہوئے قتل عام کے بعد امریکہ کے سفید فام ووٹروں کی اکثریت ٹرمپ کی باتوں کو اب زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کردے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر خدانخواستہ ٹرمپ امریکہ کا صدر منتخب ہوگیا تو شاید دنیا کو بش سے بھی کہیں زیادہ تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *