مودی کی فتح، پاکستان کے لئے چشم کُشا

Ayaz Amirایازا میر

حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی فتح کے بعد بدقسمتی سے سب سے پہلے ذہن میں ابھرنے والا خیال پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک واضح فرق کا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم نریندر مودی کو پسند نہ کریں کیونکہ اس نے گودھرا میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں جنونی ہندوئوں کو اکسایا یا ان کی معاونت کی، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل کہ وہ جیسا بھی پس ِ منظر رکھتے ہوں، ایک مضبوط وزیر ِ اعظم ثابت ہوں گے۔ ان کی انتخابی مہم ایک واضح مقصد پر مرکوز تھی اور اب بطور وزیر ِ اعظم بھی ان کے سامنے واضح اہداف ہوں گے کہ وہ ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں موجودہ حکومت خود کو بہت طاقتور سمجھتی ہے لیکن جیسا کہ قوم نے ایک سے زیادہ مواقع پر مشاہدہ کیا، ان کی قیادت کا امتیازی نشان ان کی سراسیمگی اور کنفیوژن ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دفاعی اداروں اور جیو کے معاملات نے اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا۔ اپنی آئینی مدت کے پہلے سال کے اختتام پر اب ان کے سامنے صورت یہ ہے کہ ملک میں استحکام تو درکنار، ایک طرف حکومت اور فوج کے درمیان تنائو ہے تو دوسری طرف میڈیا ہائوسز ایک طرح کی خانہ جنگی میں صف آرا ہوتے ہوئے اس آزادی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جو ان کی کسی جدوجہد کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فوجی آمر کی عطا تھی۔ موجودہ صورت ِ حال کے اس نہج تک پہنچنے کی اصل وجہ یہی تھی کہ ہر کسی نے اس بنیادی حقیقت کو فراموش کردیا تھا۔
سرحد پار مودی ایک سیلف میڈانسان ہیں۔ وہ آر ایس ایس اور پھر بی جے پی کی صفوں میں آگے بڑھتے ہوئے اس مقام تک پہنچے۔ وہ بھارتی سرمایہ داروں کے دوست ہیں لیکن وہ خود سرمایہ دار نہیں۔ ہمارے حکمراں ماضی میں دفاعی اداروں کے دست ِ شفقت میں پروان چڑھے اور پھر ان میں سے بعض حکمرانوں نے ترقی کرتے کرتے دنیا کے دولت مند ترین رہنمائوں میں نام پایا۔ مودی کا خاندان کوئی ذاتی کاروبار نہیں رکھتا اور نہ ہی ان کی ادھر اُدھر فیکٹریاں یاملک یابیرون ِ ملک، جیسا کہ لندن، میں وسیع جائیداد ہے جبکہ ہمارے بعض حکمران خاندان کو یہ چیزیں بہت مرغوب ہیں۔ ترجیحات کی تفاوت کی بنا پر ان کے طرز ِ حکمرانی میں بھی نمایاں فرق ہے اور اس حوالے سے پاکستان یقینی خسارے میں ہے۔ آج کل بھارتی ذہن پر پاکستان سے مسابقت کا خبط سوار نہیں بلکہ وہ ایسی کوئی مسابقت دیکھتے بھی نہیں۔ عرصہ گزرا وہ دور تمام ہوا۔ اب مودی کا ایجنڈا پاکستان کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ بھارت کو ایک معاشی طاقت بناتے ہوئے عالمی برادری میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تاہم جغرافیائی قربت کی وجہ سے بھارت کے لئے پاکستان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنا بھی ممکن نہیں لیکن ان دونوں ممالک میں بہت زیادہ فرق نمایاں ہو چکا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم انڈیا کے حریف نہیں رہے۔ ہمارے میزائل اور بم اس بڑھتے ہوئے فرق میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ خدشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق بڑھے گا اور انڈیا عالمی کھلاڑی بن کر سامنے آئے گا جب کہ ہمارے رہنمائوں کی جدت ِ فکر کے سامنے حنوط شدہ مصری ممیاں بھی جدیدیت کا شاہکار ثابت ہوتی ہیں۔
مودی سرکار سے ہمیں ایک اور اندیشہ لاحق ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے ہاں سول ملٹری تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ مخالفین کہتے ہیں کہ دفاعی ادارے پہلے ہی حکومت پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے، اس لئے وہ اس کی بھارت پالیسی کا بہت غور سے جائزہ لیں گے۔ مشرف کیس اور پھر آئی ایس آئی اور جیو تنازع میں دکھائی جانے والی کوتاہی نے حکومت کو ایک کونے میں دھکیل دیا ہے جبکہ دفاعی ادارے ایک حد کے اندر رہتے ہوئے کچھ فعالیت دکھا رہے ہیں۔ جب انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بات ہو گی تو حکومت کے پاس کچھ کر دکھانے کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کے پر کٹ جائیں گے اور ہم نے اپنے لئے جو گڑھا کھود رکھا ہے، اس میں مزید دھنس جائیں گے تاوقتیکہ ہم حالات کے تقاضے بھانپتے ہوئے معاملات کو درست کرنے کی شعوری کوشش نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں بھی ویسی ہی جمہوری حکومت ہے جیسی سرحد پار بھارت میں لیکن پھر من موہن سنگھ کی کانگریس سرکار بھی تو منتخب شدہ تھی۔ ذرا دیکھیں، اس نے کیسی بدانتظامی کا مظاہرہ کیا اور پھر ووٹروں کے ہاتھوں خمیازہ بھگتا۔ اس سے یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہوئی کہ جب تک جمہوری حکومت کچھ کارکردگی نہ دکھائے، یہ کچھ گننے اور تولنے کا ہی نام ہے۔ من موہن سنگھ نے حکومت میں دس سال، آصف زرداری نے پانچ سال اور نواز شریف نے ایک سال گزارا ۔من موہن سنگھ کی دس سال کی خراب کارکردگی ہمیں روا تھی کیونکہ ہم دیکھ سکتے تھے کہ اگر ہماری حکومت کچھ نہیں کررہی تو سرحد پار بھی صورت ِ حال ایسی ہی ہے لیکن مودی کی متحرک قیادت (اور ہمیں تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے کی عادت ڈالنا ہوگی) ہمارے لئے دل خوش کن صورت ِ حال کی عکاس نہیں ہو گی۔ اس کا مطلب یہ کہ ہمارے ہاں بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس میں بدترین بات یہ ہوگی اگر ہم نے اپنے جہادیوں کو کنٹرول نہ کیا۔ ان کی وجہ سے اور کچھ نہیں،صرف ہماری مشکلات میں ہی اضافہ ہوگا۔ کشمیر کے حوالے سے ہم یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے اصولی موقف میں لچک پیدا کئے بغیر غیر ضروری مہم جوئی سے اجتناب کریں۔ اس سلسلے میں چین کی تائیوان پالیسی کو مدِنظر رکھیں کہ وہ عالمی طاقت ہونے کے باوجود محاذآرائی اور بیان بازی سے گریز کرتا ہے۔ دوسری طرف جب تک ہم کشمیر پر مظہر شاہ کی طرح بڑھکیں نہ ماریں، ہمیں اپنی پاکستانیت مشکوک دکھائی دیتی ہے۔ دراصل ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے پہلا اور ناگزیر قدم قیادت کے بحران کا خاتمہ ہے۔ ہمیں ایسا قائد چاہئے جس کا ہاتھ پتوار پر مضبوطی سے جما ہوا ہو تو نظر دور افق پر۔ تاہم مصری ممیوں سے اس کارگزاری کی توقع عبث ہے۔ جیسے شیشے میں ایک مرتبہ بال آجائے تو وہ کبھی نہیں جڑتا، اسی طرح کسی کے بارے میں پیدا ہونے والا گمان(یا بدگمانی) بھی نہیں جاتا۔ جب آپ اپنی فوج سے بھی بات نہیں کر سکتے تو بیرونی طاقتوں کے ساتھ کس طرح کریں گے؟ موجودہ صورت ِ حال میں جس طرح حکومت کی طرف سے معاملات کو سنبھالا دینے کے بجائے جہادی دستوں کو گلیوں اور بازاروں میں مارچ کرتے ہوئے انصاف کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دے دی گئی ہے ، یہ حکومت کی بدانتظامی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہورہا ہے کہ حکومت نے غیر ضروری طور پر مشرف کا ٹرائل شروع کردیاجبکہ کچھ میڈیا کے سدابہار مجاہدین بھی سابق آمر کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہ میڈیا کے وہ بقراط ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے یہ بتابتا کر قوم کا ناک میں دم کیا ہوا تھا کہ اب آزاد اور خود مختار عدلیہ، طاقتور میڈیا اور باخبر سول سوسائٹی ہے، اس لئے اس نئے پاکستان میں فوجی مداخلت کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ۔
مشرف کی ناکامی کی بنیادی وجہ سابق چیف جسٹس سے کھلم کھلا محاذآرائی تھی۔ اس کے بعد سے ہمارے خفیہ اداروں نے ایک سبق سیکھتے ہوئے ایک زیرک حکمت ِ عملی اپنالی ہے۔ اب وہ میڈیا کے ساتھ براہ ِراست رابطہ رکھنے کے بجائے سائیڈلائن پر رہتے ہوئے کچھ اور گھوڑوں کو آگے کرتے ہیں۔ یہ دائو کارگر ثابت ہورہا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میڈیا میں پیشہ ورانہ رقابت کی لکیر مزید گہری ہوکر دشمنی تک پہنچ گئی ہے اور وہ دیدہ و نادانستہ طور پر کسی کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں تاہم جس دوران ہم داخلی طور پر ان چھوٹی چھوٹی جھڑپوں میں الجھے اپنے اپنے مورچے میں دھنسے ہوئے ہیں، وسیع تر منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔انڈیا میں نئی اور پرعزم قیادت ابھری ہے تو افغانستان میں عبداﷲ عبداﷲ اقتدار میں آئے ہیں۔ یہ صورت ِ حال ہمارے جنرل اسٹاف کے لئے ایک بھیانک خواب سے کم نہیں۔ ان حقائق کے پیش ِ نظر اب ضروری ہے کہ داخلی استحکام کی خاطر اندرونی محاذآرائی سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ ہمارے سول حکمران بھی خواب سے جاگیں تو نریندر مودی کا بھارت ہمارے لئے بہت سے امکانات کے دروازے کھول سکتا ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ پرانے ساز بدلے جائیں، طرز ِ کہن سے جان چھڑائی جائے اور نئے آفاق کی طرف چشم دل وا کر کے پراعتماد نظروں سے دیکھا جائے۔ نئے چیلنج نئے امکانات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں، اس لئے دل چھوٹا کرنے کی نہیں، جاگنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *