ہندو بچے کی سوئمنگ پول میں ہلاکت معمہ بن گئی

Dr. Hoti Son

حیدرآباد -صوبہ سندھ کے شہر میرپورخاص کے معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر چیتن داس ہوتوانی کا 11 سالہ بیٹا اِندر ونیت 13 اپریل 2016 کو تیراکی کے لیے حیدرآباد کلب گیا اور 23 اپریل کو اسے آخری رسومات کے لیے واپس لایا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے ڈاکٹر ہوتوانی شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ ڈاکٹر ہوتوانی نے بتایا، 'واقعے سے ایک دن قبل اِندر کلب گیا، وہ تیراکی کرنا چاہتا تھا لیکن کوچ نے اسے کہا کہ انڈر-15 پول بند ہوچکا ہے، لہذا وہ کل جلدی آئے، اگلے دن اِندر انتہائی جوش وخروش کے ساتھ سہ پہرساڑھے 3 بجے ہی وہاں پہنچ گیا، جس کے بعد دو لائف گارڈز کے ہمراہ وہ 4 بجے سوئمنگ پول کے اندر داخل ہوا۔'

اپنے بھائی اور وکیل سجاد احمد چانڈیو کے ہمراہ ڈاکٹر ہوتوانی نے اپنے بیٹے کی بہت سی تصاویر دکھائیں، جن میں خوش باش سا اِندر کسی تصویر میں ہولی کے رنگوں میں رنگا نظر آیا تو کہیں کسی شادی کی تقریب میں ڈانس کرتا نظر آیا اور کسی تصویر میں وہ اپنے دوستوں، والدہ اور بہنوں کے ساتھ نظر آیا۔ اور پھر 3 تصاویر مزید تھیں— ایک میں اِندر بہت ساری ٹیوبز میں جکڑا وینٹی لینٹر پر موجود تھا، جبکہ 2 تصاویر سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج سے لی گئی تھیں جن میں اس کی تھوڑی، گردن کی پشت اور کندھوں پر زخم کے نشانات موجود تھے۔

ڈاکٹر ہوتوانی جو جامشورو کی لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ کوچ نے اِندر کو ہسپتال منتقل کیا، 'ہمیں کال موصول ہوئی اور ہم فوراً ہسپتال کی طرف بھاگے، جو کلب سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھا۔' ان کا کہنا تھا کہ 'ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے میں نے بھی اپنے بیٹے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پھر ہم اسے کراچی لے گئے، اس کے خون کی گردش اور دل کی دھڑکن درست تھی لیکن دماغ متاثر ہوچکا تھا، حتیٰ کہ آغا خان ہسپتال نے بھی اس کی دماغی صحت کے باعث اسے داخل کرنے سے انکار کردیا۔'

ایڈووکیٹ چانڈیو کے مطابق، 'وہ ڈوبا نہیں تھا، ان کی نیت خراب تھی اور جب اِندر نے مزاحمت کی تو انھوں نے گلا گھونٹ کر اسے سوئمنگ پول میں ڈال دیا۔' دوسری جانب آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے کلینیکل نیورو فزیولوجی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ بھی ان دعووں کی حمایت کرتی ہے، جس میں 'شدید دماغی ہیجان' کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں 'دماغ کی شدید چوٹ' کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مذکورہ کلب، سندھ کی وزارت کھیل کے تحت ہونے کی بناء پر ایک حکومتی ادارہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ہوتوانی پر ایف آئی آر کا اندراج نہ کرانے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالا گیا۔ ان کا کہنا تھا 2 مئی کو ایف آئی آر درج ہونے سے 11 دن پہلے تک ہم بالکل گنگ تھے۔ اسی دوران ایڈووکیٹ چانڈیو نے بتایا کہ کلب کی جانب سے واحد مدد صرف ایک 3 منٹ دورانیے کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنا تھی۔ کانوں کو ہاتھ لگا کر 'توبہ' کرتے ہوئے کچھ ملازمین نے رازدارانہ انداز میں بتایا کہ انھوں نے پوری ریکارڈنگ 4 مرتبہ دیکھی ہے۔

'ثبوتوں' پر ایک نظر ڈال کر ڈاکٹر ہوتوانی نے مشینی انداز میں ہر پہلو بتایا، انھوں نے بتایا کہ 'ایک بچہ منہ نیچے کیے پول کے کنارے پر تیر رہا ہے، جہاں وہ بظاہر 8 منٹ تک رہا، اس وقت نہ تو کوچ اور نہ ہی لائف گارڈز نظر آئے، پھر ایک اجنبی خاتون نظر آتی ہیں جو اشاروں کی مدد سے بچے کی جانب اشارہ کرتی ہیں، آخر کار کوچ کو اِندر کو کندھے پر لادے گیٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے اور خاتون بھی ان کے پیچھے جاتی ہیں۔' 'دروازے پر موجود ایک شخص اِندر کے زخموں کو اپنے ہاتھ سے ڈھک دیتا ہے اور خاتون کو غصے سے جھڑک دیتا ہے۔'

ڈاکٹر ہوتوانی اور ان کے وکیل کو اس بات کا یقین ہے کہ اِندر پول میں نہیں گیا تھا اور اس کا ثبوت حکام کا یہ بیان ہے کہ بچہ تیراکی کے سازوسامان کے بغیر پہنچا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کلب والوں نے اِندر کی لائف جیکٹ، گوگلز اور ایئرپلگز بھی واپس نہیں کیے اور نہ ہی پولیس نے رپورٹ میں کسی عہدیدار کا نام شامل کیا۔  پوسٹ مارٹم رپورٹ کی غیر موجودگی سے بھی ڈاکٹر ہوتوانی کا کیس کمزور ہوگیا ہے لیکن اگر سیاسی اثرورسوخ نہ رہے تو کچھ واضح تضادات اس کیس کو مضبوط بنانے میں مدد ضرور کرسکتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *