طاہرالقادری کو ایک اور دورہ !

naeem-baloch1ویسے تو یہ عالم عجائبات سے بھرا ہوا ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو قطعی طور پر بالکل سمجھ میں نہیں آتیں ۔ انھی انتہائی عجوبہ چیز وں میں سے ایک طاہرالقادری ہیں ۔ یہ بات نہیں کہ ان کو جاننے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے حوالے سے معلومات اس وقت سے ہیں جب وہ سمن آباد جسٹس سکیم میں رہتے تھے اور ان کے بچے ہماری مرحوم اہلیہ کے پاس ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ پھر ان سے تفصیلی اور اصل تعارف اس وقت ہوا جب اسی (80)کی دہائی میں دانش گاہ معارف اسلامی المورد، گارڈن ٹاؤن لاہور میں قائم ہوئی۔ وہ استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت پر ہم طلبہ کو لکچر دینے تشریف لائے۔ استاد محترم اس بات کا اہتمام کرتے تھے کہ مختلف مکتبہ فکر کے لوگ ادارے میں تشریف لائیں اور ہم طلبہ دینی اور ملی موضوعات پر ان کی آراء سے بھی واقف ہوں ۔ طاہرالقادری ادارے میں تشریف لانے والی اولین شخصیات میں سے تھے ۔ انھوں نے ہم سے جو گفتگو کی ، وہ انتہائی عجیب وغریب تھی۔میں اس وقت ادارے کے مجلے کا نائب مدیر تھا ۔ مجھے ان کی تقریر کی رپورٹ لکھنا تھی۔ لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا لکھوں۔ میں نے برادرم محمد احسن صاحب ، مدیرمجلہ ،  اوربرادرم طالب محسن صاحب ،جو ہمارے ’’بزرگ‘‘ مدیر تھے، ان سے پوچھا کہ طاہرالقادری صاحب کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ مولانا مودودی صاحب نے ٹھیک محسوس کیا کہ مسلمانوں میں جنت کا تصور ایک نشہ آور شے ہے ۔ اس لیے مولانا مودودی نے مسلمانوں کو اس نشے سے باہر نکالا اور ان کو ساری دنیا پر حکومت کرنے کا عظیم الشان نصب العین دیا۔ لیکن میری طرح وہ بھی اس بات کا مطلب سمجھنے کے باوجود کچھ نہ سمجھا سکے۔ دراصل ہماری الجھن یہ تھی کہ مولانا مودودی جنت کے بارے میں ایسی رائے رکھتے ہیں اور نہ مسلمانوں میں کوئی قابل ذکر تعداد ایسی ہے جن کے ہاں جنت کا یہ تصور پایا جاتا ہے ۔ اس لیے یقیناً ہم ہی ان کی بات کو درست نہیں سمجھے ہوں گے۔ چنانچہ ہم نے ہمت کی اور قادری صاحب تک جا پہنچے کہ قبلہ کیااس کا وہی مطلب ہے جو ہم سمجھیں ہیں ؟ لیکن انھوں نے دامن نہ پکڑایا ۔ ایسا رویہ اختیار کیا کہ نہ نومن تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی ، والا محاورہ سمجھ میں آگیا ۔ چنانچہ ہم مایوس لوٹ آئے۔ اس کے بعد وہ ادارے میں اس وقت نظر آئے جب عورت کی آدھی گواہی کے مسئلے پر وہ استاد محترم سے رہنمائی لینے آئے۔ انھوں نے کئی نشستیں کیں۔ پھر اس موضوع پر شادمان کی مسجد میں زبردست مناظرے کا اہتمام کیا۔ اگرچہ اس مسئلے کی تفہیم استاد محترم سے حاصل کی لیکن مناظرے میں اسے اپنی تحقیق کے طور پر پیش کر دیا۔اس واقعے کے بعد وہ دوبارہ المورد میں تشریف نہیں لائے۔ اس کے بعد میں نے ان کی وہ ویڈیو اور آیڈیو ز سنیں جن میں انھوں اپنے خواب بیان کیے ۔ انھوں نے رو رو کر کے بیان کیا کہ کس طرح حضورﷺپاکستان کے تمام علما ء سے مایوس ہو واپس جارہے تھے تو ان کے ہاں تشریف لائے۔ مذہبی فکشن کا یہ شاہکار جس جس نے بھی سنااس کی مارے حیرت اور غصے کے چیخیں نکل پڑیں۔ پھر جب انہیں احساس ہوا کہ ان کا ’’ قد ‘‘ بڑھ چکا ہے تو وہ شریف فیملی کی گود سے نکل آئے ۔ لیکن معاملہ کورٹ نے یہ کہہ کے نپٹایا کہ وہ انتہائی جھوٹے ، احسان فراموش اور فلاں فلاں شخص ہیں ۔اس کے بعد وہ سیاست میں کودے ۔ اسمبلی میں پہنچے،’’ ڈرامی‘‘ کرکے استعفا دیا ، پھر کینیڈا کی شہریت اختیار کی، وہاں جنت کے ٹکٹ بیچے اور پھر دھرنا سیاست کا آغاز کیا ۔ دھرنوں میں کیا کچھ نہیں کیا ۔ ایک نہیں کتنی مرتبہ یہ لکھا اور کہا گیا وہ انتہائی مکار ، جھوٹے ، فراڈیے ، بلیک میلر اور پرلے درجے کے بے ایمان ہیں ، حتیٰ کہ شیخ رشید ان کے سامنے ’’رحمت اللہ علیہ‘‘ نظر آنے لگے۔ پی پی پی نے ان کی اصلیت تمام سیاستدانوں تک بھی پہنچا دی ۔ اس عرصے میں مجھے کوئی قابل ذکر عالم دین ، کوئی ٹاپ رینک کا صحافی ، کوئی سنجیدہ اہل دانش ، کوئی ادیب کوئی شاعر بتائیں جو ان کے بارے میں مثبت رائے رکھتا ہو ۔ حتیٰ کہ عمران خان اپنی انتہائی چھوٹی آنکھوں کے باوجود انھیں پہچان چکے ہیں ۔ سوال یہ کہ جب وہ مذہبی اور سیاسی حوالے سے ایسی ’’ کوڑھ کرلی ‘‘ بن چکے ہیں کہ کوئی نہ ان کو اگلنے کو تیار ہے اور نہ نگلنے کو تو اس کے باوجود وہ خبروں میں کیوں’’ان ‘‘ ہیں ؟ان کی سیا سی تخریب کاریوں کے ہیوی بجٹ کے پیچھے کون ہے ؟  ان کی سیاسی عصبیت کیا ہے ؟ ان کی مذہبی نیوسنس ویلیو کی کیا حقیقت ہے؟
کوئی اس الجھن کی سلجھن پیش کرے گا ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *