میاں نواز شریف سے ایک ملاقات!

Photo Attaul Haq qasmi sbایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص حکومت میں ہو اور اس کے باوجود اس کے چاہنے والوں کی تعداد میں کمی نہ آئے۔ یہ بات میں یوں کہہ رہا ہوں کہ انسان جہاں محبت کرے، وہاں بعض اوقات اس سے غیر حقیقی توقعات بھی وابستہ کرلی جاتی ہیں جو پورا ہونا ممکن نہیں ہوتیں، تاہم وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف یوں تو ہر لحاظ سے خوش قسمت ہیں، مگر اقتدار میں ہونے کے باوجود عوام کی محبت سے محروم نہ ہونا یہ ان کی خصوصی خوش نصیبی کی ذیل میں آتا ہے۔ عام حالات میں لوگ شکوے شکاتیں بھی کرتے ہیں، کئی دفعہ غصے میں بھی نظر آتے ہیں لیکن بحرانی لمحوں میں وہ سب کچھ بھول کر نواز شریف پر اپنی محبتیں نچھاور کرتے ہیں۔ اسی محبت کا مظاہرہ برسہا برس سے انتخابات کے موقع پر بھی ہوتا ہے اور اس بار تو یہ محبت ایک نئے رنگ میں سامنے آئی، یعنی جب اخبارات میں میاں صاحب کی علالت اور اس علالت کی سنگینی کی خبریں شائع ہوئیں تو ان کے چاہنے والوں میں ایک عجیب طرح کی بے چینی اور اضطراب دیکھنے میں آیا۔ لوگ ایک دوسرے سے اپنی تشویششیئر کرتے تھے اور اس طرح پریشان دکھائی دیتے تھے جیسے ان کا کوئی قریبی عزیز بیمار ہو۔ مسجدوں اور گرجاؤں میں ان کی صحت کے لئے دعائیں کی گئیں، گھروں میں میلاد کی محفلوں اور قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سے ان کی صحت کی دعائیں مانگی گئیں ا ور اللہ نے یہ سب دعائیں سنیں اور قبول کیں۔ میاں صاحب کے اوپن ہارٹ سرجری کے چار خطرناک ادوارپوری طرح کامیاب رہے اور خدا کے فضل و کرم سے میاں نواز شریف اب تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
گزشتہ پیر کو میں نے مجیب الرحمان شامی اور ڈاکٹر سعید الٰہی کی معیت میں میاں صاحب سے لندن میں ملاقات کی ا ور یہ ملاقات خاصی طویل تھی۔ وہ مجھے صحت مند تو لگے لیکن وہ دھیمی آواز میں گفتگو کررہے تھے اور مجھے ان کی آواز میں ہلکی سی نقاہت بھی محسوس ہوئی۔ بیگم کلثوم نواز اور حسین نواز بھی اس ملاقات میں موجود تھے جبکہ حسن نواز نے باہر دروازے پر ہمیں خوش آمدید کہا تھا۔ میاں صاحب نے اپنی علالت کے حوالے سے تو غالباً دو ایک جملے ہی کہے ہوں گے لیکن ان کی ساری گفتگو پاکستان سے عشق کی حد تک محبت کی آئینہ دار تھی۔ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات ان کے لئے تشویش کا باعث تھے۔ شدید علالت کے لمحوں میں انسان اپنی ذات کے بارے میں زیادہ سوچ رہا ہوتا ہے جیسا کہ فارسی کے ایک شاعر نے کہا ہے کہ جب دمشق میں قحط پڑا، تو لوگ عشق کرنا ہی بھول گئے لیکن تکلیف کے ان لمحوں میں بھی میاں صاحب کا پاکستان سے عشق پوری طرح برقرار نظر آیا۔ وہ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور ہم نے زیادہ تر سننے پر اکتفا کیا۔ میاں صاحب نے اپنی یہ وضعداری بھی قائم رکھی کہ ملاقات کے اختتام پر ہمیں باہر تک چھوڑنے آئے۔
دوسری طرف ہمارے ہاں کچھ ایسے سفاک لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے یہ احمقانہ باتیں بھی کیں کہ میاں صاحب نہ بیمار ہیں اور نہ ان کا کوئی آپریشن ہوا ہے بلکہ یہ سب ڈرامہ ہے۔ انہیں یہ بات کہتے ہوئے نہ خوف خدا محسوس ہوا اور نہ خلق خدا سے شرم آئی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جب دنیا بھر کی اہم شخصیتیں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ان کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں ، وہاں ان کی اس بیہودہ گوئی پر کون یقین کرے گا، مگر وہ اس طرح کی باتیں کوئی پہلی دفعہ تو نہیں کررہے تھے۔ یہ ایک بیمار ذہن ہے، جسے ہماری عدالتی کمزوریوں نے ہر طرح کے بہتان ، کردار کشی اور گالی گلوچ کی یوں اجازت دے رکھی ہے کہ ڈینیمیشن کے کیسوں کا برسوں فیصلہ نہیں سنایا جاتا اور نہ ہی عدالتیں کبھی واضح اور کھلے جھوٹ پر کبھی سوموٹو کا اختیار ا ستعمال کرتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب خود جج بھی اس کی زد میں آرہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں افضل خان نامی ایک باریش شخص نے یہ سفید جھوٹ بولا کہ انتخابات میں دھاندلی کا وہ عینی شاہد ہے اور جب عدالت نے اس سے ثبوت مانگا تو اس نے غیر مشروط معافی مانگ لی، جو عدالت نے قبول کرلی حالانکہ اس شخص کو اس کے کہے کی سخت سزا ملنا چاہئے تھی، جس نے عمران خان کے دھرنے میں کھڑے ہو کر یہ بات کہی تھی اور یوں انتخابات کے سارے عمل کو مشکوک ٹھہرایا تھا۔
لندن میں تین روزہ قیام کے دوران دوسرے دوستوں سے بھی مختصر ملاقاتیں رہیں تاہم میرا اور عزیر احمد کا زیادہ وقت برادرم احسان شاہد ہی کے ساتھ گزرا۔ وہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے سولہ گھنٹے ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ لندن میں جس دن میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی اسی دن عزیزم حسین نواز نے ہمارے اعزاز میں افطار ڈنر دیا جس میں بعض دوسرے احباب بھی شریک تھے۔ یہاں ہلکی پھلکی گپ شپ رہی ۔ مجیب الرحمان شامی ذہانت اور فطانت سے مالا مال ہونے کے علاوہ پھلجھڑیاں چھوڑنے کے بھی ماہر ہیں۔ سو وہ اپنا یہ ہنر یہاں بھی دکھاتے رہے اور آخر میں یہ کہ جونہی آپ یہ کالم پڑھ چکے ہوں گے یا جوج ماجوج کا ایک لشکر مجھ پر حملہ آور ہوچکا ہوگا، انہیں غصہ تو میاں نواز شریف کے رو بصحت ہونے پر آرہا ہوگا مگر ان کے ساتھ ساتھ وہ اپنا غصہ مجھ پر بھی اتاریں گے، اور سچی بات یہ ہے کہ اب تو مجھے ان پر غصہ نہیں آتا ، ترس آتا ہے، یہ ذہنی مریض ہیں اور ان کا علاج ڈاکٹر سعد ملک ہی کے پاس ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مصروف اوقات میں سے خدا کے لئے انہیں بھی کچھ وقت دیں شاید آپ کی کونسلنگ ہی سے یہ مریض صحت یاب ہوجائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *