یہ نظام نہیں چل سکے گا؟

khalid mehmood rasool

اس عنوان سے ہمارے دوست اور رفیق کالم نگار سلمان عابد نے گذشتہ اتوار ایک خیال انگیز کالم لکھا۔ ۔۔ مسئلہ اس موجودہ حکومت کا نہیں بلکہ اس کرپٹ اور بد عنوانی پر مبنی نظام کا ہے جو اچھی اور شفاف حکمرانی میں خود بڑی رکاوٹ ہے بنا ہوا ہے۔ یہ نظام اچھے لوگوں کو بھی اپنے ہی رنگ میں ڈھالنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ پورا سیاسی نظام حکومت اور حزب اختلاف عملی طور پر ایک ردِعمل کی سیاست کے طور پر چل رہا ہے جہاں روزمرہ کے معاملات کو پرکھ کر اپنی سیاست بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہو گا کہ ہماری سیاسی قیادت مسائل کا حل بنے کی بجائے خود ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ۔۔
جس نظام کے تحت ہمارے شب و روز بسر ہو رہے ہیں اس کی نمایاں خصوصیات بڑی دلچسپ ہیں۔ جمہوری نظام ہے لیکن کچھ اس ادا سے کہ بیشتر بڑی سیاسی پارٹیاں خاندانوں کی باج گذار ہیں۔ اس نظام میں ایان علی کے دفاع کے لیے اعلیٰ ترین وکالت دستیاب ہے لیکن مقتول کسٹمز آفیسر کے قتل کی فائیل کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ میڈیا کی تر جیحات کا یہ عالم کہ گذشتہ دن اور رات اس خبر کو لیڈ سے گرنے نہ دیا کہ ایان علی کو دوبئی جانے سے عین ائیرپورٹ پر روک لیا گیا، دیگر کئی اہم خبریں اس خبر کے آگے ماند رہیں۔ طاقت کے اندھے استعمال کے خلاف داد رسی پر مامور پنجاب کا صوبائی محتسب اس لیے مستعفی ہونے پر مجبور ہے کہ اسکے احکامات کو بیوروکریسی ماننے کو تیار نہیں۔ صوبے وفاق سے شاکی ہیں کہ اختیارات اور وسائل پر حد سے تجاوز ہوا جاتا ہے لیکن صوبے مقامی حکومتوں کے اختیارات اور وسائل دینے پر آمادہ نہیں۔ انصاف کا یہ عالم کہ سرِ عام چوک میں قتل کرنے والا عدم ثبوت پر بری ہو جاتا ہے۔ کرپشن کی اس قدر معتبر کہ کرپٹ عدالیوں میں پیشی پر آتے جاتے وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔ ٹیکس دینے کو کوئی تیار نہیں ، بلیک اکونومی پر ہاتھ ڈالنے کی کسی مائی کے لال میں ہمت نہیں۔ دولت کا اندھا دھند ارتکاز ہو رہا ہے اور غربت کا بے تحاشہ پھیلاؤ ببھی۔ کرپشن اور اقرباء پروری اور ہر حال میں مفادات کا تحفظ سیاست میں بھی روا اور عام زندگی میں بھی رہنما اصول۔۔۔
انسان ماضی سے سیکھتا ہے، حال میں جیتا ہے او ر یوں ماضی اور حال سے دھاگے چن کر مستقبل کا پیرہن تیار کرتا ہے۔ گذشتہ کئی دِہایوں سے زمانے کی چال ڈھال اس قدر تیزی سے بدلی ہے کہ بہت ساری چیزوں کے سیاق و سباق اور معاملات کی ترجیحات اور رفتار میں زمین آسمان کا سا فرق آچکا ہے۔ مشہور محاورہ ہے دوڑ و زمانہ قیامت کی چال چل گیا۔ زمانہ کبھی بھی جامد نہیں رہا لیکن گذشتہ کچھ دِہایوں سے تو اسکی رفتار سے پوری نسلِ انسانی کا سانس پھولنے لگا ہے۔ علم او ر پیہم تبدیلی کے اس ہنگام میں جہاں مسقبل کے معاملات پر ماضی کے ساتھ ساتھ گہری نظر ضروری ہے، وہاں صرف ماضی کے چلے چلائے ڈھلے ڈھلائے نسخے شاید اب کام نہ آسکیں۔ ویسے بھی ہر نسخے کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے، جو سیاسی اور انتظامی طور طریقے کل کامیاب تھے ، ضروری نہیں کہ آنے والے کل میں بھی کامیاب ہوں ۔
پاکستان کی سیاست اور اسکا نظام اپنی تمام تر فرسودگی کے ساتھ جاری رہنے پر مصر ہے۔میڈیا ٹاک شوز کی منڈی نے سیاست دانوں کے لیے زندگی مزید آسان کر دی ہے۔ گلا پھاڑ کر مخالف کر رگیدنے کا فن ترقی کر رہا ہے۔ ڈلیور کرنے کا کشٹ اٹھانے سے کہیں آسان ہے کہ میڈیا مینجمنٹ ٹھیک ہو۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت اپوزیشن نے یہ راز نہ صرف پا لیا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد پر عبور بھی حاصل کر لیا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ ان حالات میں جب کہ نظام اپنے آپ کو بدلنے پر آمادہ ہے نہ اسکے رکھوالے اس میں تبدیلی پر قائل ہیں ، سیاست اور معاشرت ، معیشت اور آبادی کی ساخت اس قدر بدل چکی ہے مگر اس نظام کے کارپردازوں کو ادراک ہی نہیں کہ ان کے پاؤں کی مٹی کب کی چھوٹ چکی۔
1972 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی ساڑھے چھ کروڑ تھی جو اب تین گنا بڑھ کر انیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 1972 کی مردم شماری کے مطابق شہری آبادی کا تناسب 25% تھا، جو 1998 کی مردم شماری کے مطابق 32.5% ہو چکا تھا۔ اس وقت کی آبادی حکومتی اندازے کے مطابق 195 ملین ہے جس میں شہری آبادی کا تناسب چالیس فی صد کے لگ بھگ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنوبی ایشیا ء میں پاکستان میں شہری آبادی میں تیز ترین اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر اضافے کی یہی شرح رہی تو 2030 تک پاکستان کی نصف آبادی شہری علاقوں میں سکونت پذیر ہو گی۔ آبادی کی ترتیب میں یہ ایک انقلابی تبدیلی ہے۔ اس کے ساتھ معاشرے کی ہیت ، معمولات اور توقعات میں بھی اسی مناسبت سے تبدیلی آرہی ہے۔ شہروں کی مڈل کلاس کا اثر و رسوخ اور وزن پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ آبادی کے فی کلومیٹر density کا یہ حال ہے کہ 1972 کی مردم شماری کے مطابق یہ شرح 82 افراد فی مربع کلو میٹر تھی جو 1998 کی مردم شماری کے مطابق 166 ہو چکی تھی۔ اس وقت کی آبادی کے حساب سے یہ تناسب 245 کے لگ بھگ ہے۔ آبادی کا ساٹھ فی صد 15- 64 سال کی عمروں پر مشتمل ہے یعنی تقریباٌ بارہ کروڑ آبادی روزگار کے لیے سرگرداں ہے !!!
کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم مزید اعدادوشمار سے گریز کر رہے ہیں لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ گذشتہ چار پانچ دِہایوں میں پاکستانی معاشرے کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں لیکن اس نظام کے رکھوالوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نوجوانوں کا آبادی میں بلند ترین تناسب، شہری آبادی کی بلند ترین شرح، شہروں میں مڈل کلاس کا پھیلتا ہوا سائز اور بڑھتی ہوئی توقعات اور میڈیا کے سراسر ہیجان خیزی پر مبنی ماڈل نے معاشرے کو یکسر بدل دیا ہے۔ دیہی اور شہری عوام کی توقعات میں طوفانی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضبط کے بندھن بھی اسی تناست سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ گئے وہ دن کہ بلند بانگ دعووں اور جذباتی تقاریر سے عوام بہل جاتی تھی۔ جا بجاعوامی طاقت کے اظہار اور جارحانہ احتجاج کا رویہ پنپ رہا ہے۔ پاکستان کا معاشرہ اسّی اور نوے کی دِہائی سے بہت آگے نکل آیا ہے۔ بالائی طبقات مگر اپنے تصورِ جاناں کے لیے فرصت کے وہی دن رات ڈھونڈ رہے ہیں۔
دنیا میں حالیہ تبدیلیوں کا مشاہدہ یہی بتا تا ہے کہ اگر نظام نے نئے تقاضوں کے مطابق اپنا آپ تبدیل نہ کیا تو معاشرے کی بدلتی ہوئی ساخت اس نظام کی فرسودگی کو مزید برداشت نہیں کر سکے گی۔ مشاہدہ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ اگر نظام میں عوامی تسلی کے مطابق بروقت تبدیلیاں نہ ہوں تو معاشرے کے ضبط کے ٹوٹتے بندھنوں کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیاں غیر فطری ہو سکتی ہیں ۔۔۔ اور اکثر غیر فطری تبدیلیاں اپنے ساتھ بہت سی ان دیکھی مشکلات لاتی ہیں۔ بہارِ عرب پر خزاں کا شب خون ابھی کل ہی کی بات ہے جس کے بعد آگ او رخون اور مہاجرین کا لا متناہی سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ تہذیب کے گہوارے عراق اور شام میں انسانوں کے ساتھ ساتھ پرانی تہذیب کے کیا کیا آثار ملیا میٹ نہ ہوئے۔
اشرافیہ یا بالائی طبقات کا مگر سدا کا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں ان تباہ کن تبدیلیوں کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب گاڑی چھوٹ چکی ہوتی ہے، پہیہ الٹا چلنا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارا یہ نظام نہیں چل سکے گا۔۔۔یہ حقیقت تو تقریباٌ طے شدہ ہے لیکن اگر از خود اس میں بہتری نہ لائی گئی تو اس کی کوکھ سے کچھ غیر طبعی ہی برآمد ہو ہو گا، جس کے ا دراک کا ہمیں یارا ہے نہ ہمت۔ بس دعا ہے کہ ہوش کے ناخن کہیں سے اگر مل جائیں تو شاید کچھ بچت ہو سکے، ماضی کا آزمودہ سبق بھلا کر حال کے کچھ نئے تقاضے اگر سیکھ لیے جائیں تو شاید غیر فطری تبدیلیوں کے عذاب سے بچ سکیں ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *