نقال قوم کے نقال مراثی‎

saeed khan

ایک دوست نے ہم سے پوچھا ہے کہ فیس بک پران کے اپ ڈیٹس معیاری ہونے کے باوجود لوگوں کو پسند نہیں آتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہماری "ماہرانہ رایے" پوچھی ہے۔ شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے کم علم شخص کو اس قابل سمجھا۔ اس سوال کا جواب کیوں کہ فیس بک استعمال کرنے والے بہت سارے حضرات کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے اس لیۓ میں اس اپ ڈیٹ کے ذریعہ اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔ پہلی ضروری بات یہ ہے کہ پوسٹ کو غیر ضروری طور پر کھینچ تان کر طوالت نہ دیں ۔۔۔ خیال رہے کہ پہلے زمانے کی طرح اب لوگوں کے پاس اتنا پالتو وقت نہیں ہے کہ وہ باقر علی داستان گو کی طرح افیون کی گولیاں گھول کر آب کی لمبی لمبی کہانیوں پر سر دھنتے رہیں۔۔۔ خیال رہے کہ صبح صبح لوگوں کو ڈیوٹی پر بھی جانا پڑتا ہے۔ مطلب یہ کہ سب لوگ میری اور آپ کی طرح نکمے نہیں ہوتے۔ قصہء چار درویش اور گلستاں بوستان طرز کی تحریریں پڑھنے کے بجایے اب لوگ مختصر مختصر تحریریں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی مثال اردو افسانہ ہے جس کی جگہ اب افسانچوں نے لے لی ہے۔ آپ کو انگریزی کی کچھ شد بد ہو یا نہ ہو ، کمنٹ یا اپ ڈیٹ ضرور انگریزی میں پوسٹ کیا کریں ۔ اس سے آپ کے اپ ڈیٹ میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور دوسروں پر آپ کی علمیت کا رعب بھی۔۔۔ یہ بات یاد رکھیں کہ انگریزی میں بات کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔۔۔۔۔ ایک "شٹ اپ" ہی کو لے لیں ۔۔کتنی طاقت، رعب اور دبدبہ ہے ان دو لفطوں میں۔۔۔ "یو بلڈی انڈین" یا "یو بلڈی پاکی" نقال قوم کے نقال مراثی ۔۔۔۔ کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ نتھو پتھو ( وغیرہ وغیرہ ) کو آپ کی غلط سلط انگریزی سے کیا سروکار ہے؟۔ آخری اہم بات یہ کہ عام اور سادہ انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی کو شش کریں۔ دانش ورانہ موشگافیوں سے پرہیز کریں۔ اگر آپ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کےلۓ کچھ پوسٹ کر رہے ہیں تو ان کی ذہنی سطح کا خاص خیال رکھیں، فیس بک پر ہر بندہ آپ کی طرح بہلول دانہ یا سقراط بقراط نہیں ہوتا۔ قنوطیت اور فلسفیانہ انداز کے بجائے اپنی اپ ڈیٹس میں شگفتگی پیدا کریں۔ اس کے باوجود بھی اگرکوئی آپ کو گھاس نہ ڈالے تو بقول ہمارے فیس بکی یار قمر راجپوت دانہ کے کسی قتالہء عالم حسینہ کے نام سے اکاؤنٹ کھولیں ۔ کرینہ یا کترینہ کی پکچر کو ڈی۔ پی بنالیں اور پھر دیکھیں یار لوگوں کی دھمال اور پوسٹ کا کمال۔ ان ساری کوششوں کےباوجود بھی لوگ آپکی اپ ڈیٹس میں دلچسپی نہ لیں۔ تو آرام سےاپنے گھر میں بیٹھیں، ایک بمبو سایئز تربوز لے کر اسے اپنے نواسے نواسیوں کے ساتھ کھا تے جائیں اور دوسروں کی اپڈ یٹس پڑھ پڑھ کر انکو موتیوں والی سرکار قمر راجپوت دانہ کی زبان میں گالیاں دیتے جایئں۔ ۔طویل پوسٹ سے مراد ایسی پوسٹ جو آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *