ایک تعزیتی گفتگو.....!

Photo Attaul Haq qasmi sbہماریہاں جنازوں، قلوں اور چہلموں میں تعزیتی گفتگو کچھ اس طرح کی ہوتی ہے اگرمرحوم سن لے تو تعزیت کنندہ کو اپنے ہاتھوں سے مار ڈالے۔ذیل میں ایک نمونہ ہے۔
’’مرحوم میرے بچپن کے دوست تھے۔ دسویں تک تعلیم ہم نیایک ہی اسکول میں حاصل کی!‘‘’’پھر تو آپ ان کے بے حد قریب رہے ہوں گے؟‘‘ہاں اور میں اسے اپنی خوش بختی سمجھتا ہوں۔ ہمارے ہمسائے میں ایک حکیم صاحب رہتے تھے۔ وہ ’’میرے والدکے دوست تھے۔ میں نیایک دن دیکھا کہ وہ والد کے کان میں کچھ کھسر پھسر کر رہے تھے۔خدا جانے اس کھسرپھر کی نوعیت کیا تھی لیکن اس کے نتیجیمیں میرے والد نیمجھے سختی سے میرے اس بچپن کے دوست سے ملنے جلنیسے منع کر دیا۔ ہم شام کو اکٹھے ٹیوشن پڑھنے جایا کرتے تھے۔ والد نے ٹیوشن سے بھی منع کردیا۔ اس کے باوجود مرحوم سے چوری چھپے ملتارہا‘‘۔ اتنے اچھے دوست تھے قطع تعلق مجھے گوارا نہ تھا۔’’کیابات ہے، دوستی ہو تو ایسی ہو!‘‘دراصل مرحوم بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعدانہیں کسٹم میں نوکری ملی ’’چندماہ میں کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوگئے۔ میں نے ایک بڑی سفارش کرواکے ان کی جان چھڑوائی کوئی اور ہوتاتومیرے اس حسن سلوک کوبھول جاتا لیکن وہ ہر ایک کے سامنیمیرے اس احسان کا ذکر ‘‘کرتے تھے اور یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی ورنہ میں ان کے لئے کون سا کوئی پہاڑ توڑ کر لایا تھا!آپ صحیح کہتے ہیں میں نیکئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر آپ کسی موقع پر ان کے کام آئیں تو وہ الٹا آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں۔نہیں جناب، مرحوم تو ایسے لوگوں سے بہت مختلف تھے۔ان کی ایک اوربات جو بے حداچھی تھی وہ یہ’’ کہ انہیں جب کبھی قرض لینے کی ضرورت پڑتی وہ مجھ سے لیتیاور میں چپکے سے مطلوبہ رقم ان کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ میں نے ا ن سے اچھا مقروض کوئی نہیں دیکھا۔ وہ وقت مقررہ پر میراقرض واپس کردیتے تھے حالانکہ لوگوں کی اکثریت قرض واپس مانگنیپرمرنیمارنیپر تل جاتی ہے۔ وفات سے ایک روز قبل مرحوم نیمجھ سیتین لاکھ روپے قرض لئے۔ اگلے روز وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔میں مرحوم کی طبیعت سے واقف ہوں۔ ان کی روح یہ قرض اتارنیکے لئے قبر میں بھی بے چین ہوگی۔ میں اپنے د وست کو اس عذاب میں نہیں دیکھناچاہتا۔آپ اپنے طور پر ان کے صاحبزادے سے بات کریں تاکہ مرحوم کو لحد‘‘ میں سکون آ جائے!
’’میں ضرور بات کروں گا لیکن یہ بتائیں مرحوم کو بار بار قرض لینیکی ضرورت کیوں محسوس ہوتی تھی؟‘‘اس کی وجہ بھی ان کی رحمدلی تھی۔ وہ مظلوم خواتین کی مدد کے لئے ہر وقت تیاررہتے تھے۔ وہ عین’’ شباب کے عالم میں بیوہ ہونیوالی خواتین، یتیم بچیوں، فقیرنیوں اور گھروں میں کام کرنے والی بے سہارا‘‘ لڑکیوں کو ڈھونڈکر تلاش کرتے تھے اور دامے، درمے، قدمے، سخنے ان کی مدد کرتے تھے!’’کیاوہ مظلوم مردوں کی مدد نہیں کرتے تھے؟‘‘کیوں نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ مر د کو بیس سال کی عمر کے بعد کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی،’’ اس کے بعداسے دوسروں کاسہارا بننا چاہئے! چنانچہ جب یہ نوجوان اپنے پاؤں پرکھڑے ہو جاتے تھے مرحوم‘‘ انکی مددسے ہاتھ کھینچ لیتے تھے!سبحان اللہ، کیا زریں اصول تھے مرحوم کے، مجھے اس عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ اوربھی بتائیں!صاحب! میں ان کی خوبیاں گنوانیبیٹھوں تو کئی دن اور مہینے بیت جائیں اور یہ تذکرہ ختم نہ ہو۔ مرحوم کی ایک اور خوبی جو مجھے بے حد پسند تھی وہ ان کی دوست نوازی تھی۔ وہ دوستوں پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ مرکز اور صوبوں میں مرحوم کے کئی دوست اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ لاہور آتیتو مرحوم ان کی ہر طرح سے خدمت کرتے بلکہ اپنیجانبھی انہیں پیش کردیتے تھے۔ یہ دوستوں کے لئے ان کے اس خلوص اور قربانی ہی کا نتیجہ تھا کہ مرکز اور صوبوں میں ان کاکوئی کام رکتا نہیں تھا۔’’واقعی کمال کے شخص تھے۔‘‘ارے صاحب! یہ تو کچھ بھی نہیں۔مرحوم اپنے تعلقات صرف اپنے لئے استعمال نہیں کرتے تھے’’ بلکہ اجنبیوں تک کے کام کروانیکے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ایک دفعہ ایک بالکل اجنبی شخص میرے سامنے ان کے پاس آیا اور ایک خاصامشکل کام لے کر آیا۔ مگرمرحوم نیاپناپورازور صرف کرکے اس کا یہ کام کروا دیا۔ اس نے جب کام کے لئے کہا تھا تو ا س کا خیال تھا کہ شایدمرحوم اس کا معاوضہ بھی مانگیں گے مگرمیرا یار توکرپشن کے مقدمے سے رہائی کے بعد سیرشوت کے ایک پیسے کو بھی حرام سمجھتا تھا چنانچہ انہوں نیاس اجنبی سے صرف نچلے عملے میں تقسیم کرنیکے لئے دو لاکھ روپے لئے‘‘۔ آپ کو پتہ ہے اوپر سے سفارش بھی ہو جائے، فائل کاپہیہ تو نیچے ہی سے چلنا ہوتا ہے نا!
مرحوم سے میری شناسائی کچھ زیادہ نہ تھی آپ کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کیاچیز تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی مغفرت فرمائیں۔آمین! بس ذرا مرحوم کے صاحبزادے کو اپنے طور پر مرحوم کے قرضے کیبارے میں بتا دیجئے گا’’ تاکہ ان کی روح کو لحدمیں چین آ جائے۔ اس نیکی کابدلہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیں گے کہ آپ نیایک عظیم شخص کو قبر کے عذاب سے نجات دلا دی۔ میراکیاہے میں تو پیسے کو ہاتھ کی میل سمجھتا ہوں۔ میں نے یہ میل‘‘ آگے کسی اور کے سپرد کردینی ہے مگر میرا دوست کو پرسکون ہو جائیگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *