پاکستانی امداد میں کمی کی ترمیم نامنظور

Pakistani Imdad

واشنگٹن -امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستانی امداد میں کمی کی 2 ترامیم کو منظور کرنے سے انکار کردیا۔ کانگریسی عہدیدار ٹیڈ پوئے اور تلسی گبراڈ نے ایوان میں دفاع سے متعلق ایکٹ برائے 2017 پر بحث کے دوران کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) میں سے پاکستان کی 90 کروڑ ڈالر امداد کو 70 کروڑ ڈالر کرنے کے حوالے سے ترمیم پیش کی۔ کانگریس کی ایک اور قانون ساز ڈانا روہراباچر نے پاکستان کے لیے کولیشین سپورٹ فنڈ کو ختم کرنے کے لیے بھی الگ ترمیم پیش کی۔ اس سے قبل مئی میں امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے پاکستان کو آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ کے ساتھ سی ایس ایف فنڈز کی مدد میں 90 کروڑ ڈالر امداد دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

تاہم ایوان نے حالیہ دونوں ترامیم منظور کرنے سے انکار کردیا۔ ٹیڈ پوئے اور تلسی گبراڈ کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو 230 میں سے 191 جبکہ ڈانا روہراباچر کو 336 میں سے 84 ووٹ سے شکست ہوئی۔ واضح رہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا کے اتحادیوں کو امداد فراہم کرنا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں لیکن امریکی ایوان نمائندگان نے گزشتہ ہفتے پاکستان کو 8 سو ملین دالر امداد دینے کی تجویز منظور کی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کے حوالے سے 80 کروڑ ڈالر امداد کے لیے نئے فنڈ کے قیام کی تجویز منظور دی تھی، جس کے اجراء سے پاکستان کا افغانستان میں جاری جنگ سے تعلق ختم ہوجائے گا اور فنڈز کے اجرا کو پاکستان کی اندرونی سلامتی و استحکام سے جوڑا جائے گا۔

کانگریسی نمائندے ٹیڈ پوئے نے اجلاس میں ان رپورٹس کی بنیاد پر کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کررہا ہے، اسلام آباد کی امدادی رقم میں 20 کروڑ ڈالر کم کرنے کی تجویز پیش کی۔ دوسری جانب سینیٹر ڈانا روہراباچر نے بھی پاکستان پر یہی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ شکیل آفریدی کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے اتحادی امریکا سے مخلص نہیں۔ کانگریسی نمائندے روڈنے فریلنگھوسین نے ڈیفنس اپروپریئیشنز کمیٹی (Defence Appropriations Committee) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈز اتحادی ملکوں کو فوجی اور لاجسٹک امداد کے لیے دیئے جاتے ہیں، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے کے لیے اتحادی فوجیوں کی تریبت، ہتھیار اور جدید آلات کی فراہمی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فورسز کو ہتھیار پہنچانے کا اہم راستہ پاکستان ہے، امریکا خطے میں پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے لیکن سی ایس ایف فنڈز ملنے کے باوجود پاکستان ان چینلجز سے نمٹنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہمیں پاکستان کو آزاد نہیں چھوڑنا چاہیے، پاکستان کے ہر اقدام کی کڑی نگرانی کی جائے ورنہ اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کے نمائندے پیٹر ویسلوکے نے بھی ان ترامیم کی سخت مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے ایک ایسا میکانزم بنا رکھا ہے، جس کے تحت پاکستان کو اُس وقت امدادی رقم فراہم کی جائے جب اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر پاکستان کانگریسشنل کوکس کی شریک صدر شیلا جیکسن لی نے پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نشاہدہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں کئی حکومتی افسران کے ساتھ کام کیا، خاص طور پر پاکستانی فوج کئی سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے اور اس جنگ میں پاک فوج کے کئی جوان جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تعاون کو جاری رکھنے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے اس وجہ سے ہمیں پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *