بیلجیئم پولیس نے 12 دہشت گرد گرفتارکرلیے

Police

بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں انسداد دہشت گردی کی ایک جامع کارروئی کے دوران 12 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات حراست میں لیے جانے والوں پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا شک ہے اور یہ اس حوالے سے زیر تفتیش 40 افراد میں شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں برسلز اور اس کے اردگر 16 علاقوں میں چھاپوں کے دوران کی گئی ہیں۔ وزیراعظم چارلز مائیکل کا کہنا ہے کہ عوامی تقریبات کی سکیورٹی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ بیلجیئم سکیورٹی کونسل کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ تمام تقریبات منصوبے کے مطابق ہوگی۔ انھوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مشتبہ افراد کو جمعے کے روز مرکزی بر سلز میں فین زون کے قریب ڈرائیونگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جہاں سنیچر کو بیلجیئم اور جمہوریہ آئرلینڈ کے درمیان فرانس میں کھیلے جانے والا یورو 2016 کا میچ بڑی سکرین پر دکھایا جانا ہے۔ یاد رہے کہ برسلز میں ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر 22 مارچ کو ہونے والے بم حملوں میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بیلجیئم کے وفاقی استغاثہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان تازہ چھاپوں کے دوران اسلح یا دھماکہ خیز آلات برآمد نہیں ہوئے ہیں۔

جن علاقوں میں چھاپے مارے گئے ان میں برسلز کا ضلع مولن بیک بھی شامل ہے۔ وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ’فوری مداخلت لازمی ہو گئی تھی اس لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔‘ تاہم بیلجیئم حکومت کی جانب سے اس خطرے کی نوعیت اور شدت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مزید حملوں کی وراننگ جاری کی گئی ہیں۔ بیلجیئم میڈیا کے مطابق جمعے کے روز چارلز مائیکل سمیت چار وفاقی وزرا اور ان کے خاندان والوں کو پولیس کی سخت حفاظت میں رکھا گیا تھا۔ بیلجیئم پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں حال ہی میں اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں کا ایک گروپ شام سے یورپ کی جانب روانہ ہوا ہے اور انھوں نے بیلجیئم اور فرانس میں تازہ حملوں کی منصوبہ بندی تیار کی ہوئی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *