والد کی عظمت، مقام و مرتبہ

Fathers

ناصر چشتی

’’والد‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ چار لفظوں سے مرکب ہے۔’’و‘‘ سے ولایت ووَفا والا۔ ’’الف ‘‘ سے اعلیٰ مقام والااور ایثارواُلفت والا۔’’ل‘‘ سے لطف وکرم والا۔ اور ’’د‘‘ سے دانائی اور دست گیری کرنے والااور جب ہم ایسی صفات وخصائل کی حامل شخصیت سامنے آتی ہے تو اسے والد (باپ)کا نام دیاجاتاہے۔ اسی طرح ’’باپ‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے اور یہ تین لفظوں کا مجموعہ ہے یعنی ’’ب‘‘سے برکت وبزرگی والا …’’الف‘‘ سے اساس واصل اورآبیاری والا… اور’’پ‘‘سےپیارومحبت والفت کے مجموعے کا نا م ’’باپ‘‘ہے۔اگر باپ کی عظمت کا پاس کرتے ہوئے اس کی اطاعت ،فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے اس کی رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا کی کامیابیاں ، سعادتیں اورجنت ایسی نعمتیں مل سکتی ہیں۔ ماں باپ سی نعمت کوئی دنیا میں نہیں ہے حاصل ہو یہ نعمت تو جہاں خُلدِ بریں ہے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اوروہ اُن کی خدمت واِطاعت کررہاہے تو وہ بڑاسعادت مند اوراللہ کا محبوب بندہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہرلحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حدتک نظرانداز کردیا جاتا ہے، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قرآن پاک کے احکامات اور فرامین رسول ﷺ میں والدین کی خدمت واطاعت کا حکم دیاگیا ہے اور ظاہر ہے کہ والدین میں باپ درجہ اوّل کا حامل ہے۔ والد انسان کو عدم سے وجود میں لانے والی ذات ہے یعنی اس کی پیدائش کا سبب ہے اس گلشن انسانیت کی ابتداء باپ (حضرت آدم علیہ السلام ) سے ہوئی اور ان ہی سے عورت (حضرت حوا) کا وجود تیار کیا گیاہے۔ اولادکی تعلیم وتربیت میں والد کا کردار ضروری ہوتا ہے،جب کہ اس کے برعکس ماں کی حد سے زیادہ نرمی اور لاڈ پیارسے اولاد نڈراور بے باک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی تعلیم ،تربیت اورکردار پر بُرا اثر پڑتا ہے،جب کہ والد کی سختی،نگہداشت اورآنکھوں کی تیزی سے اولاد کو من مانیاں کرنے کا موقع نہیں ملتا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اولاد باپ سے زیادہ ماں سے قریب ہوتی ہے، لیکن اولادیہ نہیں جانتی کہ اس کے والد کو گھر چلانے اور تعلیم وتربیت کا مناسب اہتمام کرنے کی لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے اہل وعیال اور اولادکو پالنے کے لیے خود بھوکا رہ کریا روکھی سوکھی کھاکرگزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھاکھانا، پینا،تعلیم اور تربیت میسرہو ۔ اسلام میں والدین کابہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ۔رشتہ داروں ، یتیموں،مسکینوں اورلوگوں سے (ہمیشہ)اچھی بات کہو۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ)اسی طرح سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔’’اورآپ کے پروردگارکافرمان ہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیاکرو،اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘تک نہ کہواور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اورنیازمندی سے ان کے سامنے جھکادو اور( ان کے لئے یوں دعائے رحمت کرو) اے میرے پروردگار!تواِن پر(اس طرح) رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا تھا‘‘۔(سورہ بنی اسرائیل) اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں اپنی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت واطاعت انتہائی ضروری ہے حتیٰ کہ والدین اولاد پر ظلم وزیادتی بھی کریں تب بھی اولاد کو انہیں جواب دینے کی اجازت نہیں،جھڑکناتو درکنار ،اُن کے سامنے ’اُف‘ تک کہنے کی بھی اجازت نہیں۔سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو،(تم سب کو )میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تُجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تُجھے کچھ علم نہیں تو(اس مطالبۂ معصیت میں )ان کی اطاعت ہر گز نہ کرو، (لیکن اس کے باوجود ) دُنیا میں ان سے حسن سلوک کرتے رہو۔ ‘‘(سورہ لقمان) اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسولﷺ کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں ۔ اُن کی رائے کو ترجیح دیں ۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں ، اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت اُن کے لیے خاص کردیں۔اُن کی بھر پور خدمت کریں اور ان کی وفات کے بعدان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں ، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے،’’اور(ان کے حق میں یوں دعائے رحمت کرو ) اے ہمارے رب!ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا‘‘۔(سورہ بنی اسرائیل) حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے ، اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت وبخشش کی دعامانگتے ہیں۔جس کاقرآن پاک نے اس طرح ذکرکیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (بخش دے)اور سب مسلمانوں کو(بخش دے)، جس دن حساب قائم ہوگا‘‘۔(سورہ ابراہیم) ماں باپ کے انتقال کے بعدبھی ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس کی کئی صورتوں میں سے ایک دعائے مغفرت کرنابھی شامل ہے۔ جس سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میںبلند فرما دیتا ہے تو وہ بندہ عرض کرتا ہے کہ’’ اے میرے رب! یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ،’’تیری اولاد کی دعائے مغفرت کی بدولت (تُجھے یہ بلند درجہ دیا گیا ہے)۔‘‘(مسائل اربعین) ایک اورحدیث شریف میں ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرناان کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کاسلسلہ ختم ہو جاتا ہے،لیکن تین چیزوں کا نفع اس کو(مرنے کے بعدبھی) پہنچتا رہتا ہے۔۱۔ صدقہ جاریہ۲۔ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہوں۳۔نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتی ہو۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔صحابہ کرام نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور(اس کی ذات ) بہت پاک ہے ،(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سوحج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃ ،البیہقی فی الشعب ) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کے رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ) صلہ رحمی کرے۔ ‘‘(الحدیث) ایک اور اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اولاد پر اپنے بیوی بچوں کی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت اور کفالت اور ان کی ضروریاتِ زندگی (کھاناپینا،لباس، علاج )کو پورا کرنا بھی اولادپر فرض ہے ،اس کے ساتھ اُن کی ضروریات کے مطابق مخصوص رقم ہرمہینے اُن کوپیش کی جائے تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکیں۔ حضور سید عالم ﷺ نے والدین کی خدمت و اطاعت کو جہاد ایسی عظیم عبادت وسعادت پر بھی ترجیح دی حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہواتو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں با پ زندہ ہیں؟ ‘‘اس نے کہا ،’’ جی ہاں، زندہ ہیں۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا،’’جائو اور اپنے والدین کی خدمت کرو، یہی تمہار اجہاد ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ،مشکوٰہ المصابیح) اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اوراچھانیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ والدین کے حقوق ادا کرنادر حقیقت اللہ کی تابعداری ہے، پس اس لحاظ سے ان کی خدمت اﷲتعالیٰ کی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی باپ کی خوش نودی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں مضمرہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا ،عرض کیا،کون یارسول اللہ ﷺ؟آپ ﷺنے فرمایا،’’جس نے اپنے ماں باپ میں دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (اُن کی خدمت نہ کر کے) دخولِ جنت کا حق دار نہ بن سکا۔ ‘‘(مسلم، مشکوٰۃ) ماں باپ کی خدمت کاثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اوراس کااجروثواب حج اور عمرے کے برابر ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے، اس سے عمراوررزق میںاضافہ ،عبادات اور دعائیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ضرورقبول ہوتی ہیں۔ماں باپ کی نافرمانی کرنایا اُنہیں اَذیت وتکلیف دینا گناہِ کبیرہ اور بہت بڑی محرومی ہے۔ماںباپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتااور موت سے پہلے ہی اُسے دنیا میں ذلت و رسوائی اور اپنے کئے کی سزاملتی ہے۔والدین کے حقوق کی ادائیگی کواس طرح ممکن بنایاجاسکتاہے کہ والدین کے ہر نیک حکم کی تعمیل کی جائے ۔ اُن کے سامنے اونچی آواز میںبات نہ کی جائے۔ اُن کے آرام وسکون اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے۔والدین کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میںکیاجائے۔والدین کے رشتہ داروں اور دوستوں کااحترام کیاجائے۔والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتا رہے اور ایصالِ ثواب کا تحفہ بھیجتا رہے تا کہ وصال کے بعدبھی ان کے اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ بہترین نیکی یہ (بھی ) ہے کہ ماں باپ کے تعلق داروں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کیا جائے۔‘‘ والدین کی دعائیں اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔پس یہ ہمارا انسانی، اخلاقی اور دینی فرض ہے کہ ہم اپنے والدین کی دل وجان سے خدمت واطاعت کریں کہ اسی میں ہمارے لیے دین ودنیا کی کامیابی،سعادت اور فلاح ونجات ہے۔ اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت ،فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا دونوں کی کامیابیاں ، سعادتیں اورجنت کی بیشمار نعمتیں نصیب ہوسکتی ہیں۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے والد نے میرا سب مال لے لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس لڑکے کا والد آجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں۔ اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔” جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے کر آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں ؟ والد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی علیہ وسلم اسی سے پوچھ لیں کہ میں اس کی پھوپھی ، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہیں خرچ کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پس حقیقت معلوم ہو گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے دریافت فرمایا وہ کلمات کیا ہیں جو تم نے دل میں کہے اور تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا ؟اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی جو بات کانوں نے سنی اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہو گئی پھر اس نے کہا کہ میں نے چند اشعار دل میں پڑھے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اشعار ہمیں بھی بتاو۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے دل میں یہ کہا تھا” میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد تمہاری ہر ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی رات تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے رات نہ گزاری مگر سخت بیداری اور بیقراری کے عالم میں۔ مگر ایسے جیسے کہ بیماری تمہیں نہیں مجھے لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمام شب روتے ہوئے گزار دیتا۔ میرادل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، اس کے باوجود کہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ جب تو اس عمر کو پہنچ گیا تو پھر تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی بنالیا، گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان و انعام کر رہے ہو۔ اگر تم سے میرا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی کر لیتے جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔ تو نے مجھے کم از کم پڑوسی کا حق ہی دیا ہوتا۔ میرے ہی مال میں مجھ سے بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو بیٹے کو فرمایا ”انت و مالک لا بیک ” کہ تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔(معارف القرآن بحوالہ تفسیر قرطبی) قارئین کرام دیکھئے کہ اولاد کے ستائے باپ کے دل سے نکلے الفاظ کس طرح عرش الٰہی تک پہنچے، اور رحمت الٰہی جوش میں آئی :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *