معاملہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کا(عامر خاکوانی صاحب کے جواب میں)

ڈاکٹر عرفان شہزاد

Dr. Irfan Shehzad

عامر خاکوانی صاحب بہت عمدہ قلم کار ہیں اور فاضل صحافی ہیں۔ گزشتہ چند کالموں میں انہوں نے اقلیتوں سے متعلق ملک میں پائی جانے والی صورتِ حال کی کچھ ایسی تاویلات کی ہیں جو حقائق کے برخلاف اور غلط استدلالات پر مشتمل ہیں۔

خاکوانی صاحب نے اقلیتوں کے مسئلے پر وہی غلط العام طریقہ استدلال اختیار کیا ہے جو اکثر لوگ اپنے من پسند گروہ کی حمایت اور دوسرے کم پسند گروہ کے کیس کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ غلط استدلال یہ ہے کہ  عمومیت کے پردے میں خصوصی رویوں نظرانداز کر دیا جائے۔  خاکوانی صاحب بھی سسٹم کی خرابی کی آڑ میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی خصوصی زیادتیوں کا مسئلہ تحلیل کرتے نظر آتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ ملک کا سسٹم غیر منصفانہ ہے جو طاقتور کے ساتھ کھڑا ہو کر کمزور کو ظلم کا نشانہ بناتا ہے، غیر مسلم اقلیتیں بھی کمزو ر ہونے کی وجہ سے ناانصافی اور ظلم کے اسی عام رویے کی وجہ سے زیادتی کا شکار  ہو جاتی ہیں جیسے کمزور مسلمان ہو جاتے ہیں۔ فاضل صحافی کے اس استدلال کو میں جانبدارانہ تجزیہ اگر نہ کہوں تو تجزیاتی سادگی البتہ  ضرور کہوں گا۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا تو اس لحاظ سے طاقتورغیرمسلموں کو اس سسٹم میں تحفظ حاصل ہونا چاہیے تھا لیکن ہم دیکھتے کہ امیر، طاقتور غیر مسلم بھی سماج کے امتیازی رویوں سے بچ نہیں پاتے۔ یہاں تک کہ وہ غیر مسلم افراد جو ملک کے طاقت ور اداروں سے وابستہ ہیں ان امتیازی رویوں پر شکوہ کناں ہیں۔ ان کی وفاداری پر زیادہ نظر رکھی جاتی ہے۔اور ہر وقت انہیں اپنے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے ضرورت سے زیاوہ ہوشیار اور محتاط رہنا پڑتا ہے۔

ملازمتوں کے حصول میں، پولیس کے رویے میں،  عام مسلمانوں کے ساتھ معاشرتی رہن سہن  میں ہر جگہ اقلیتوں کو اقلیت ہونے کی وجہ سے امتیازی رویوں کا سامنا ہے۔ چاہے وہ امیر اور طاقتور گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں۔

شایدآپ کے نزدیک شاید زیادتی کا مفہوم بھی مختلف ہے۔ زیادتی صرف یہ نہیں کہ غیر مسلموں کا ناطقہ بند کر دیا جائے، ان کے گھر ،بستیاں، فیکٹریاں جلا دی جائیں اگرچہ یہ سب بھی ہوتا ہے اور بہت ہوتا ہے، زیادتی البتہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف ان کے غربا بلکہ ان کے امرا بھی خود کو دوسرے درجے کے شہری سمجھنے پر مجبور ہوں۔

ملازمتوں کے  حصول میں، پولیس کے رویے میں، ریاست پر اعتماد  کے معاملے میں ایک غریب مسلمان کو اپنی غربت اور کمزوری کی وجہ  سے ظلم کا نشانہ بننا پڑتا ہے لیکن لیکن غیر مسلم کو غیر مسلم ہونے کی وجہ سے بھی  بننا پڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقلیتیں دوہری زیادتی کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ سسٹم کی عمومی ناانصافی کا بھی شکار ہیں اور دوسری طرف وہ مسلم اکثریت کی طرف سے خصوصی امتیازی رویوں کا بھی ہدف بنے ہوئے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ  صرف غیر مسلم ہی نہیں، مسلمان بھی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ لیکن وہ اس واضح فرق کو نظر انداز کر رہے ہیں مسلم اور غیر مسلم کو درپیش دہشت گردی کے عوامل مختلف ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تو مسلم شدت پنسد دہشت گرد سرگرم ہیں،  لیکن غیر مسلموں کے خلاف تو غیر دہشت گرد سیاست دان، پولیس اور عوام کے گروہ بھی حسبِ توفیق  شامل ہو جاتے ہیں جو ان کی بستیاں جلاتے ہیں، خود ان کو جلاتے ہیں، ان پر توہین رسالت کے الزام لگاتے ہیں، ان کے پیروی کرنے والے وکیلوں کو ہراساں کرتے ہیں اور پھر قتل بھی کر دیتے ہیں۔ ان کے حق میں بولنے والوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

احمدیوں کے بارے خاکوانی صاحب نے تسلیم کیا کہ مسلم عوام احمدیوں سے کھنچے ہوئے رہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ احمدیوں نے آئین میں ہونے والی ترمیم، جس میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، تسلیم نہیں کیا۔ اس سے زیادہ کمزور استدلال پیش کرنا شاید ممکن نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمان ان سے صرف 'کھنچے' ہوئے نہیں رہتے بلکہ انہوں نے احمدیوں کے ساتھ باقاعدہ سماجی مقاطعہ (boycott) کر رکھا ہے۔ ایک دکاندار اپنی دکان کے باہر لکھ کر لگا دیتا ہے کہ قادیانیوں کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کیا جاتا، قادیانیوں کا داخلہ منع ہے، ان کے ساتھ بات چیت، لین دین، ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم، ان کو بیوروکریسی میں میرٹ پر بھی بڑے عہدے دینے کی مخالفت، ان کی ملکی خدمات کو تسلیم نہ کرنا، حتی کے ان کو دین کی  دعوت بھی نہ دینے کی پالیسی، کیا یہ خصوصی امتیازی رویے نہیں؟ اور اس کی وجہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ ہے کہ انہوں نے آئین کے مطابق خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ احمدیوں نے اگرچہ دل سے اسے تسلیم نہیں کیا لیکن قانونی طور پر تسلیم کیا ہوا ہے۔ وہ اپنا تعارف مسلم نہیں بلکہ احمدی کے طورپر کرواتے ہیں، وہ اپنی مساجد کو مسجد نہیں کہتے ،کھلے عام تبلیغ نہیں کرتے، اپنی کتب سر عام چھپوا نہیں سکتے ۔ اس کے باوجود ان کو غیر مسلم کا درجہ بھی نہیں دیا گیا۔ اس پر  ہمارا اس بات پر مُصر ہونا کہ وہ دل سے بھی تسلیم کر لیں کہ وہ غیر مسلم ہیں، اور خود  کو'دھکے سے مسلمان ثابت نہ کریں' ایک اعتدال سے  حد درجہ ہٹی ہوئی بات ہے ۔ میں بھی احمدیوں کے ختم نبوت  کے بارے میں ان کے خاص  قسم کے عقیدے کی وجہ سے انہیں غیر مسلم ہی شمار کرتا ہوں۔ ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم انہیں غیر مسلم سمجھیں، لیکن انہیں بھی یہ حق ہے کہ وہ خود کو اگر مسلمان سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں۔ اپنی عبادات اور دینی طرزِ عمل کے لیے وہ قرآن ، سنت اور شریعت اسلامیہ کو ہی استعمال کرتے ہیں، اپنے بچوں کو وہ یہی بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ اب ان کو یہ تسلیم کروانا کہ وہ خود کو غیرمسلم تسلیم بھی کرلیں اور صرف تب ہی ہم انہیں غیرمسلم کے حقوق دیں گے، بد ترین استحصالی نفسیات کا مظہر ہے ۔ان کا خود کو احمدی کہنا کافی امتیاز ہے۔ تسلیم کروانا کسی کے بس میں ہوتا تو ان کو ختم نبوت کا عقیدہ ہی تسلیم نہ کروا لیتا ۔

کیا اگر وہ محض زبان سے تسلیم کر لیں کہ وہ غیر مسلم ہیں جب کہ دل میں وہ خود کو مسلمان سمجھتے ہوں، تو ہم ان کو قومی دھارے میں شریک کر لیں گے؟ یقیناً کر لیں گے۔ البتہ منافقت کا یہ نیا انداز ہماری بدولت وجود میں آئے گا، کہ احمدی اپنے تئیں ظاہر میں کافر اور  باطن میں مسلمان ہوں گے، کیا ہم انہیں اس سطح پر لانا چاہتے ہیں؟ اور کیا یہ رویہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

دینی غیرت کا مظاہرہ ہم اس طرح نہیں کر سکتے جس طرح ہم اپنی ذاتی چیزوں سے متعلق کرتے ہیں۔ دینی غیرت کا مظاہر دینی تقاضوں کے مطابق ہی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اس پر بھی بات کیجیے کہ اسلام دعوت کا دین ہے۔ اس میں بائیکاٹ کہاں سے آگیا کہ دعوت کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔ بھلا نفرت اور دھمکی کے ساتھ بھی کسی کو دل سے مسلمان کیا جا سکتا ہے؟ ہمارے ہاں لوگوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ان کا بایئکاٹ کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا ہے، جب کہ پوری دنیا میں احمدی عام مسلمانوں کی طرح رہتے ہیں۔ دعوت بھی دیتے ہیں۔ لیکن کیا عام  مسلمانوں کے ایمان کو اس سے کوئی تشویش لاحق ہوتی ہے؟ کیا مسلمان دھڑا دھڑ قادیانی ہو رہے ہیں؟  نہیں، توپھر یہاں کیوں بات بات پر اسلام اور ایمان کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں؟

المیہ یہ ہے کہ یہ رویہ پڑھے لکھے طبقے کی طرف سے سامنے آ رہا ہے، جو زمینی حقائق سے چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں۔ کیا آپ نے یہ استدلال اختیار کرنے سے پہلے غیر مسلموں سے کا ان کا موقف لیا؟ وہ کیا محسوس کرتے ہیں کیا یہ بھی ہم طے کریں گے؟

ہم معاشرے کے ہر مسئلے کو معاشرے کے عمومی پس منظر میں دیکھنے کے ساتھ اس کے خصوصی پس منظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ مثلاً عورتوں کا استحصال، چائلڈ لیبر،چائلڈ ایبیوز، وغیرہ، کو معاشرے کے عمومی رویے سے بھی جوڑتے ہیں اور پھر ان کے خصوصی پس منظر اور عوامل پر بھی بات کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہی طریقہ اقلیتوں کو درپیش مسائل میں اپناتے ہیں تو  یہ اصرار کرنا  کہ اقلیتوں کے مسئلے کو بس عمومی پس منظر میں ہی دیکھا جائے، سراسر غلط استدلال ہے۔ طرزِ استدلال کے اس رویے میں بھی غیر مسلم کے ساتھ تعصب کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

معاملہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کا(عامر خاکوانی صاحب کے جواب میں)” پر ایک تبصرہ

  • جون 26, 2016 at 12:01 PM
    Permalink

    محترم ڈاکٹر صاحب
    آپ کے ساتھ رابطے کی کیا صورت ممکن ہے؟؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *