Site icon Dunya Pakistan

9 میڈیکل کالجز کو معیار کی تکمیل کے بغیر کام کرنے کی اجازت

پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) نے 9 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو معیار پر پورا اترنے میں بہت سی کمی کے باوجود چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

دستیاب دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس فیصلے کو جو بات سب سے زیادہ متنازع بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایک ہی دن میں بغیر طریقہ کار پر عمل کیے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں لیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق دستاویزی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 9 نجی کالجز 'داخلہ روکنے کی فہرست' میں شامل تھے اور سابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی طرف سے انہیں بند کرنے یا سفارش کی گئی تھی یا کسی بھی طرح آپریشن کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم پی ایم سی ایکٹ 2020 کے اعلان کے بعد 9 اداروں کو گزشتہ سال 17 دسمبر کو جاری 9 نوٹیفیکیشن کے ذریعے عارضی طور پر داخلہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

نوٹفکیشن پر پی ایم سی کی سیکریٹری ڈاکٹر شائستہ ذیشان کے دستخط تھے۔

جن کالجوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ان میں: شفا کالج آف ڈینٹسٹری اسلام آباد، ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج، رتھ فاؤ میڈیکل کالج کراچی، وطیم میڈیکل کالج راولپنڈی، خیرپور میڈیکل کالج خیرپور، عذرا ناہید ڈینٹل کالج لاہور، ڈاؤ ڈینٹل کالج کراچی، محمد ڈینٹل کالج میرپورخاصاور سوات میڈیکل کالج سوات شامل ہیں۔

کالجز کو 50 سے 100 طلبہ کو اپنے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگراموں میں داخلے کی اجازت تھی۔

پی ایم سی وقتا فوقتا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے علاوہ پبلک سیکٹر کی میڈیکل یونیورسٹیز کو لکھے گئے اپنے خط میں یہ دعوی کرتا رہا ہے کہ اس کا میڈیکل کالجز کی وابستگی اور رجسٹریشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ایسا ہی ایک خط گذشتہ سال 20 اکتوبر کو پی ایم سی کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی نے ایچ ای سی کے چیئرمین کو لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'کوئی کالج جو وابستگی حاصل کنا چاہتا ہو اور یونیورسٹی جو وابستگی کی اجازت چاہتی ہو اس مقصد کے لیے ایچ ای سی سے رجوع کرسکتے ہیں اور ان کا معائنہ ایچ ای سی کے ذریعہ کیا جائے گا'۔

وزارت قومی صحت سروسز ریگولیشن اینڈ کو آرڈینیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نومبر 2019 میں ڈاکٹر ارسلان حیدر، جو اس وقت پی ایم سی کے سکریٹری تھے، نے نجی میڈیکل کالجز کے سربراہوں کو خط لکھے تھے جنہوں نے ان سے 'ایچ ای سی کے معائنے' کے بعد ادارے کی عارضی رجسٹریشن طلب کی تھی۔

عہدیدار نے الزام لگایا کہ 'ایچ ای سی کی جانب سے کسی بھی کالج کا معائنہ نہیں کیا گیا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ایک نجی میڈیکل کالج کو ایم بی بی ایس کلاسز شروع کرنے کی عارضی اجازت دی گئی لیکن اس نے بی ڈی ایس کلاسز بھی شروع کردی تھیں، ایف آئی اے یا نیب کی جانب سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے'۔

یہ معاملہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پہلے ہی اٹھالیا ہے اور دیگر سوالات کے علاوہ یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ بند نجی میڈیکل کالجز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کہیں کک بیکس کی ادائیگی تو نہیں کی گئی۔

ایف آئی اے عہدیدار نے بتایا کہ 'یہ وائٹ کالر جرائم کا ایک بہترین کیس ہے، یہ ادارے پی ایم سی کے ساتھ کسی بھی میڈیکل کالج کی رجسٹریشن کے لیے درکار معیارات میں فیکلٹی سے لیکر وسائل تک تقریباً ہر پہلو سے کم ہیں'۔

ایف آئی اے انکوائری

عہدیدار نے بتایا کہ ایف آئی اے نے چند افراد کا پتہ لگا لیا ہے اور جلد ہی ان سے پوچھ گچھ کے لیے رابطہ کرے گا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے حال ہی میں کہا تھا کہ پی ایم سی ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے یکساں معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔

احتساب ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ نجی میڈیکل کالج پی ایم سی کے ساتھ مل کر میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

بہت زیادہ فیسز

متعدد نجی کالجز کی فیس کا اسٹرکچر آسمان سے باتیں کرتا پایا گیا جس کی وجہ سے پی ایم سی کی بطور ریگولیٹر مداخلت ضروری ہے۔

ان کالجز کی داخلہ کمیٹیوں نے منظم انٹرویوز نہیں لیے اور امیدواروں کی مالی حالت پر توجہ دی۔

متعدد امیدواروں نے شکایت کی کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے میرٹ کی فہرست ظاہر نہیں کی گئی اور طلبہ کو میرٹ کے بجائے پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر داخلے دیے گئے۔

انکوائری رپورٹ میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ پی ایم سی کی جانب سے اجازت دیے گئے 20 فیصد انٹرویو کے مارکس کی بنیاد پر ہونے والے تمام داخلے منسوخ کردیے جائیں۔

Exit mobile version