پاکستان اور افغانستان اور موجودہ صورتحال

راجہ منیب

Raja muneeb

افغان فورسز کی جانب سے پاکستان علاقے میں مارٹر گولے بھی داغے گئے تین گولے پاکستان کے سرحدی علاقے مینہ باچا میں آگرے۔ فائرنگ اور مارٹر گولوں کے حملوں سے تین خاصہ دار فورسز سمیت تیرہ افراد زخمی ہوئے اور میجر جواد چنگیزی شہید ہوگئے ۔پاکستان طورخم بارڈر پر اوور ہیڈ برج تعمیر کر رہا ہے۔ افغان حکام اس پل کی تعمیر پر پہلے بھی اعتراض کر چکے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر گیٹ کی تعمیر پر بھی دونوں ملکوں میں تنازعہ چل رہا ہے۔
پاکستان طور خم بارڈر پر سکیورٹی بڑھانے کے لئے گیٹ اور باڑ کی تعمیر کر رہا ہے۔ افغان حکام کو گیٹ اور باڑ کی تعمیر پر اعتراض ہے,پیر کی شام بھی افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی حدود میں فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 5 ایف سی اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔بھارت کے زیر سایہ رہنے والے افغان حکام نے پاکستانی علاقے میں فائرنگ کے باوجود اپنے سرپرست بھارت کی طرح شور مچانا اور پاکستان پر الزام لگانا شروع کردیا۔منگل کی صبح طور خم بارڈر پر کشیدگی کے معاملے پر افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر سیدابرارحسین کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا ۔ افغان ڈپٹی وزیرخارجہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے افغان بارڈر گارڈز پر فائرنگ کی ہے جبکہ پاکستان نے گیٹ کی تعمیرکے معاملے پرمعاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔پاکستان سیکورٹی فورسز نے باقاعدہ افغان حکومت کو آگاہ کر کے پاکستانی سرحد کے 38 کلومیڑاندرگیٹ لگا کر افغانستان سے آنے والے سامان اور افراد کی نقل و حرکت کے لیے کوئی ضابطہ بنانے کا ارادہ کیا مگر یہ بات ہندوستان اورافغانستان کوہضم نہیں ہو سکی کیونکہ ہندوستان براستہ افغانستان اپنے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کر رہا ہے اور اسی راستے سے اسلحہ اورمالی امداد بھی پہنچائی جاتی ہے اس لیے ہندوستان نے افغانستان کو بطور مہرہ استعمال کر کے پاکستان کو گیٹ لگانےسے باز رکھنے کے لیے ناکام کوشش کی اور افغانستان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان کی خطے میں بہتر ہوتی ساکھ کسی کو بھی قبول نہیں ہے اس لیے ایران اور افغانستان بھی ہندوستان کے پاکستان مخالف پراپگنڈے میں شامل ہو گئے ہیں –پاکستان طورخم بارڈر پر اپنی حدود کے اندر گیٹ لگا رہا ہے ۔ تو اس میں افغان حکومت کو کیا مسئلہ ہے ۔۔ ایک خود مختار ملک اپنے دفاع کے لیے ضروری انتظامات کر سکتا ہے اسکا پورا حق ہوتا ہے ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ افغان کرپٹ اور ڈرپوک حکومت جواپنے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی وہ پاکستان سے پنگا لینے کا کیسے سوچ لیے جب تک بیرونی امداد اور بھروسہ نا ملے ۔۔امریکہ بھی ہندوستان اورافغانستان کا ساتھ دے رہا ہے کیونکہ افغانستان میں حکومت امریکہ کی چھتر چھایا میں چل رہی ہے توایسا ممکن ہی نہیں کہ اتنا بڑا فیصلہ لیا گیا ہو اور امریکی حکام اس سے لاعلم ہوں ۔۔

اوبامہ حکومت افغانستان میں قیامِ امن میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے تو جاتے جاتے وہ سارا ملبہ پاکستان پرڈالنا چاہتی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا – مگر وہ بھول گئے کہ ضرب ِ عضب اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے کردار کو بہت بار سہرا چکے ہیں اور لوگ نا سمجھ نہیں جو امریکہ کے کھیل کو سمجھ نا سکیں ہاں ہمارے کچھ اینکرز ضرور اس عالمی سازش کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
امریکہ بھارت کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے کہ وہ پاک اور چائنہ کو خطے میں اہم کردار ادا کرنے سے روکے اور بھارت افغانستان کے راستے دہشت گرد پاکستان میں پلانٹ کر کے پاک چین اقتصادی رہ داری کے منصوبے کو سبوتاز کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی طرف دوستی کا ہاتھ ہی بڑھایا ہے تا کہ خطے میں امن ہو سکتے ۔ اور افغانستان کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ بھارت سے ہمارے نظریاتی اختلافات ہیں مگر افغانستان تو ہمارا برادر ملک ہے ، افغان اور پاکستان خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مسلم ممالک کو ایک قوت بخش سکتے ہیں مگر افغان حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی اور وہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھ کھلونا بنی ہوئی ہے ۔۔ اسے یہ جان لینا چایے کہ غیر مسلم اسکے خاطر خواہ کیسے ہوسکتے ہیں ۔ کیا پاکستان نے ہر مشکل وقت میں اسکی مدد نہیں کی ۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *