اردو ہے جس کا نام

 اعزاز احمد کیانی

aizaz ahmed kiani

زبان کسی قوم کے قیمتی قومی اثاثوں میں سے ایک اثاثہ ہے، کسی بھی قوم کی زبان اس قوم کا تشخص ہو اکرتی ہے اور یہ اقوام کی فطرت رہی ہے کے وہ اپنے تشخص کے معمالہ میں خاصی حساس ہو اکرتی ہیں، دنیا کی تمام اقوام کے پاس انکی اپنی کوئی نہ کوئی زبان ہواتی ہے جو انکے معاشرے اور ملک میں سب سے زیادہ بولی جاتی ہے تمام ممالک اپنی زبان کی ترویج و اشاعت کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں اور اپنی زبان کی حفاطت اور باقاعدہ دفاع کر تے ہیں۔ہر طبقےکی یہ کوشش رہی ہے کے اسے بھی ملکی سطح پر نمائندگی دی جائے اور باقاعدہ ا قومی تشخص دیا جائے۔ یہی وجہ ہے جب قومی تشخص کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے قومی زبان کا ہی مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ قومی تشخص کا ہی حساس معمالہ تھا کے مسلمانان ہند نے اردو ہندی تنازعے میں بڑھ چڑھ کے اردو زبان کی حمایت اور بھر پور دفاع کیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اگرچہ اور بھی بہت سی وجوہات پوشیدہ تھیں مگر اردو بنگالی تنازع کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی قومی تشخص کا ہی ثمر ہے دنیا کے اکثر جمہوری ممالک میں انکی ایک سے زائد قومی زبانیں ہیں۔
کسی بھی ملکے میں اگر یہ دیکھنا ہو کے وہاں تمام طبقوں کو برابر نمائندگی دی جاتی ہے یا نہیں تو اسکا آسان طریقہ یہ کے یہ دیکھا جائے کہ اس ملک کی قومی زبان کون سی ہے؟ کیا وہاں کی قومی زبان کسی ایک طبقے کی ہے یا تمام طبقوں کی زبان کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔
زندہ اقوم اپنے قومی اثاثوں کی بھر پور حفاظت کرتی ہیں اور جو اقوام اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت نہیں کرتیں وہ جلد ہی فنا ہو جاتی ہیں ، زندہ اقوم اپنے قومی تشخص کا کسی صور ت سودا نہیں کرتیں اور نہ کھی اغیار کی روایات کو اپناتی ہیں۔
آج ہمارا ملک اسلامی جمہوری پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہونے کے باوجود بھی اپنے قومی تشخص کو بحال رکھنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ملک پاکستان مسلمانوں کی روایات ،ثقافت اور ملی تشخص کی ضمانت ہے مگر افسوس کے آج ہم انہی روایات، ثقافت اور اپنے اس ملی تشخص کو فراموش کرتے جارہے ہیں اور اسکے ذمے دار اروں کے تعین میں جہاں حکومت اور سرکار کا نام شامل ہے وہاں عام عوام بھی اس قومی فتنے کے ذمے داروں میں شامل ہے۔
ملک پاکستان کا آئین بڑے واضح الفاظ میں ہماری ذبان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور آئین میں واضح لکھ دیا گیا ہے ملک کی قومی زبان تو اردو ہوگی اور اردو کو سرکاری زبان بنانے کے اقدامت کیے جائیں گے آئین نے ان اقدامات کے لیے پندرہ سال کا عرصہ متعین کیا تھا مگر افسوس کے کہیں پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی آج ہم وہیں گھڑے ہیں۔ چالس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جو کے آئین میں متعین کردہ مدت کے قریباَ تین گنا مدت ہے لیکن ہماری دفتری معمالات آج تک انگریزی زبان میں ہی مرتب کیے جارہے ہیں جو کے ایک المیہ ہے ۔ اس مدت میں جمہوری اور آمری دونوں طرح کے لوگوں کو اقتدار نصیب ہوا مگر ناجانے کیوں اور کیسے ان محباں ملک اور وفاداران آئین کی نظروں سے یہ بات پوشیدہ رہی۔ عدالت عظمیٰ پاکستان نے بھی اس سنگین مسلے کی طرف توجہ دلائی لیکن اس قوم کی بدقسمتی کہیے یا ہمارے آئین کے ٹیکے داروں کی نام نہاد مصرویات کہ اس کے باوجود بھی اس مسلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ہمارے ھکمرانوں اور لیڈروں کا حال یہ ہے ملکی سطح کی تقریب ہو یا بین الاقوامی ایونٹ اردو زبان کو ہمیشہ پس پشت ہی ڈالا گیا اب تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کے ہمارے لیڈروں کو خود اور انکے بیرونی ممالک میں رہنے والے اہل و عیال اور بیرونی ممالک کی مہنگی ترین انگریزی درسگاہوں میں پڑھنے والے مستقبل کے لیڈر بچوں کو
اردو زبان تک نہیں آتی انہیں خود اردو سکھنے کے لیے برسوں کی ٹرینگ کی ضرورت ہے
جبکے اس کے برعکس ہمارے پڑوسی ملک والے نا صرف قومی اور بین الاقوامی ایونٹس میں ہندی زبان کا استعمال کرتے ہیں بلکے لباس بھی ہندو روایات کے مطابق پہنتے ہیں۔
اگر قوم کی مجموعی صورت حال کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے پاکستان میں نصف سے زائد آبادی کو اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا،اپنا نام اگر انہیں پرچی پر لکھ کر دے دیا جائے تو انہیں اپنے نام تک کی پہچان نہیں ہے،اپنا عزیز اگر کوئی خط لکھ بھیج دے تو وہ اپنے پیاروں کے جذبات سمجھنے سے محروم ہیں ایسے ملک میں انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر ان بچاروں کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ملک پاکستان کی منطق بھی نرالی ہے ایک طرف تو ہماری شرح خواندگی پچاس فی صد بھی نہیں اور دوسری طرف دفتری زبان انگریزی ہے۔ مگر شایدہمارے عوامی اور جمہوری لیڈروں کے نزدیک یہ عوامی مسلہ نہیں اور وہ شاید اس لیے کہ ابھی تک انکی سیاسی حریف جماعت نے اس پر سیاست نہیں چمکائی۔
انگریزی زبان کی برتری کو کچھ اس طرح سے ہمارے اندر سرایت کر چکی ہے کے معاشرے میں شخصیات کی قدراب انگریزی کے بولنے پر کی جانے لگی ہے۔ جو اپنی گفتگو میں انگریزی زبان کو استعمال کرتا ہو اسے ہی پڑھا لکھا تصور کیا جاتا۔ اور یہ رویہ اس قدر شدید ہو چکا ہے ان پڑھ لوگ بھی لوگوں کی دیکھا دیکھی انگریزی زبان سکیھنے لگے ہیں اور اپنی گفتگو میں انگریزی الفاظ کے استعمال کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں اگر کسی کو متاثر کرنا ہے یا پڑھے لکھے ہونا کا ثبوت دینا ہو تو انگریزی زبان ایک بہترین ہتھیار بن چکا ہے۔ اب تو لوگ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو انگریزی زبان نہ صرف باقاعدہ سکیھاتے ہیں بلکے نئے نئے بولنے والے بچوں کے انگریزی بولنے پر نہ صرف یہ کے فخر کرتے ہیں بلکئےاپنے عزیزوں اور رشتے داروں میں خوب تشہیر کرتے ہیں اور انکے سامنے بچارے بچوں کو بار بار انگریزی زبان بولنے کو کہتے ہیں ۔ ۔
قومی زبان کے ساتھ اس طرح سے بھی ہو سکتا ہے یہ کبھی سوچا بھی نا تھا ۔ اردو زبان جسکی حفاظت کبھی مسلمانوں کے لیے اپنے ملی تشخص کی حفاظت کا درجہ رکھتی تھی اسکے ساتھ اسطرح کا رویہ بھی ہو سکتا ہے یہ ہمارے آباء کے وہم و گمان میں نہ ہوا گا۔ وہ اردو جسکی سارے جہاں میں دھوم مچ جانے کا جشن داغ نے یوں بنایا تھا
اردو ہے جسکا نام ہم جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے
مگر افسوس کے داغ کے اس شعر کا پہلا مصرعہ غیر ارادی اور نادانستہ طور پر ہر شخص کی زبان پر ہے اور خصوصاان لوگوں کی زبان پر جنہیں انگریزی زبان زیادہ محبوب ہے ،جو ثقافتی یلغار کے آگھے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں اور جو انگریزی کو تعلیم، جدت اور اپنی برتری اور کمال جانتے ہیں ان سے جب کبھی اردو کو زبان پر لانے کی استعدعا کی جائے تو انکا فوری جواب کچھ یوں ہی ہوتا ہے
"اردو ہے جسکا نام ہم جانتے ہیں" اور پھر زمانے کے ساتھ چلنے کا راگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج داغ اگر اردو کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک دیکھتے تو شاید اپنے دیوان سے اس شعر کو یہ سمجھ کر خذف کر دیتے کے جب اپنوں کو قدر نہیں تو غیروں میں دھوم کیوں کر مچے گی۔ اردو زبان کے ساتھ روارکھا جانے والے سلوک کے جتنے ذمے دار یہ ہمارے نام نہاد حکمران ہیں اتنے ہی ذمے دار ہم بھی ہیں ۔ اردو زبان کی بحالی ہماری آئینی، قانونی ذمے داری کے ساتھ ساتھ ہماری قومی اور ثقافتی ذمے داری بھی ہے جو کے ہم سالوں سے بھولے ہوئے ہیں اور جب قومیں احساس ذمے داری سے عاری ہو جاتی ہیں تو مشکل ہی زندہ رہتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *